بانی پی ٹی آئی کی بہنوں سمیت پارٹی لیڈرو کارکنان بھی موجود تھے اس کے باوجود بھی فیصلہ نہیں دیا گیا‘شبلی فراز
جو رقم سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں آئی تھی اس میں پی ٹی آئی کی کابینہ یا وزیر اعظم کا کوئی کردار نہیں تھا‘سلمان اکرم راجہ
ہمیں 11بجے کی اطلاع تھی یہ بات سمجھ نہیں آئی کہ جج صاحب 8بجے اڈیالہ جیل کیوں پہنچ گئے تھے‘ہنگامی پریس کانفرنس
اسلام آباد(آن لائن) پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں نے القادر ٹرسٹ کیس کا فیصلہ نہ سنائے جانے پر مایوسی کااظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت القادر ٹرسٹ کیس کا جھوٹا بیانہ بنانے کی کوشش کر رہی ہے‘ اس مقدمے کو پاکستان کے عوام،عدالتوں اور عالمی دنیا کے سامنے رکھیں گے اور امید ہے کہ عدالتوں سے انصاف ملے گا۔سوموار کو اسلام آباد میں ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی کے سیکرٹری جنرل عمر ایوب خان نے کہاکہ القادر ٹرسٹ جیسا بھونڈا کیس کوئی اور نہیں ہے اور ہم اس کی شدید مذمت کرتے ہیں انہوں نے کہاکہ خواجہ آصف اور فیصل واؤڈا جیسے لوگ کل سے شروع ہوگئے تھے کہ یہ فیصلہ آئے گا ان کی حیثیت کیا ہے کیا حکومت کو فیصلے کی تحریر کسی اور جگہ سے پہنچی ہے انہوں نے کہاکہ فارم 47کی نااہل حکومت نے ابھی تک پی ایس ڈی پی کا 10فیصد رقم بھی ریلیز نہیں کی ہے اس وقت ملک میں ترقیاتی کام نہیں ہورہا ہے یہ وفاقی کابینہ کا حال ہے انہوں نے کہاکہ ایک جانب پاکستان آئی ایم ایف پروگرام کے نیچے ہے مگر ایف بی آر نے 1ہزار سے زائد ہنڈا سٹی گاڑیاں خریدی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ایس آئی ایف سی کی حالت دیکھ لیں کوئی سرمایہ کاری ملک میں نہیں ہورہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ملک کے بڑے کارخانے بند ہیں ملک میں انٹرنیٹ کی صورتحال ابتر ہے کیا سمندر میں شارک مچھلیوں کو صرف پاکستان کا کیبل نظر آتا ہے‘ ملک میں سنسر شپ ہورہی ہے ملک سے باہر پیسہ جارہا ہے 2ملین لوگ ملک سے باہر جاچکے ہیں اور گذشتہ دو سالوں میں مائیگریشن کے زریعے ملک سے 14ارب ڈالر چلے گئے ہیں۔ اس موقع پر سینیٹر شبلی فراز نے کہاکہ بانی پی ٹی آئی کی بہنوں سمیت پارٹی کے لیڈر اور کارکنان بھی موجود تھے تاہم اس کے باوجود بھی فیصلہ نہیں دیا گیا۔
اس موقع پر سینیٹر شبلی فراز نے کہاکہ آئین کے مطابق سینیٹر اعجاز چوہدری کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کیلئے کئی بار لکھا ہے اور حالیہ سیشن کیلئے بھی پرڈوکشن آرڈر جاری کرنے کا مطالبہ کیا گیا اور ہمیں پتہ چلا ہے کہ پروڈکشن آرڈر جاری کردئیے گئے ہیں۔ سینیٹر شبلی فراز نے کہاکہ القادر ٹرسٹ کے فیصلے کے بار ے میں کہا جارہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی اس کے خاندان اور ووکلا موجود نہیں تھے یہ تاثر درست نہیں ہے بانی پی ٹی آئی تو جیل حکام کے حراست میں ہیں اور ماضی میں ایسے فیصلے بھی ہوئے ہیں جب بانی پی ٹی آئی موجود ہی نہیں تھے اور فیصلہ کر دیا گیا اس موقع پر سلمان اکرم راجہ نے کہاکہ حکومت کی جانب سے بہت بڑی غلط فہمی پھیلائی گئی ہے کہ اس مقدمے میں ایک بڑی رقم پی ٹی آئی کی کابینہ نے انہوں نے کہاکہ جان بوجھ کر یہ غلط فہمی پھیلائی گئی ہے انہوں نے کہاکہ جو رقم سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں آئی تھی اس میں پی ٹی آئی کی کابینہ یا وزیر اعظم کا کوئی کردار نہیں تھا
