طعنے دینے والا آج خود گھٹنوں کے بل جھک کر این آر او مانگ رہا ہے، عظمی بخاری

لاہور (آن لائن) صوبائی وزیر اطلاعات عظمی بخاری نے کہا کہ با نی پی ٹی آئی مکافات عمل کا شکار ہے ، دوسروں کو طعنے والا آج خود گھٹنوں کے بل جھک کر این آر او مانگ رہا ہے ۔ پاکستان کو عالمی سطح پر تنہائی کا شکار کرنے والوں کے خواب چکنا چور ہو چکے ۔ اب دوست ممالک کو بھی پتہ ہے ملک کے اندر فتنہ جماعت کون ہے ۔ ہفتہ کے روز پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عظمی بخاری نے کہا کہ جس طرح فائنل کال مس کال ثابت ہوئی بالکل اسی طرح فتنہ خان کی سول نافرمانی کی کال بھی بری طرح ناکام ہوئی ۔ انہوں نے دوست ممالک کے ر ہنماوں کے دوروں کے دوران احتجاج کی کال دیکر تعلقات خراب کر نے اور ملک کا امیج بگاڑنے کی کوشش کی تاہم اب دوست ممالک کو بھی پتہ چل چکا ہے کہ فتنہ خان کون ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ہر طرح سے ڈبونے کی کوشش کی انکے لئے شرم سے ڈو ب مرنے کا مقام ہے ۔ کہ انکی کال پر ترسیلات زر بند ہونے کے بجائے ان میں ریکارد اضافہ ہوا ہے ۔ اب یہ کہتے ہیں دو تین ماہ بعد اس کال کے اثرات آ ئیں گے ۔ یہ احمقوں کی دنیا میں رہتے ہیں ۔ انہوں نے دعوی کیا کہ چھبیس نومبر کے ا حتجاج سے پہلے پی ٹی آئی والوں نے دو ارب سے زائد روپے بانٹے پھر بھی ناکام لوٹے ۔ انہوں نے کہا ترسیلات زر کے حولے سے انکی کال ناکا م ہونے سے اوورسیز پاکستانیوں نے اس متھ کو بھی غلط ثابت کر دیا کہ عمران خان کو باہر بیٹھے لوگوں کی بھر پور حمائت حاصل ہے ۔ انہوں نے کہا وزیر اعلی مریم نواز دن رات عوامی فلاح کو کاموں میں مصروف ہیں ۔ ہر روز ایک نئے پراجیکٹ کی لاونچنگ ہو رہی ہوتی ہے ۔ طلبا مین سکالر شپس تقسیم کی جارہی ہیں ۔ مویشی پال سکیم کا اجرا ہوا ۔

میری چیف منسٹر پروگرام اس وقت لاونچ کرتی ہیں جب اس کے ثمرات عاوام تک پہنچنا شروع ہو جاتے ہیں ۔ وہ سکالر شپ اپنے ہاتھوں طلبا کو دیکر آتی ہیں ۔ اگلے سال ان کا مشن سکالر شپس کی تعداد ایک لاکھ تک کرنا ہے ۔ انہوں نے کا لائیو سٹاک سکیم کے اجرا کا مقصد خلیجی ممالک کو پاکستان سے معیاری گوشت برآمد کرنا ہے ۔ اس کے لئے گیارہ ارب کا بجٹ رکھا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا لیپ ٹاپ سک سکیم کا بھی جلد اجرا کیا جائے گا ۔ انڈے ، کٹے مرغیاں اور لنگرشپ سب ڈرامہ تھا ۔ اس کا عوام کو تو کوئی فائد ہ نہ ہوا ۔ انہوں نے کہا ہماری وزیر اعلی دوسری حکومتوں کے پروجیکٹ بھی بند کرنے کے بجائے انھیں بہر انداز سے آگے بڑھا رہی ہیں ۔ انہوں نے کہا میرٹ کی بنیاد پر لیپ ٹاپس دئیے جائیں گے ۔ کسی پروگرام کے اندر سفارش کی کوئی گنجائش نہیں ۔ تعوذ گنڈوں والی حکومت میں پاکستان ہر سطح پر پیچھے جا رہا تھا ۔ تاہم انکی ملک کو سفارتی سطح پر تنہا کرنے کی کوشش بھی بری طرح نا کام ہوئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دوسروں کو این آر او طعنے دینے اور این آر او نہ دینے کی باتیں کرنے والا آج خود گھٹنوں کے بل جھک کر این آر او مانگ رہا ہے ۔ پہلے کہتے تھے ہم ان سے مذاکرات نہیں کریں گے ۔ پھر شرائط رکھیں تحر یری مطالبات نہ دینے کا کہا پھر کہا مجھ سے ملے بغیر مذاکرات نہ کریں اب کہتا ہے کہ مجھ سے بھہی نہ ملو بس مذاکرات کرو اور این آر او لے لو ۔ اب تو اس کے گھر والے بھی اس سے ملنے نہیں جاتے ۔ دوسرون کے لئے اے سی بند کروانے کی باتیں کرنے والا آج خود مکافات عمل شکار ہے ۔ انہوں نے کہا قوم کے بچوں کو یہ اپنے اقتدار کے لئے استعمال کر رہے ہیں اور خو د ان کے بچے لندن میں بیٹھے عیاشی کر ر ہے ہیں ۔ انقلاب لانے کی جو ناکام کوشش کی گئی قوم کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑا ۔ انہوں نے کے پی حکومت کو نشانے پر لیتے ہوے کہا کے پی کے میں نہ سکول نہ ہسپتال ، لوگ ابھی بھی ڈولیوں پر لٹک کر سفر کرتے ہیں ۔

انکی کابینہ کا حجم تئیس فیصد ہے عوام کے ٹیکس ا پنے وزرا کی عیاشیوں کے لئے استعما ل کر رہے ہیں ۔ اپنی چھت، مفت ادویات ، سکالر شپس جیسے پروگرام انکی فہرست سے باہر ہیں ۔ مال مفت دل بے رحم گنڈا پور اور اسکی کابینہ کرپشن میں ملوث ہیں ۔ ہمیں کے پی کے عوام کے ساتھ دلی ہمدردی ہے جو بارہ سال سے ایک نالائق اور نا اہل حکومت کے زیر تسلط ہیں ۔ انکا وزیراعلی بس اس بات کی فکر رکھتا ہے ہے کہ اڈ یالہ میں بیٹھے شخص کو بھنا ہوا گوشت، ٹی وی، جم چاکلیٹس ملی یا نہیں ۔

Comments are closed.