سپریم کورٹ کا ہر جج آزاد ہے، ہر جج کیس کو اپنے انداز سے بھیجتا ہے،ججز کو بریکٹ نہیں کیا جانا چاہیے،چیف جسٹس

ججز آپس میں بھائی ہیں،وقت کے ساتھ چیزیں ٹھیک ہوں گی،اپنی رائے کسی ساتھی دوست پر مسلط نہیں کرتا،مشترکہ دانش کے ساتھ آگے چلنا چاہیے‘سپریم کورٹ پریس ایسوسی ایشن کے ممبران سے ملاقات میں گفتگو

اسلام آباد(آن لائن)چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہاہے کہ سپریم کورٹ کا ہر جج آزاد ہے، ہر جج کیس کو اپنے انداز سے بھیجتا ہے،ججز کو بریکٹ نہیں کیا جانا چاہیے،ججز پر تنقید ہونی چاہئے لیکن تعمیری تنقید ہو، سپریم کورٹ میں ریفارمز کے حوالے سے بہت سے اقدامات اٹھائے جا چکے ہیں،ہائیکورٹ کی اتھارٹی کا بہت احترام ہے۔انھوں نے ان خیالات کااظہار سپریم کورٹ پریس ایسوسی ایشن کے ممبران سے ملاقات کے دوران کیاہے جنھوں نے پیر کوان سے ملاقات کی ۔چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ ہم سب ججز آپس میں بھائی ہیں،وقت کے ساتھ ساتھ چیزیں ٹھیک ہوں گی،اپنی رائے کسی ساتھی دوست پر مسلط نہیں کرتا،میری رائے ہے مشترکہ دانش کے ساتھ آگے چلنا چاہیے۔ملاقات کرنے والوں میں سپریم کورٹ بیٹ کرنے والے سینئرصحافیوں میں عقیل افضل، ناصراقبال، اخترصدیقی، عبدالقیوم صدیقی سمیت دیگرصحافی شامل تھے۔ چیف جسٹس یحیٰی آفریدی نے کہاکہ ضلعی عدلیہ ہائیکورٹ کے ماتحت ہے،براہ راست ہائیکورٹ کی اتھارٹی یا ماتحت عدلیہ میں مداخلت نہیں ہو گی،سپریم کورٹ ایک ٹائٹینک ہے اس کو اچانک تبدیل نہیں کر سکتے، سپریم کورٹ کی سمت کو تبدیل کر کے انصاف کی فراہمی بہتر کی جا سکتی ہے، میرا ویژن یہ ہے کہ سپریم کورٹ میں کیس فائل ہو تو سائل کا ای میل ایڈریس اور واٹس ایپ نمبر لیا جائے،سائل کا واٹس ایپ اور ای میل لینے سے اس کو کیس کی فائلنگ سے لے کر فیصلہ تک تمام آرڈرز ملتے رہیں گے، ارجنٹ درخواستوں کی سماعت کا میکنزم بھی بنا رہے ہیں،ہمارے ججز نے 8 ہزار کیسز مختصر وقت میں نمٹائے ہیں،کیس مینجمنٹ بہتر کرنے سے انضاف کی فراہمی میں بہتری لائی جا سکتی یے

