اجلاس ان کیمرہ ہوگا ،سپیکر قومی اسمبلی صدارت کرینگے
اجلاس کے حوالے سے ہم پرامید ہیں ، مثبت پیش رفت سامنے آئے گی،9مئی اور 26نومبر کے واقعات کے حوالے سے جوڈیشل کمیشن کے بننے یا نہ بننے کا فیصلہ ابھی نہیں ہوا، سینیٹر عرفان صدیقی
میٹنگ میں ان کے خط پر غور کیا ہے،قانون معاملات کو بھی دیکھا ہے، امید ہے کہ 7 ورکنگ ڈے ختم ہوں گے تو میٹنگ بلا لی جائے گی،اعجاز الحق
اسلام آباد(آن لائن) سپیکر چیمبر میں حکومتی مذاکراتی کمیٹی کااجلاس ختم ،28جنوری کو حکومتی اور اپوزیشن کی مذاکراتی کمیٹیوں کا اجلاس بلانے کا فیصلہ کیاگیاہے جس کی صدارت سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کرینگے ،ا جلاس ان کیمرہ ہوگا ۔تحریک انصاف اور حکومت کے درمیان مذاکرات کے حوالے سے حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے کنوینر سینیٹر عرفان صدیقی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کو 28جنوری کو ان کے تحریری سوالات کا جواب دینگے چوتھے اجلاس کے حوالے سے ہم پرامید ہیں یہ ضرور ہوگا اور مثبت پیش رفت سامنے آئے گی ۔
انہوں نے کہا کہ9مئی اور 26نومبر کے واقعات کے حوالے سے جوڈیشل کمیشن کے بننے یا نہ بننے کا فیصلہ ابھی نہیں ہوا اگر یہ ہوجاتا تو یہ تاخیر نہ ہوتی اسی وجہ سے تاخیر ہورہی ہے اگر جوڈیشل کمیشن بن جاتا تو پھر چوتھے راؤنڈ کی ضرورت نہ ہوتی ۔ ایک سوال کے جواب میں عرفان صدیقی نے کہا کہ آج کے اجلاس میں اپوزیشن کے مطالبات پر تفصیلی طور پر قانونی رائے لی گئی ہے اور طویل مشاورت کی گئی ہے حکومتی کمیٹی کااجلاس آج (جمعرات ) اور کل (جمعہ ) کو دوبارہ ہوگا ۔ عرفان صدیقی کا مزید کہنا تھا کہ مذاکرات کے حوالے سے مشاورت کا عمل جاری رہے گا اور اس میں دیگر بھی بہت سے معاملات ہیں جو زیر غور آئینگے ۔
دریں اثناء حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے رکن اعجاز الحق نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میٹنگ میں ان کے خط پر غور کیا ہے،قانون معاملات کو بھی دیکھا ہے، امید ہے کہ 7 ورکنگ ڈے ختم ہوں گے تو میٹنگ بلا لی جائے گی۔ان کا کہنا تھا کہ جواب ابھی تیار نہیں ہوا ،جواب کے پراسس میں ہیں، ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا، جتنی باتیں انہوں نے لکھی ہیں اس کا ایک ایک پہلو دیکھا جارہا ہے۔
Comments are closed.