کمیٹی سے پہلے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی اڈیالا جیل میں بانی پی ٹی آئی سے علیحدہ ملاقات
مزاکراتی کمیٹی کا پورا اختیار عمر ایوب کے پاس ہے‘کوئی بھی رکن بات کر سکتا ہے
نو مئی اور 26 نومبرکا دوسرا فریق ذمہ دار ہے۔اسکا بہترین طریقہ یہ ہے کہ غیر جانبدار کمیشن بنایا جائے‘سینئر جج سربراہ مقرر کیا جائے
ہم نے کنٹرولڈ ملاقات اس لئے کی کیونکہ ہم پاکستان کی بات کررہے ہیں‘کوئی پیشرفت ہوئی تو بانی کو بتادیں گے
عمر ایوب، اسد قیصر، صاحبزادہ حامد رضا، علامہ راجہ ناصر عباس کی ملاقات کے بعد بات چیت
راولپنڈی (آن لائن)پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی مذاکراتی کمیٹی کے 5 اراکین کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات ہوئی۔ مذاکراتی کمیٹی سے پہلے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے اڈیالا جیل میں بانی پی ٹی آئی سے علیحدہ ملاقات کی ۔بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرنیوالوں میں علی امین گنڈاپور، اسد قیصر، عمر ایوب، صاحبزادہ حامد رضا اور علامہ راجہ ناصر عباس شامل تھے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ صرف پی ٹی آئی کی مذاکراتی کمیٹی کے ارکان کو بانی سے ملاقات کی اجازت دی گئی ہے۔ترجمان قومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ ایاز صادق کا پیغام ملنے کے بعد حکومت نے ملاقات کا انتظام کیا، حکومت اور پی ٹی آئی کی مذاکراتی کمیٹیوں کے مذاکرات کا اگلا دور کل یا منگل ہوسکتا ہے۔ ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے عمر ایوب، اسد قیصر، صاحبزادہ حامد رضا، علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ القادر فیصلہ سنانے سے ہمارے رویوں میں تلخی آسکتی ہے۔بانی پی ٹی آئی نے کہا ہے فیصلہ سنانے کے باوجود مزاکرات جاری رہیں گے۔
ہماری کمیٹی کا کوئی بھی رکن مذاکرات پر بات کرسکتا ہے۔مزاکراتی کمیٹی کا پورا اختیار عمر ایوب کے پاس ہے۔صاحبزادہ حامد رضانے کہا کہ آج بانی پی ٹی آئی سے تفصیلی لیکن کنٹرولڈ ملاقات ہوئی۔بانی پی ٹی آئی نے کچھ ہدایات جاری کی ہیں۔گزشتہ رات دیر سے ملاقات بارے آگاہ کیا گیا۔بانی نے کہا نو مئی اور 26 نومبرکا دوسرا فریق ذمہ دار ہے۔اسکا بہترین طریقہ یہ ہے کہ غیر جانبدار کمیشن بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ ہم اپنی مرضی کا جج نہیں چاہتے۔ہم چاہتے ہیں سپریم کورٹ کا سینئر جج کمیشن کا سربراہ مقرر کیا جائے۔ہم آج دوسرے فریق کو آگاہ کریں گے ہم تیسرے دور کیلئے تیار ہیں۔حامد رضا نے کہا کہ مذاکرات میں ابھی تک کسی قسم کی پیش رفت نہیں ہوئی۔ہم جوڈیشل کمیشن پر بات چیت چاہتے ہیں۔
ہمارے صرف دو مطالبات ہیں۔اسیران کی رہائی مطالبات کا مرکزی نقطہ ہے۔حکومت کو اب عملی اقدامات کیلئے جوڈیشل کمیشن بنانا چاہیے۔ہمارے معقول مطالبات ہیں قابل عمل مطالبات ہیں۔اگر حکومت سمجھتی ہے ہم ذمہ دار ہیں تو اسکا بہترین طریقہ جوڈیشل کمیشن ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے اسیران کو ٹارچر کا نشانہ بنایا گیا ہم اس حوالے سے عالمی فورمز جائینگے۔ہم نے جتنی لچک دکھانی تھی دکھائی۔ ہم نے کنٹرولڈ ملاقات اس لئے کی کیونکہ ہم پاکستان کی بات کررہے ہیں۔ 31 جنوری کی ڈیڈ لائن میں بانی پی ٹی آئی ہی توسیع کرسکتے ہیں۔اگر کوئی پیش رفت ہوئی تو ہم بانی پی ٹی آئی تک پہنچا دینگے۔
Comments are closed.