انٹرنیٹ کی سست رفتاری اور بندش پرکمیٹی برہم،وزارت داخلہ اور قانون کے حکام طلب
جب تک ڈیجیٹل ہائی ویز نہیں بنائیں گے ،الٹے بھی لٹک جائیں انٹرنیٹ ٹھیک نہیں ہوگا،چیئرمین پی پی ٹی اے
کمیٹی نے ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس کی بحالی اور بہتری کی سفارش کردی
اسلام آباد (آن لائن )سینیٹ آئی ٹی کمیٹی ،چیرمین پی ٹی اے انٹرنیٹ بندش کے حوالے سے قانون سے لاعلم نکلے کہتے ہیں کہ مجے علم نہیں کہ انٹرنیٹ بندش خلاف قانون ہے اس معاملے پر وزارے قانون بہتر رائے دے سکتی ہے کمیٹی نے ملک میں انٹرنیٹ کی سست رفتاری اور بندش پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وزارت داخلہ اور وزارت قانون کے حکام کو طلب کر لیا ہے بدھ کو قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کا اجلاس چیرپرسن سینیٹر پلوشہ خان کی زیرصدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا اجلاس میں کمیٹی اراکین کے علاوہ سیکرٹری آئی ٹی چیرمین پی ٹی اے اور دیگر حکام نے شرکت کی اجلاس میں و زارت آئی ٹی اور پی ٹی اے کی انٹرنیٹ میں خلل کے حوالے سے بریفنگ دی گئی اس موقع پر چیرمین پی ٹی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ پی ٹی اے کو روزانہ سوشل میڈیا مواد کی 500 شکایات موصول ہوتی ہیں جس پر پی ٹی اے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو مواد بلاک کرنے کی درخواست کرتا ہے اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز 80 فیصد مواد بلاک کردیتے ہیں انہوں نے بتایا کہ سوشل میڈیا کمپنیاں 20 فیصد مواد کو بلاک نہیں کرتی ہیں اجلاس کے دوران رکن کمیٹی سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہاکہ یہ کہاں پر پاور ہے کہ کسی خاص علاقے میں انٹرنیٹ بلاک کرسکیں انہوں نے کہاکہ ایکٹ میں کہاں لکھا ہوا ہے کہ کسی خاص علاقے میں سگنل بلاک کرنا ہے جس پر ممبر لیگل آئی ٹی نے بتایا کہ ایکٹ میں واضح طور پر کسی خاص علاقے کا نہیں لکھا ہے صرف رولز میں لکھا ہے کہ وزارت داخلہ پی ٹی اے کو ہدایت دے سکتا ہے جس پر سینیٹر کامران مرتضی نے چیئرمین پی ٹی اے کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ اگر قانون میں نہیں لکھا تو آپ انٹرنیٹ کیسے بلاک کرسکتے ہیں جس پر چیرمین پی ٹی آے نے کہاکہ اگر یہ غلط ہے تو حکومت 9 سال سے ہم سے انٹرنیٹ کیوں بند کرواتی ہے انہوں نے کہاکہ میں تاریخ اور وقت بتا سکتا ہوں کہ کب کب انٹرنیٹ بند ہواتھا رکن کمیٹی سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہاکہ ہم حکومت نہیں ہم پارلیمان ہیں چیرمین پی ٹی اے نے کہاکہ آپ سب کبھی کبھی حکومت میں رہے رکن کمیٹی سینیٹر ہمایون مہمند نے کہاکہ رولز میں بھی صرف مواد کا ذکر موجود ہے اس موقع پر سپیشل سیکرٹری آئی ٹی نے کہاکہ گر حکومت کہے کہ کسی علاقے میں تمام آن لائن مواد کو بلاک کرنا