اڈیالہ جیل میں جی ایچ کیو حملہ کیس کا باقاعدہ ٹرائل شروع‘استغاثہ کے 4 چشم دیدگواہان نے بیان ریکارڈ کروا دیا
راولپنڈی (آن لائن)اڈیالہ جیل میں جی ایچ کیو حملہ کیس کا باقاعدہ ٹرائل شروع ہوگیا۔استغاثہ کے 4 چشم دیدگواہان نے عدالت میں بیان ریکارڈ کروا دیاگواہان میں راولپنڈی پولیس کے اے ایس آئی ثاقب،کانسٹیبل شکیل،سجاد اور یاسر شامل ہیں۔گواہان نے ملزمان سے برآمد ہونے والے اہم ثبوت عدالت پیش کر دیئے۔گواہان نے ملزمان سے برآمد اینٹی رائٹ فورس سے چھینا گیا ہیلمٹ اورپٹرول بم عدالت پیش کر دیا ۔شواہد میں شہداء کے مجسموں کے برآمد ٹکڑے،موبائل فون بھی عدالت پیش کر دیئے گئے ۔ملزمان سے برآمد کیے گئے ڈنڈے،جھنڈے،پی ٹی آئی کی ٹوپیاں،تاریں،ماچس،تاریں بھی عدالت پیش کی گئیں۔ملزم سے برآمد موبائل فون، عدالت میں پیش کرنے کے دوران آن نکلا۔گواہان نے شہادت ریکارڈ کرانے کے دوران کمرہ عدالت میں موجود راجہ بشارت سمیت کئی ملزمان کی نشاندہی بھی کی۔
پہلے چشم دید گواہ نے عدالت میں بیان دیتے ہوئے بتایا کہ راجہ بشارت نے جی ایچ کیو کے باہر احتجاج کو لیڈ کیا،راجہ بشارت مظاہرین کو اکساتے رہے بانی کی گرفتاری کا بدلہ فوج سے لینا ہے،دوران سماعت کمرہ عدالت ملزمان،وکلاء،پراسیکیوشن اور میڈیا نمائندوں سے کھچا کھچ بھرا رہا۔سماعت کے دوران وکلا صفائی اور پراسیکیوشن ٹیم کے مابین سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔کمرہ عدالت میں موجود ملزمان کے شوہر کے باعث عدالت نے ساؤنڈ سسٹم کا استعمال کیا،ملزمان کو وارننگ دی۔گواہان کی شہادت بھی ساؤنڈ سسٹم کے ذریعے ریکارڈ کی گئی۔گواہان کی شہادت ریکارڈ ہونے کے دوران بانی پی ٹی آئی کمرہ عدالت میں موجود رہے۔آئندہ سماعت پر عدالت نے استغاثہ کے پانچ مزید گواہ طلب کر لیے ۔جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت ہفتہ 18 جنوری تک ملتوی کر دی گئی ۔کیس کی سماعت انسداد دہشت گردی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے اڈیالہ جیل میں کی۔
Comments are closed.