اسلام آباد(آن لائن)اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایازصادق نے کہا ہے کہ ہم نے اپوزیشن سے طے کیا تھا احتجاج کریں مگر ہر چیز کا وقت ہو نا چاہیے ۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ لوگ آدھا گھنٹہ احتجاج کرتے ہیں پھر چلے جاتے ہیں ۔ایوان میں اپوزیشن کے ساتھی صرف احتجاج کرتے ہیں ۔انہوں نے کہامیں نے کئی دفعہ درخواست کی کہ عوامی ایشوز پر بھی بات کر لیں ۔انہوں نے کہاسی ڈی اے میں کچھ مافیاز موجود ہیں ۔انہوں نے کہاحکومت اور اپوزیشن سی ڈی اے سے ناراض رہتی ہے ۔انہوں نے کہا2014میں پارلیمنٹ پر حملہ ہوا تھا میں بے بسی سے دیکھ رہا تھا ۔2014 میں میرے اسٹاف نے آ کر مجھے یہ پیغام دیا تھا ۔انہوں نے کہا ان بد قسمت لوگوں میں ہوں جنہوں نے 2014 میں پارلیمنٹ ہر حملہ ہوتے دیکھا ۔انہوں نے کہامجھے کہا گیا کہ فوری اسمبلی اجلاس ملتوی کریں یہاں ممبران کو خطرہ ہے ۔انہوں نے کہامجھے آ کے کہا گیاکہ آپ لوگ فورا اجلاس ملتوی کر کے پیچھے سے نکل جائیں ۔کہا گیا کیلوں والے ڈنڈوں کے ساتھ حملہ کیا جائے گا جو ان کے لوگوں کے پاس تھے ۔انہوں نے کہامیرے تو پسینے چھوٹ گئے ،میں خطرہ مول لے رہا تھا ۔انہوں نے کہامیں بیٹھا رہا میری نظر دروازوں پر لگی ہوئی تھیں ۔
انہوں نے کہامیرا سارا جسم پسینے سے بھیگا ہوا تھا ،اور میں بہت شدید ٹینشن میں تھا ۔انہوں نے کہاجہاں سے میسج آیا تھا ناوہ بڑے سینیئر لیول سے آیا ۔انہوں نے کہامیں بیٹھا رہا پھر میں نے کمشنر کو بلایا اس سے اسٹوری سنی ۔پی ٹی آئی حکومت میں ہمارے ممبران کو یہاں پروڈیوس نہیں کیا جاتا تھا ۔میری لیڈر شپ مجھے پروڈکشن آرڈر سے نہیں روکتی ۔انہوں نے کہااسحاق ڈار کوشش کر رہے ہیں کہ پی ٹی آئی کمیٹی کی اپنے لیڈر سے ملاقات ہو جائے۔انہوں نے کہاکوشش کرتا رہوں گا کہ اختر مینگل واپس اسمبلی میں آ جائیں ۔اختر مینگل میرے پاس آئیں گے ،ہاتھ سے لکھا استعفااور دو گواہ ہوں گے ۔انہوں نے کہامیری کوشش ہو گی کہ اختر مینگل کو استعفا نہ دینے پر منا لوں ۔انہوں نے کہاغلط ایف آئی آر ہوئی ہے تو اختر مینگل اس پر قومی اور صوبائی اسمبلی میں آواز اٹھائیں۔انہوں نے کہا ایم این اے اور سینیٹرز کی تنخواہ بڑھے تو طوفا ن آ جاتا ہے، مگر دیگر کی بڑھے تو کچھ نہیں ہوتا ۔
Comments are closed.