اسلام آباد(آن لائن)پاکستان تحریک انصاف نے بانی پی ٹی اور بشریٰ بی بی کو القادر ٹرسٹ کیس میں سزا سنانے کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اعلیٰ عدلیہ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے چیرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے کہاکہ ملک میں انصاف کا نظام تباہ کیا جارہا ہے جس شخص نے 27 سالوں سے ملک میں انصاف کیلئے کوششیں کی وہی شخص ناانصافی کا شکار ہوگیا انہوں نے کہاکہ بانی پی ٹی آئی کے خلاف فیصلے کے باوجود حکومت کے ساتھ مذاکرات جاری رہیں گے۔جمعہ کو آڈیالہ جیل کے باہر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے چیرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہاکہ القادر یونیورسٹی ٹرسٹ کسیس میں جج صاحب نے فیصلہ سنایا ہے اور یہ پاکستان کی تاریخ کا ایک اور ناانصافی پر مبنی فیصلہ ہے انہوں نے کہاکہ بانی پی ٹی آئی بھی ناانصافی پر مبنی فیصلے پر ہنس پڑے اور کہا کہ جو بھی ناانصافی پر مبنی فیصلہ کرتا ہے اور کو پروموشن ملتی ہے انہوں نے کہاکہ یہ ایک ایسا کیس ہے جس میں خان صاحب نے ایک روپیہ کا فائدہ نہیں لیا ہے انہوں نے کہاکہ افسوس کا مقام ہے کہ جس ملک میں ایک ٹرسٹی عورت کو 7 سال کی سزا سنائی گئی یہ افسوس اور شرم کا مقام ہے انہوں نے کہاکہ ہم مایوس نہیں ہیں ہم چند دنوں میں ہائیکورٹ میں جائیں گے
انہوں نے کہاکہ ہم دنیا کو بتائیں گے کہ بانی پی ٹی آئی نے کوئی جرم نہیں کیا تھا یہ ایک سیاسی انتقام ہے انہوں نے کہاک بانی پی ٹی آئی ان مقدمات سے ڈرتے ہیں اور جلد ہی رہا ہوجائیں گے انہوں نے کہاکہ پاکستانی صبر سے کام لیں اس وقت پاکستان میں انصاف کا قانون کمپرومائز ہوچکا ہے اور اس شخص کو بھی انصاف نہیں ملا جس نے 27سالوں سے ملک میں انصاف کی فراہمی کیلئے جدوجہد کی تھی انہوں نے کہاکہ حکومت کے ساتھ ہمارے مذاکرات جاری رہیں گے اگر کمیشن نہیں بنایا جاتا ہے تو اس کے بعد مذاکرات نہیں ہونگے انہوں نے کہاکہ بانی پی ٹی آئی کا حوصلہ بلند ہے یہ سزا بھی گذشتہ سزاؤں کی طرح ختم ہوگی انہوں نے کہاکہ حکومت نے ایک ایسے ادارے کو نقصان پہنچایا ہے جہاں پر عوام بچوں کو مفت تعلیم فراہم کی جارہی ہے انہوں نے کہاکہ اس وقت لوئر کورٹس سے عوام کو انصاف نہیں مل رہا ہے جب انصاف نہ ہو تو قومیں تباہ ہوجاتی ہیں انہوں نے کہاک انصاف ہوکر رہے گا اس موقع پر پی ٹی آئی کے رہنما شعیب شاہین نے کہاکہ گھریلو خاتون بشری بی بی کو سزا سنانے پر بانی پی ٹی آئی نے کہاکہ حمود الرحمن کمیشن کے وقت ایک ڈکٹیٹر نے اپنے اقتدار کو طوالت دینے کیلئے انسانی حقوق کو پامال کیا اور ااج بھی وہی کچھ ہورہا ہے لوگوں کو گھروں سے اٹھایا جارہا ہے نظام انصاف باندی بن کر ایک ڈکٹیٹر کے سامنے کھڑا ہوگیا ہے اور نظام انصاف کا جنازہ پڑھایا جارہا ہے انہوں نے کہاکہ یہ سزائیں تو وہ ہیں جو صحافی اور اسٹیبلشمنٹ کے ٹاؤٹس پہلے سے بیان کرتے تھے انہوں نے کہاکہ میں جج سے سوال کرتا ہوں کہ کس طرح منصف کی کرسی پر بیٹھے ہو انہوں ے کہاکہ جو ججز ڈکٹیٹر کی جانب چلے جاتے ہیں تو ان کو انعام ملتا ہے جبکہ انصاف پر فیصلے کرنے والے ججز کو سزا کے طور پر ہٹایاجاتا ہے انہوں نے کہاک جن آئی جیز اور بیوروکریٹ نے کرپشن پر ان کا ساتھ دیا ان کو کروڑوں روپے کے پلاٹس دئیے جاتے ہیں انہوں نے کہاکہ اس کیس کو فوری طور پر ہائی کورٹ میں چیلنج کریں گے۔۔۔۔اعجاز خان
Comments are closed.