تحریری مطالبات ملنے کے بعد بال ہمارے کورٹ میں آجائے گی ، سینیٹر عرفان صدیقی

اسلام آباد (آن لائن) سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے جوڈیشل کمیشن بنانے کے مطالبے کو زیر غور لائے جانے کا عندیہ دیتے ہوے کہا ہے کہ اگر آج وہ مطالبات تحریری طور پر د ے دیتے ہیں تو پھر بال ہمارے کورٹ میں ہوگی ۔ ا تحادیوں اور قیادت کی مشاورت سے جواب دیں گے ، ایک سو نوے ملین پاونڈ اور مذاکرات کو آپس میں کوئی تعلق نہیں ۔ پارلیمنٹ ہاوس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوے انہوں نے کہا پی ٹی آئی تحریری مطالبات دینے کے لئے آمادہ ہے ، بانی پی ٹی آئی نے بھی انھیں مطالبات تحریری طور پر دینے کی ا جازت دے دی ہے ۔

آج وہ مطالبات تحریری شکل میں دے دیتے ہیں تو اس کے بعد بال پھر ہمارے کورٹ میں ہو گی ۔ ہم اتحادیوں سے مشاورت کریں اپنی لیڈرشپ سے بھی مطالبات پر بات چیت کریں گے اور اس کے بعد حتمی جواب کے ساتھ ان کے سامنے آئیں گے ۔ ۔ فیصل ووڈا کے پی ٹی آئی کے غبارے سے جلد ہوا نکل جانے کے بیان پر رد عمل دیتے ہوے انہوں نے کہا کہ میں ایسی لغت پر یقین نہیں رکھتا ۔ سیاست میں نشیب و فراز آتے رہتے ہیں ، پی ٹی آئی پر بھی یہ مشکل وقت آیا ہوا ہے اور وہ کب اس ساری صورتحال سے نکل پاتی ہے ہے یہ وقت بتائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے جوڈیشل کمیشن بنانے کے مطالبے پر ضرور غور کیا جائے تاہم یہ سب سچویشن پر منحصر ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایک سو نوے ملین پاونڈ کیس کے فیصلے اور مذاکرات کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ۔ فیصلہ جب اور جو بھی آتا ہے مذاکرات نہیں رکیں گے ۔

Comments are closed.