190 ملین پاونڈ کیس کا ملکی تاریخ کا سب سے بڑا فیصلہ ہے ، وفاقی وزرا

بانی پی ٹی آئی کو اپیل کا حق حاصل ہے ، رہائی کا فیصلہ عدالتوں نے کرنا ہے ، اعظم نذیر تارڑ
بانی پی ٹی آئی عدالت میں ٹھوس شوائد پیش کرنے میں ناکام رہے، عطا اللہ تارڑ :مشترکہ پریس کانفرنس
اسلام آباد (آن لائن) وفاقی وزرا نے کہا ہے190 ملین پاونڈ کیس کا ملکی تاریخ کا سب سے فیصلہ ہے ۔ بانی پی ٹی آئی عدالت میں ٹھوس شوائد پیش کرنے میں ناکام رہے ، بند لفا فے کی کابینہ سے منظوری بذات خود ایک بہت بڑا جرم ہے ۔ بانی پی ٹی آئی کے پاس اپیل کا حق موجود ہے انکی رہائی کا فیصلہ عدالتوں نے کرنا ہے ۔ وفاقی وز یر قانون اعظم نذیر تا رڑ نے وزیر اطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ کے ہمراہ پریس کا نفرنس کرتے ہوے کہا غیر قانونی طور پر ملک سے باہر بھیجا گیا اس ملک کے عوام کا ہوتا ہے ۔ دو ہزار بائیس میں جب حکومت سنبھالی تو القادر ٹرسٹ کا معاملہ کابینہ کے سامنے آیا ۔ حسن نواز بھی اس معاملے کا حصہ تھے تاہم تحقیقات کے بعد وہ کلئیر ہو گئے ۔ میڈیا میں خبریں شائع ہونے کے بعد جب برطانیہ کی کرائم ایجنسی نے تحقیقات کی تو انہوں نے حسن نواز کے معاملے کو مکمل طور پر کلیئر کر دیا تھا، اس کے بعد معاملہ بحریہ ٹاوٴن تک جا پہنچا، وہاں پر 190 ملین پاوٴنڈ کو ایڈجسٹ کیا گیا، یہ معاملہ پھر کابینہ میں بھی آیا۔قانون یہ ہے کہ اگر معاملہ حل بھی ہوجائے تو اس طرح کا متنازع پیسہ دْنیا کے تمام ممالک نے مل بیٹھ کر قانون اور فیصلہ کیا ہوا ہے کہ ایسی رقم عوام کے ٹیکس سے ہوتی ہے، جو کسی نا کسی طریقے سے باہر پہنچائی جاتی ہے

، یہ پیسہ اور رقم واپس اسی ملک کے عوام کو ملنی چاہیے۔ انہوں نے کہا 190 ملین پاوٴنڈ واپس ریاست کو ملنے تھے، عمران خان کے دور حکومت میں ایک بند لفافہ کابینہ میں لایا گیا اور کہا گیا کہ برطانیہ میں 190 ملین پاوٴنڈ ضبط شدہ ہیں وہ واپس حکومت پاکستان کو ملنے ہیں پھر اس رقم کو خفیہ رکھنے کا فیصلہ ہوا اور سپریم کورٹ کے اکاوٴنٹ میں منتقل کر د ئیے گئے۔ یہ مقد مہ ایک سال چلا، شہادتیں ریکارڈ ہوئی ہیں، بانی پی ٹی آئی کو حق حاصل تھا کہ وہ اپنے صفائی میں ثبوت اور گواہان پیش نہیں کیے، جو گفتگو کرکے گئے ہیں وہ اس وقت کابینہ کا حصہ تھے، انہیں میڈیا پر بات کرنے کے بجائے عدالت میں ثبوت اور گواہان پیش کر نے چاہیے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ٹرائل کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کو بہت موقع دیا، جرح کی بہت کوشش کی گئی، 30 سے 31 مرتبہ جرح کی کوشش کی گئی اور تاریخیں مقرر کی گئیں لیکن کوئی بھی ثبوت اور گواہ عدالت میں پیش نہیں ہو سکا، اب ٹرائل کورٹ نے فیصلہ سنا دیا ہے اور بانی پی ٹی آئی کو اپیل کا حق حاصل ہے، ہم ملک میں نظام انصاف چاہتے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ وہ اپیل کا حق استعمال کریں اور آئندہ بھی فیصلہ انصاف اور میرٹ پر ہو۔ انہوں نے کہا بانی پی ٹی آئی کی کابینہ نے بند لفافے پر فیصلہ دیا جو کہ بذات خود ایک بہت بڑا جرم ہے ۔ اس موقع پر وزیر اطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ نے کہا 190 ملین پاونڈ پاکستان کی تاریخ کا میگا کرپشن کیس تھا۔ ڈیفنس کونسل نے سیاسی طور پر اس کیس کو لڑا۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ وکیل صفائی بے گناہی کے ثبوت پیش نہیں کر سکے۔ انہوں نے کہا پراسیکیوشن کی طرف سے رشوت کے ثبوتوں کا جواب بھی نہیں دے سکے۔ بانی پی ٹی آئی عدالت میں ٹھوس شواہد پیش نہیں کر سکے۔

انہوں نے کہا کیس کے اندر مذہب کارڈ کا استعمال کیا گیا۔یہ کہاں کا انصاف ہے کہ ضبط شدہ رقم برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی کی طرف سے وصول ہونے والی رقم سے لاہور میں گھر بنایا۔ القادر ٹرسٹ بلیک منی کو وائٹ کرنے کے لئے بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں ثابت کرنا ہوگا کہ یہ بند لفافہ کابینہ میں نہیں لے کر گئے تھے۔ انہیں ثابت کرنا ہوگا کہ لاہور میں اس پیسے سے گھر نہیں بنایا گیا تھا۔ جس شخص سے پیسہ لیا گیا اسی کو واپس کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا اس کیس میں کرپشن اور رشوت ثابت ہے، اختیارات کا ناجائز استعمال ثابت ہے۔ قانونی لوازمات پورے کرتے ہوئے سزا سنائی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا سنائی گئی سزا میرٹ پر ہے، یہ اپنی بے گناہی ثابت کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ نامور وکلاء اس فیصلے کے بارے میں کہہ رہے ہیں کہ یہ قانون کے مطابق ہے۔ رشوت، کرپشن اور ڈاکہ ثابت ہو چکا ہے۔ سیرت اور مذہب کے نام پر عوام کی لوٹی ہوئی رقم کیسے درست ثابت ہو سکتی ہے۔

Comments are closed.