بانی پی ٹی آئی جیل سے ضمانت پر ہی رہا ہو کر باہر آ سکتے ہیں، ڈ اکٹر طارق فضل چوہدری

اسلام آباد (آن لائن) مسلم لیگ (ن)کے رہنما ڈ اکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی جیل سے ضمانت پر ہی رہا ہو کر باہر آ سکتے ہیں ، حکومت اپنی مرضی سے مذاکرات کر ر ہی ہے اور بات چیت کو نتیجہ خیز بنانے کی بھی خواہاں ہے ، پاکستان تحریک انصاف کے لو گ سیاسی جماعتوں سے نہیں ریاست سے لڑ رہے ہیں ۔ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا پی ٹی آئی کے موقف کو بے نقاب کرنا بہت ضروری ہے۔ فیصلہ سنانے میں تاخیر تکنیکی بنیادوں پر ہوئی، کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہو رہے تھے۔ بانی پی ٹی آئی جیل سے ضمانت پر ہی باہر آ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا القادر ٹرسٹ میں ستر ارب روپے کی کرپشن ہوئی،، شہزاد اکبر نے بھی پیسے لیے جو برطانیہ کی کرائم ایجنسی کے ذریعے حکومت پاکستان کو دیئے گئے۔

انہو ں نے کہا القادر ٹرسٹ کیس میں منی لانڈرنگ کو پکڑا گیا ہے ۔ بانی پی ٹی آئی نے کابینہ میں بند لفافے کی منظوری دی۔ ملک ریاض کو اڑھائی سو ارب روپے کا جرمانہ ہوا تھا ۔ ملک ریاض کا جرمانہ اور منی لانڈرنگ کا پیسہ حکومت پاکستان کو ملنا چاہیے تھا۔ لیکن القادر ٹرسٹ کیس میں جرمانے کی رقم کو ذاتی حیثیت میں استعمال کیا گیا ۔ اس کیس میں شہزاد اکبر نے ککس بیکس لیں، اور 450 کینال زمین پر ٹرسٹ بنا کر بانی پی ٹی آئی اور انکی اہلیہ کو ٹرسٹی بنایا گیا۔ انہوں نے کہا 190 ملین پاونڈ کیس میں بار بار جھوٹ بولا گیا۔ بانی پی ٹی نے عدم اعتماد سے بچنے کیلیے سائفر کا ڈرامہ کیاپوری قوم کو سائفر کی پوری کہانی معلوم ہے، بانی پی ٹی آئی نے قوم سے جھوٹ بولا۔ جذباتی قوم نے گاڑیوں کے پیچھے لکھا کہ ہم کوئی غلام ہیں۔ انہوں نے کہا ہم کوئی غلام ہیں کا نعرہ اچھا تھا لیکن وہی نعرہ بنانے والی پی ٹی آئی آج امریکہ کی جانب دیکھ رہی ہے۔ ہم کوئی غلام ہیں کا مطلب امریکہ بانی پی ٹی آئی کو قید سے نجات دلائے اور پھر میں قوم کو امریکہ غلامی سے نجات دلاوٴں گا۔ انہوں نے کہا ڈی چوک میں پہلے 278 لاشوں کا شور مچا یا گیا جس کے بعد 12 لاشوں کی بات کی گئی۔ انہوں نے کہا پی ٹی آئی سیاسی جماعتوں سے لڑنے کے بجائے ریاست سے لڑ رہی ہے۔ ہم واحد اسلامی ملک ہیں جو ایٹمی طاقت ہے، ہمیں کئی ممالک پابندیوں میں جکڑنا چاہتے ہیں۔ ہم دست بدست طاقت سے کوئی نہیں ہرا سکتا لیکن ریاستی اداروں کے خلاف ملک کے اندر اور باہر سازشیں ہو رہی ہیں۔

پی ٹی آئی کے لوگ جانے انجانے میں پاکستان مخالف سرگرمیوں کا ہی حصہ بن رہے ہیں۔ انہوں نے کہا پی ٹی آئی کو سوچنا چاہیے کہ انکے کارنامے ملک کو فائدے کے بجائے نقصان دیں گے۔ پی ٹی آئی نے سڑکیں گرما کر دیکھ لیں اب پی ٹی آئی کو پارلیمنٹ میں اپنا موقف پیش کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا حکومت اپنی مرضی سے مذاکرات کر رہی ہے اور ہم اسے نتیجہ خیز بنانا چاہتے ہیں۔ ن لیگ اور پی ٹی آئی کی حکومتی کار کر دگی کا موازنہ کرتے ہوے انہوں نے کہا اسلام آباد، لاہور اور پنجاب کے کئی شہروں میں دن رات ترقیاتی کام ہو رہے ہیں۔ پی ٹی آئی کو تیسری مرتبہ پختونخوا میں حکومت ملی ہے، اپنی اور انکی کارکردگی یہ خود دیکھ لیں ۔ اسلام آباد میں بھی ترقیاتی کاموں پر سی ڈی اے پیسہ خرچ کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا پی ٹی آئی کے مخالف بھی تسلیم کر رہے ہیں کہ معاشی اعشارے بہتر ہو رہے ہیں ۔ ہمیں آگے بڑھنا ہے اور ملک کو مستحکم کرنا ہے۔

Comments are closed.