، انتخابی عذرداریوں کو سننے کے لیے اسپیشل بینچز بنائے جا چکے ہیں، فوجداری اور ٹیکس کے مقدمات لیے بھی اسپیشل بینچز کام کریں گے، گوادر اور کوئٹہ کے دورے پر لاپتہ افراد کے کیسز نے ہلا کر رکھ دیا،لاپتہ افراد کے کیسز کو ٹیک اپ کیا جائے گا، بلوچی اور سندھی کا بھی خیال رکھنا چاہیے،سندھی اور بلوچی ججز کی اکنالیجنمٹ ہونی چاہیے،مستحق سائلین کو ڈسٹرکٹ جوڈیشری میں مفت وکیل کی سہولت دیں گے، جیلوں کے دوروں میں قیدیوں نے سال ہسال کیسز کے فیصلے نا ہونے کی شکایت کی،قیدیوں کی اس شکایت پر میں بہت شرمندہ ہوا،سپریم کورٹ میں روزانہ پرانے دو تین کیسز کو اسپیشل بینچز میں سنا جائے گا،سپریم جوڈیشل کونسل کو متحرک کر دیا ہے،سپریم جوڈیشل کونسل میں ججز کے خلاف شکایات پر کاروائی چل رہی ہے،اے ڈی آر پر جسٹس منصور علی شاہ نے بہت کام کیا ہے، جسٹس منصور علی شاہ کو اے ڈی آر پر کام پر سلام پیش کرتا ہوں، اے ڈی آر کے نظام کے لیے فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی میں ریٹائرڈ ججز کو ٹرین کیا جائے گا، اے ڈی آر کا نظام کا آغاز اسلام آباد سے کیا جائے گا، اے ڈی آر کے نظام کو اسلام آباد کے بعد باقی اضلاع تک لے جایاجائیگا۔ہم سب ججز آپس میں بھائی ہیں،وقت کے ساتھ ساتھ چیزیں ٹھیک ہوں گی،اپنی رائے کسی ساتھی دوست پر مسلط نہیں کرتا،میری رائے ہے مشترکہ وزڈم کے ساتھ آگے چلنا چاہیے، عدلیہ کے لئے گزشتہ تین چار سال مقدمات کی وجہ سے بڑے سخت تھے،وہ وقت گزر گیا جب ججز نے ایک دوسرے کے خلاف پوزیشن لی ہوئی تھی،ججز کسی الزام پر جواب نہیں دے سکتے،انھوں نے کہاکہ عدلیہ غریب سائلین کی مددکے لیے کوشاں ہے انھوں نے کہاکہ ہم چاہتے ہیں کہ صوبائی اورضلعی عدلیہ میں سائلیں کووکلائکی فراہمی لائاینڈجسٹس کمیشن کرے جبکہ سپریم کورٹ آنے والے غریب سائلین کے لیے ہم مددکریں گے۔انھوں نے کہاکہ ہمینں ایک دوسرے کااحترام کرتے ہوئے آگے بڑھناہے ججزاضافی ورک کررہے ہیں اورخود سے کررہے ہیں ضلعی عدلیہ کی تربیت کے لیے کام کررہے ہیں جسٹس منصورعلی شاہ نے اس بارے بہت کام کیاہے ہم اب سنگاپوروالاکام اپنی جوڈیشل اکیڈمی سے لیں گے،

انھوں نے کہاکہ ججزکے ساتھ بیٹھ رہاہوں وکلائبرادری کوبھی آن بورڈلے رہاہوں کیوں کہ ان کے بغیر ہم کچھ بھی نہیں کرسکتے ہیں سپریم کورٹ بارکے متنخب دونوں دھڑوں کوساتھ لے کرچل رہاہوں اب سے کہاہواہے کہ کوئی بھی اکیلاملاقات نے کرے بلکہ ساتھ ملیں،انھوں نے کہاکہ مقدمات کوجلدنمٹانے خاص طورپر فوجداری مقدمات کونمٹانے کے لیے کام کررہے ہیں،ججزلاناہیں پھر ہم اس بارے خصوصی بنچزبنائیں گے الیکشن معاملات پر بھی دوبنچ بنارہے ہیں ٹیکس معاملات کوبھی ایف بی آراور چارٹراکا?نٹنٹ کے ذریعے جائزہ لے رہے ہیں۔ریفارمزکے لیے بھی کمیٹیاں بنادی ہیں،انھوں نے کہاکہ ضلعی عدلیہ اعلیٰ عدلیہ کاچہرہ ہے اس کو بہترکرنے کی کوشش کررہے ہیں،انھوں نے کہاکہ ہم جوبھی پالیسی بنائیں گے ہائی کورٹس سے مشاورت کے ساتھ بنائیں گے۔انھوں نے کہاکہ ہم نظام بنارہے ہیں کہ درخواست کے فائل ہونے سے فیصلہ تک تمام ترمراحل سے درخواست گزار آگاہ رہیں جوبھی سماعت ہوگی اس کاجوبھی فیصلہ ہوگاوہ بھی ساتھ ساتھ بھجوایاجائیگا۔فوری درخواستوں کی سماعت کابھی جائزہ لے رہے ہیں تاکہ ان کوساتھ ساتھ سماعت کے لیے مقررکیاجاسکے انھوں نے کہاکہ سپریم جوڈیشل کونسل میں جھوٹی اور بناشواہدکے آنے والی درخواستوں پربھجوانے والوں کے خلاف کارروائی کی جائیگی۔انھوں نے کہاکہ بہت ایشوزہیں مگرمیں چاہتاہوں ججزسانس لے سکیں وہ جتناپرسکون ہوں گے اتنے ہی فیصلے کرنے میں انھیں آسانی ہوگی،انھوں نے کہاکہ سندھی اور بلوچی زبانیں بولنے والے ججزکوبھی لائیں گے،مین نے مختلف علاقوں میں دوروں کے دوران ججزکویقین دہانی کرائی ہے کہ آپ کوکچھ بھی ہوگاتوان کے معاملات کوسپریم کورٹ دیکھے گی،بہت پرانے مقدمات کوبھی سماعت کے لیے مقررکرین گے ان کے لیے بھی ایک جج کوذمہ داری سونپی ہے وہ ان کومقدمات کوساڑھے گیارہ بجے کے بعدسماعت کرکے نمٹائیں گے فوجداری مقدمات کوسماعت کے لیے مقررکررہے ہیں۔

Comments are closed.