اسلام آباد ( آن لائن) وزیرا علی کے پی کے علی امین گنڈا پور نے نومئی پر ایک بار پھر جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ کرتے ہوے کہا ہے کہ معافی نہیں مانگیں گے ، حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات خوش آئند ہیں ۔ ملک سے ملکر دہشتگر دی کا خاتمہ کیا جائے گا ۔
نیشنل ایکشن پلان کی اپیکس کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوے انہوں نے اجلاس کو اہم قرار دیا اور کہا کہ ہشتگردی کے خاتمے کے لئے سب متفق ہیں ۔ انہوں نے کہا اجلاس کے دوران وزیراعظم نے خود ہی چھبیس نومبر کیا بات چھیڑی جس پر میں نے بھی کہا کہ اس روز ہمارے 58 افردا زخمی ہوئے اور تیر ہ شہید ہیں جبکہ 45 تاحال لاپتہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی جانب سے اس طرح کہ بات کرنا نامناسب ہے کہ گولی نہیں چلی۔
انھیں اس طرح کی باتوں سے اجتناب کرنا چاہیئے۔ اگر کوئی تحفظات ہیں تو بات کرنی چاہیئے۔ انہوں نے کہا اسحق ڈار کا کہنا تھا کہ ان معاملات مذاکراتی کمیٹی میں بات کریں گے۔ پاکستان ترجیح ہے اسکے لئے ملکر بات کریں۔ قومی سلامتی کے ادارے ملکر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا اجلاس میں افغانستان کے حوالے سے بھی بات ہوئی ہے۔ میں نے جرگے کی تجویز دی ہے ابھی کوشش ہوسکتی ہے۔ افغانستان کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے بھی آگاہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کرم کا مفصل طریقے سے معاہدہ کیا گیا ہے۔
جب سے عمران خان کی حکومت گئی تب سے دہشتگردی کی کارروائیاں بڑھی ہیں۔ غلط پالیسی ایسی چیزوں کو جنم دیتی ہے ۔ انہوں نے کہا بارڈر ایریا کہ ذمہ داری فوج اور وفا قی حکومت کی ہے۔ ضم اضلاع میں آپریشن کئے گئے کوئی فا ئدہ نہیں ہوا۔ نومئی پر کمیشن بنانا ہمارا مطالبہ ہے۔ انہوں نے انیس مجرموں کی رہائی اور سزا معافی خوش آئند ہے۔ معافی نہیں مانگیں گے سانحہ پر جوڈیشل کمیشن بنایا جائے۔ ہر جرم کی سزا ہے مجھے بتائیں کہ میں نے کیا کیا ہے۔ مجھ پر درجنوں پرچے ہیں مگر مجھے نہیں بتایا جارہا کہ قصور کیا ہے۔
Comments are closed.