قومی اسمبلی کے اجلاس میں پی ٹی آئی نے واک آؤٹ کردیا‘ کورم کی نشاندھی‘ گنتی پر کورم پورا نکالا

اسلام آباد(آن لائن) قومی اسمبلی کے اجلاس میں پی ٹی آئی نے واک آؤٹ کردیا اور کورم کی نشاندھی کی گئی‘ گنتی پر کورم پورا نکالا اور اجلاس کی معمول کی کارروائی جاری رہی،اراکین اسمبلی اجلاس میں سی ڈی اے کی ناقص کارکردگی پر پھٹ پڑے اور کہا کہ من پسند لوگوں کا کام کیا جاتا ہے باقی کو کوئی پوچھتا نہیں۔بدھ کے روز قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی سربراہی میں منعقد ہوا ۔قومی اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب خان نے پوائنٹ آف آرڈر پر بات کرنے کی اجازت کامطالبہ کیا جس پر سردار ایاز صادق نے کہا کہ وقفہ سوالات میں کوئی پوائنٹ آف آرڈر نہیں ہوگا میں نے یوٹرن نہیں لینے اس پر اپوزیشن نے احتجاج شروع کر دیا اور اووو اووو کی آوازیں لگانا شروع کر دیئے نعرے بازی اور ڈیسک بھی بجاتے رہے۔عمر ایوب خان کی جانب سے جذباتی انداز میں نعرے بازی کی گئی۔ عمر ایوب خان سبز رنگ کی فائل سے زور زور سے ڈیسک بجا رہے ہیں۔ اسپیکر قومی اسمبلی نے سی ڈی اے اور وزارت داخلہ حکام کو اپنے آفس میں طلب کرلیا وزرات داخلہ حکام کے تاخیر سے آنے اور کچھ سوالوں کے جواب نہ ملنے پر اسپیکر قومی اسمبلی نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزارت داخلہ سے کون آیا ہے

،آپ کدھر تھے پہلے؟ یہ کوئی طریقہ ہے کہ چار سوالوں کے جواب آپ نے نہیں دیئے پیپلز پارٹی کے رہنما نبیل گبول نے کہا کہ آپ نے سی ڈی اے والوں کو بلایا، وزیر داخلہ آتے نہیں ہیں سیکرٹری داخلہ کو بلائیں وزیر داخلہ ہیں کہاں، اس کو ڈھونڈ کر لایا جائے،اسپیکر نے وزارت داخلہ کے تحریری جواب میں غلطی پر بھی برہمی کا اظہار کیا جس پر پارلیمانی سیکرٹری برائے داخلہ ڈاکٹر درشن نے کہا کہ یہ کلیریکل غلطی ہو گئی ہے،اس کے لئے معذرت چاہتا ہوں سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا کہ اس کا مطلب ہے وہ پڑھتے ہی نہیں ہیں اسی دوران پی ٹی آئی ارکان نے ایوان سے واک آؤٹ کیا اوراپوزیشن رکن عبدالطیف نے کورم کی نشاندہی کردی گنتی کرانے پر اجلاس کا کورم پورا نکلا اور اجلاس جاری رہا۔چوہدری سالک حسین وزیربرائے سمندر پار پاکستانی و ترقی نے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دنوں لوگوں کو ویزوں کے مسائل درپیش ضرور تھے مگر اب بہتری آئی ہے

اب لوگوں کے ویزے سے متعلق مسائل کو فوری طور حل کرنے کی کوشش کیا جاتا ہیعراق کے ساتھ ایک ایم او یو سائن ہوگیا ہے ایران اور عراق میں زائرین کو درپیش مشکلات کو بروقت حل کرنے کی بات چیت کی گئی اجلاس میں ارکان اسمبلی سی ڈی اے کے خلاف پھٹ پڑے، شکایات کے انبار لگا دیئے جس پر سپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ سارے سی ڈی اے کی کارکردگی سے خوش ہیں،سی ڈی اے کی کارکردگی سے خوش ہیں آپ لوگ؟ارکان اسمبلی نے نو کہہ کر جواب دیا رکن اسمبلی رانا مبشر نے کہا کہ پسندیدہ بندوں کا کام ہو رہا ہے باقی کو پوچھتے نہیں، سپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ سی ڈی اے کے خلاف قرار داد منظور ہوئی تو حکومت کے لئے امبیرسنگ ہوگا،وفاقی وزیر اعظم نزیر تارڑ نے کہا کہ ایم این ایز سینیٹرز کی تنخواہ ایک لاکھ 64 ہزار ہے،کوئی گیس بجلی پارلیمنٹیرینز کو مفت نہیں ملتی،وہ خود ادا کرتے۔

Comments are closed.