پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں چار بل منظور،چار موخر کر دیئے گئے

اسلام آباد(آن لائن ) پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں قومی ادارہ برائے ٹیکنالوجی بل 2024 ،درآمدات اور برآمدات کنٹرول ایکٹ میں ترمیم کا بل،نیشنل ایکسلینس انسٹیوٹ بل 2024 اور تجارتی تنظیمات ترمیمی بل کثرت رائے سے منظور کر لیئے گئے باقی چار بل موخر کر دیئے گئے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس سوا گھنٹہ کی تاخیر سے اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی صدارت میں منعقد ہوا تواپوزیشن کی طرف سیاحتجاج اور نعرے بازی شروع کر دی گئی

اجلاس شروع ہوتے ہی سنی اتحاد کونسل کے اراکین ایوان میں آگئے سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے قانون سازی شروع کروا دی سپیکر قومی اسمبلی نے نقط اعتراض دینے سے انکارکر دیا اور اجلاس میں تجارتی تنظیمات ترمیمی بل کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا بل وفاق وزیر تجارت جام کمال نے پیش کیا۔اپوزیشن اراکین کے نامنظور نامنظور کے نعرے اپوزیشن اراکین نے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں سپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ بدقسمتی سے اپوزیشن نے کسی بھی بل کی مخالفت نہیں کی اجلاس میں قومی کمیشن برائے انسانی ترقی ترمیمی بل حکومتی درخواست پر موخر کر دیا گیا اجلاس میں قومی کمیشن برائے انسانی ترقی آرڈیننس 2002 میں ترمیم کا بل موخر کر دیا گیا این ایف سی ادارہ برائے انجینئرنگ و ٹیکنالوجی ملتان ایکٹ 2012 میں مزید ترمیم کا بل موخر کر دیا گیا نیشنل اسکولز یونیورسٹی اسلام آباد ایکٹ 2018 میں مزید ترمیم کا بل بھی موخر کر دیا گیا وفاقی اردو یونیورسٹی برائے آرٹس ،سائنس و ٹیکنالوجی اسلام آباد 2002 میں مزید ترمیم کا بل بھی موخر کر دیا گیا مشترکہ اجلاس میں موخر بل وفاقی وزیر تعلیم خالد مقبول نے پیش کرنا تھا سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا کہ بل موخر کرنے کی استدعا پر موخر کئے گئے ہیں پارلیمنٹ نے درآمدات اور برآمدات کنٹرول ایکٹ میں ترمیم کا بل کثرت رائے سے منظور کرلیا

بل وفاقی وزیر برائے تجارت جام کمال نے پیش کیاپارلیمنٹ نے قومی ادارہ برائے ٹیکنالوجی بل 2024 بھی کثرت رائے سے منظور کرلیا بل زہرہ ودود فاطمی نے پیش کیا تھا اجلاس میں سنی اتحاد کونسل کا احتجاج ہنگامہ جاری رہا پارلیمنٹ نے نیشنل ایکسلینس انسٹیوٹ بل 2024 بھی کثرت رائے سے منظور کرلیا بل سینیٹر منظور احمد نے پیش کیا، مجلس شوریٰ نے آٹھ میں سے چار بل منظور کر لیے چار موخر کر دیے گئے۔ پارلیمنٹ نے اٹھارہ منٹ میں چار بلز منظور کییقانون سازی مکمل ہوتے ہی سپیکر نے پارلیمنٹ کا اجلاس بارہ فروری تک ملتوی کردیامشترکہ اجلاس ملتوی ہوتے ہی بلاول بھٹو زرداری ایوان میں پہنچ گئے تھے

Comments are closed.