ہے تو آن لائن مواد کو انٹرنیٹ بند کرکے ہی بند کیا جاتا ہے چیرمین پی ٹی آئی نے کہاکہ 2016 سے جب بھی وزارت داخلہ کا خط آتا ہے تو انٹرنیٹ بند کردیا جاتا ہے اور میرے آنے سے پہلے کہ پریکٹس چلتی رہی ہے انہوں نے کہاکہ آج پہلی بار پتہ چلا کہ انٹرنیٹ کی بندش غلط ہوتی ہے تاہم اس حوالے سے حتمی قانونی رائے وزارت قانون اور وزارت داخلہ ہی دے سکتی ہے انہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے حکم پر کئی بار سوشل میڈیا ایپس بند کی گئیں رکن کمیٹی نے استسفار کیاکہ 8 فروری کو الیکشن کے روز بھی انٹرنیٹ کی بندش غلط تھی چیرمین پی ٹی اے نے کہاکہ سپریم کورٹ کے حکم پر انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا اپلیکیشنز بند ہوتی ہیں اس موقع پر سیکرٹری آئی ٹی نے کہاکہ ر ولز بنے ہوئے کئی سال ہوگئے ہیں جس پر سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہاکہ کیا رولز ایکٹ سے آگے جاسکتے ہیں
انہوں نے کہاکہ اگر سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے تو کیا وزارت نے نظرثانی دائر کی رکن کمیٹی سینیٹر ہمایون مہمند نے کہاکہ کیا وزارت کا یہ کام نہیں کہ سپریم کورٹ کو بتائے کہ یہ چیز ایکٹ یا رولز میں نہیں ہے اس موقع پر چیرمین پی ٹی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ وی پی این کی بندش کے معاملے پر ہم نے اسٹینڈ لیا ہے اورمیں نے وی پی این کو بند نہیں ہونے دیا انہوں نے کہاکہ وی پی این سروس پروائیڈرز کی رجسٹریشن کا عمل 19 دسمبر کو شروع کیا گیا اوردو انٹرنیٹ سروس پروائیڈرز نے لائسنس کی درخواست دی ہے انہوں نے کہاکہ پی ٹی سی ایل کو ایک بڑی کمپنی نے وی پی این رجسٹریشن کیلئے اپلائی کیا ہے اور امید ہے کہ بڑی تعداد میں درخواستیں آئیں گی انہوں نے کہاکہ وی پی این سروس پروائیڈرز کے حوالے سے پاشا کے ساتھ مشاورت کی گئی اور پاشا سے درخواست کی ہے کہ دنیا کا کوئی ماڈل اٹھا کر لے آئیں قائمہ کمیٹی نے وزارت داخلہ اور وزارت قانون کے حکام کو طلب کرلیا اجلاس کو چیرمین پی ٹی اے نے بتایا کہ پاکستان میں 7 سب میرین کیبلز آرہی ہیں ان میں ایک سب میرین کیبل 2 افریقہ کے نام.سے آرہی ہے اس کیبل کے ساتھ کنیکٹوٹی اس سال ہوجائے گی انہوں نے کہاکہ چار مزید سب میرین کیبلز آئندہ سالوں میں منسلک ہورہی ہیں انہوں نے کہاکہ انٹرنیٹ سپیڈ کے لحاظ سے ہم 97 ویں نمبر پر ہیں چیرمین پی ٹی اے نے رکن کمیٹی کے استفسار پر کہاکہ سب میرین کیبل کو شارک نہیں کاٹ سکتی ہے اگر آپ کسی اور چیز کو شارک کہتے ہیں تو وہ الگ بات ہے چئیرمین پی ٹی ایرکن کمیٹی سینیٹر ہمایون مہمند نے کہاکہ پاکستان میں انٹرنیٹ کی رفتار انتی کم ہے کہ وائس نوٹ ڈاون لوڈ نہیں ہوتا ڈاون لوڈ سپیڈ ٹھیک ہے مگر ایپلی کیشنز نہیں چل رہی ہے اور وائس نوٹ بھی نہیں جا رہے ہیں اجلاس کے دوران چیرپرسن کمیٹی نے استفسار کیا کہ کل اڑان