انہوں نے کہاکہ برطانیہ میں ایک پراپرٹی حسن نواز سے ملک ریاض نے خریدی تھی اور اس کی تفتیش شروع ہوئی جس میں یہ رقوم نیشنل کرائم ایجنسی کی نظر میں آئی انہوں نے ملک ریاض کے ساتھ معاہدہ کیا جس کے نتیجے میں کہا گیا کہ یہ خاندان یہ رقم پاکستان واپس لے جائیں اور یہ رقم ریاست پاکستان کی رقم نہیں تھی اور ملک ریاض کے اپنے دستخطوں سے پاکستان لائے تھے انہوں نے کہاکہ اس مسئلے میں سابقہ کابینہ نے کوئی مداخت نہیں کی تھی اس حوالے سے این ایس اے کی جانب سے حکومت پاکستان کو خط لکھا گیا کہ اس کو خفیہ رکھا جائے تاہم اس بات کو اٹھا کر ایک پوری کہانی بنائی گئی کہ جو رقم حکومت پاکستان کی تھی وہ ملک ریاض کو دی گئی اور اس سے زمین لی گئی انہوں نے کہاکہ اس زمین کے حوالے سے بھی ایک داستان ہے جو کہ ہوشربا ہے انہوں نے کہاکہ ان تمام معاملات کو پس پشت ڈال کر کہاگیا کہ پاکستان کی رقم ملک ریاض کو دی گئی انہوں نے کہاکہ یہ سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں تھی اور اس سے ایک پیسہ بھی نہیں نکلا ہے اور اس وقت حکومت پاکستان کے خزانے میں ہے انہوں نے کہاکہ یہ بات بالکل واضح ہوگئی ہے کہ ریاست پاکستان کو اس معاملے میں ایک پیسے کا نقصان نہیں بلکہ فائدہ ہوا ہے انہوں نے کہاکہ اس رقم سے بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو ایک پیسے کا فائدہ نہیں پہنچا ہے انہوں نے کہاکہ کیا کینسر ہسپتال کو ملنے والی رقم بانی پی ٹی آئی کے اکاؤنٹ میں جاتی ہے انہوں نے کبھی بھی کوئی پیسہ اپنے زات کیلئے استعمال نہیں کیا ہے یہ یونیورسٹی سیرت نبی کے حوالے سے بنی ہے اور اس وقت بھی چل رہی ہے انہوں نے کہاکہ اسی وجہ سے فیصلہ لکھنے میں ان کو دشواری پیش آرہی ہے انہوں نے کہاکہ جب یہ فیصلہ آئے گا تاہم حکومت یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہی ہے کہ کوئی ڈیل ہورہی ہے ایسا کچھ بھی نہیں ہے جب بھی یہ فیصلہ آئے گا
اس کو عوام،پوری دنیا اور عدالتوں کے سامنے رکھیں گے انہوں نے کہاکہ ماضی میں بھی تمام مقدمات اڑ گئے تھے اور یہ بھی اڑ جائے گا انہوں نے کہاکہ ہم میڈیا کے زریعے اپنا پیغام پاکستان کے عوام تک پہنچاتے رہیں گے ایک سوال کے جواب میں سلمان اکرم راجہ نے کہاکہ اس سارے معاملے میں بانی پی ٹی آئی اور وفاقی کابینہ کا کوئی عمل دخل نہیں تھا اور یہ غلط تاثر دیا جارہاہے یہ سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں براہ راست برطانیہ سے آئے تھے انہوں نے کہاکہ ایک جھوٹا بیانیہ بنایا گیا ہے وفاقی کابینہ میں وہ معاہدہ لایا گیا جو ملک ریاض اور نیشنل کرائم ایجنسی کے مابین تھا اور انہوں نے درخواست کی تھی کہ اس کو نہ کھولا جائے انہوں نے کہاکہ جو بیانیہ بنایا گیا اور وہ جھوٹ پر مبنی تھا اور اب ان کو فیصلہ لکھنے میں دشواری پیش آرہی ہے اس موقع پر پارٹی کے سیکرٹری جنرل عمر ایوب خان نے کہاکہ کل بھی بانی پی ٹی آئی نے واضح طور پر کہہ دیا تھا کہ مذاکرات کو تیسرا دور کرلیں اور جو مطالبات ہیں وہ تحریری طور پر دیدیں اور اس حوالے سے 31جنوری کی ڈیڈ لائن ہے اگر ہمارے مطالبات تسلیم کر لئے گئے تو ٹھیک ورنہ مذاکرات کا چوتھا راؤنڈ نہیں ہوگا انہوں نے کہاکہ ہم حکومت کو یہ باؤر کرانا چاہتے ہیں کہ وہ ہمارے مطالبات کے حوالے سے تیار کر لیں ہم 9مئی اور 26نومبر کے حوالے سے ایک ازاد کمیشن کا مطالبہ کرتے ہیں انہوں نے کہاکہ ہم 10بجے آڈیالہ جیل کے باہر موجود تھے اور ہمیں 11بجے کی اطلاع تھی یہ بات سمجھ نہیں آئی کہ جج صاحب 8بجے اڈیالہ جیل کیوں پہنچ گئے تھے انہوں نے کہاکہ اب 17جنوری کو دیکھیں گے۔۔۔۔۔اعجاز خان
Comments are closed.