پاکستان تحریک انصاف اور عمران خان نے ہمیشہ عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی
اسلام آباد:پاکستان تحریک انصاف اور عمران خان عوام کو آج تک گمراہ کرنے میں مصروف ہیں۔ عمران خان کی شروع سے ہی عوام کو بے وقوف بنانے اور سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوانوں کو جھوٹے پراپیگنڈے کا شکار کرنے کی پالیسی رہی ہے۔90 دنوں میں الیکشن کی تقریر عوام پچھلے ڈیڑھ سال سے سن رہی ہے مگر حقائق اس کے برعکس ہیں۔
خان صاحب کو 23 مئی 2022 کو پہلی بار مقتدر حلقوں کی جانب سے ایک ہی وقت میں پورے ملک میں عام انتخابات کی یقین دہانی کروائی گئی۔ یہ وہ وقت تھا کہ وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل دوبئی میں آئی ایم ایف سے مذاکرات کر رہے تھے اور امید تھی کہ جلدی معیشت سنبھل جائے گی۔ مگر بشریٰ صاحبہ کے مؤکلات نے انکار کر دیا اور لانگ مارچ شروع کر دیا۔یاد رہے کہ یہ یقین دہانی پی ڈی ایم کی جانب سے بھی کروائی گئی تھی۔
مئی 2023 میں عمران خان کی مذاکراتی ٹیم کو ایک بار پھر یقین دہانی کروائی گئی کہ پورے ملک میں ایک ہی دن الیکشن کروائے جائیں گے۔اس سے بحران سے نکلنے کی ایک امید پیدا ہوگئی اور الیکشن کا امکان بھی نظر آنے لگا۔مگر بعد میں مزاکراتی ٹیم اور عمران خان نے انکار کر دیا۔سچ یہ ہے کہ عمران خان کو اس وقت الیکشن سوٹ نہیں کررہا تھا، عمران خان چاہتے تھے کہ ملک دیوالیہ ہو اور پھر عوام کو باور کروایا جائے کہ معاشی ترقی اور ملکی مسائل کا حل صرف عمران خان کے پاس ہے۔اب 2023 کا ستمبر شروع ہو چکا ہے مگر عمران خان اور تحریک انصاف پھر سے وہی مطالبہ کر رہے ہیں کہ 90 روز میں الیکشن کروایا جائے۔ اب موجودہ صورتحال میں یہ ممکن نہیں، کیونکہ مردم شماری کے بعد اب الیکشن نئی حلقہ بندیوں کے مطابق ہوں گے۔اب الیکشن کمیشن نئی حلقہ بندیوں کے بعد ہی الیکشن کی تاریخ کا اعلان کرے گا۔تحریک انصاف جھوٹ اور پراپیگنڈے کی سیاست کے زریعے ملک میں عدم استحکام پیدا کرنا چاہتی ہے مگر اب کامیاب نہیں ہو سکیں گے۔
Comments are closed.