پاکستان منصوبہ لانچ کیا گیا، کیا اس میں آئی ٹی کا شعبہ بھی شامل ہے جس پر سیکرٹری آئی ٹی نے کہاکہ اڑان پاکستان پروگرام میں آئی ٹی کو شامل کیا گیا ہے اور گزشتہ کئی سالوں میں آئی ٹی برآمدات میں اضافہ ہوا ہے، ممبر وزارت آئی ٹی نے کہاکہ گزشتہ پانچ سالوں میں کمپاونڈ آئی ٹی گروتھ 23 فیصد ہی انہوں نے کہاکہ ہمیں سالانہ بنیادوں پر نہیں کمپاونڈ گروتھ بہتر بنانے کی ضرورت ہے
انہوں نے کہاکہ کورونا کے دوران آئی ٹی برآمدات کچھ متاثر ہوئیں جبکہ2023 کے 11 ماہ میں آئی ٹی برآمدات 2.4 بلین ڈالرز تھیں اور 2024 کے 11 ماہ آئی ٹی برآمدات 3.3 بلین ڈالرز ہیں انہوں نے کہاکہ آئی ٹی برآمدات میں گزشتہ سال کی نسبت 37 فیصد اضافہ ہوا ہے انہوں نے کہاکہ انٹرنیٹ کی سست رفتاری کے نقصان کا اندازہ لگانا مشکل ہے ابھی چار سب میرین کیبلز آرہی ہیں اس سے انٹرنیٹ بہتر ہوگا انہوں نے کہاکہ تین سب میرین کیبلز ایک سال میں کنیکٹ ہوجائیں گی سیکرٹری آئی ٹی نے کہاکہ فائبرآئزیشن پالیسی اور فائیو جی کے آنے سے انٹرنیٹ پر فرق پڑے گا رکن کمیٹی سینیٹر منظور کاکڑ نے کہاکہ بلوچستان اور خیبرپختونخواہ میں آئے روز مسئلہ ہوتا ہے انہوں نے کہاکہ موبائل فون پر ٹیکس کا پیغام آجاتا ہے جس پر چیرمین پی ٹی اے نے کہاکہ یہاں آنے سے پہلے مجھے لگتا تھا پی ٹی اے موبائل فون پر ٹیکس لیتا ہے انہوں نے کہاکہ بطور چیئرمین پی ٹی اے میں نے اپنی اہلیہ کا موبائل فون ٹیکس جمع کروایا ہے انہوں نے کہاکہ پی ٹی اے یہ ٹیکس نہیں لیتا بلکہ ایف بی آر لیتا ہے چیرپرسن کمیٹی نے کہاکہ موبائل فون پر بے تحاشہ ٹیکس کو عام آدمی کی پہنچ میں لانا چاہیے انہوں نے کہاکہ بلوچستان کے پورے پورے اضلاع انٹرنیٹ کی بندش سے متاثر ہیں جس پر چیرمین پی ٹی اے نے کہاکہ بلوچستان میں فائبر کنیکٹوٹی کا بھی مسئلہ ہے رکن کمیتی سینیٹر منظور کاکڑ نے کہاکہ ہم تو ٹاورز کیلئے درخواست دے دے کر تھک گئے سینیٹر ندیم بھٹو نے کہاکہ سندھ میں جہاں ٹاورز لگے ہیں وہاں بھی انٹرنیٹ سست ہے انہوں نے کہاکہ لاڑکانہ سندھ کا دوسرا شہر ہے لیکن انٹرنیٹ سروس سست ہے سیکرٹری اائی ٹی نے کمیٹی کو بتایا کہ خیبر پختونخواہ میں ضم اضلاع میں کنیکٹوٹی کی بہتری کیلئے 3 ارب خرچ کیے گئے انہوں نے کہاکہ یو ایس ایف کی جانب سے ایکس فاٹا میں منصوبے شروع کیے گئے ہیں اس موقع پر چیرمین پی ٹی اے نے کہاکہ جب تک ڈیجیٹل ہائی ویز نہیں بنائیں گے الٹے بھی لٹک جائیں انٹرنیٹ ٹھیک نہیں ہوگا انہوں نے کہاکہ فائبرآئزیشن حکومت کے کرنے کا کام ہے سیکرٹری آئی ٹی نے کہاکہ وزارت آئی ٹی نے رائیٹ آف وے کے تنازعات کو حل کیا ہے اب بہتری ہوگی جس پر رکن کمیٹی نے کہاکہ آپ فائیو جی لائیں نہ لائیں ہمیں 2023 والا انٹرنیٹ واپس چاہیے کمیٹی نے ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس کی بحالی اور بہتری کی سفارش کی ہے۔۔۔۔۔۔اعجاز خان
Comments are closed.