حکومت کا اپنی مدت پوری کرنا نہ کرنا الگ اور جائز یا ناجائز ہونا دو مختلف معاملات ہیں، مو لانا فضل الرحمان
کراچی ٰ ( آن لائن) جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ حکومت کا اپنی مدت پوری کرنا نہ کرنا الگ اور جائز یا ناجائز ہونا دو مختلف معاملات ہیں، اصل سوال الیکشن کی شفافیت کا ہے ۔ سیاستدانوں سے شکوہ ہے کہ جمہوریت پر سمجھوتہ کرتے ہیں اور نظام کسی اور کے حوالے کرتے ہیں۔ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے مذاکرات میں ہمیں اعتماد میں نہیں لیا، اس لیے نہیں معلوم کہ کیا ہورہا ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ملکی معیشت میں بہتری ہماری آرزو ہے۔ کہا جارہا ہے کہ معیشت کے اشاریے بہتر ہوئے ہیں مگر صرف اشاریوں کے بہتر ہونے سے کام نہیں چلتا۔حکومت پر تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حکومت کا اپنی مدت پوری کرنا نہ کرنا الگ اور جائز یا ناجائز ہونا الگ بات ہے
، اصل بات یہ ہے کہ کیا الیکشن صحیح ہوئے ہیں اور عوام کا مینڈیٹ ان کے پاس ہے یا نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں ایک صوبائی حلقے کو نادرا نے کھولا اور کہا کہ ہم صرف 2 فیصد ووٹ کی تصدیق کرسکیں۔ 98ویں فیصد کا ہمیں نہیں پتہ کہ کہاں سے آیا ہے، اسی طرح بلوچستان کے حلقہ پی بی۔45 میں جیتنے والا امیدوار فارم 45 کے مطابق ایک پولنگ اسٹیشن سے بھی نہیں جیتا ہے۔انہوں نے سیاستدانوں سے شکوہ کرتے ہوے کہا کہ کیوں کہ وہ جمہوریت پر سمجھوتہ کرتے ہیں اور نظام کسی اور کے حوالے کرتے ہیں، اس پر ہم اپنے موقف پر قائم ہیں اور ہمارا اعتراض موجود ہے۔ اس طرح کے ناجائز اطوار پر ہم ان کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار نہیں ہیں۔محسن نقوی سے حالیہ ملاقاتوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وہ ذاتی طور پر ملنے آجاتے ہیں
، سیاسی گفتگو کا نہ ان کے پاس مینڈیٹ ہے نہ ہم سیاسی بات کرسکتے ہیں۔مدرسہ رجسٹریشن بل کے بارے میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ یہ مسئلہ وفاق میں حل ہوچکا ہے، صوبائی حکومتیں کیوں تاخیر کرر ہی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ صوبے بھی من و عن اس پر عمل درآمد یقینی بنائیں۔
Comments are closed.