اسلام آباد(آن لائن )سپریم کورٹ نے قتل کے الزام میں قید مجرم کو بری کرنے کا حکم دیتے ہوئے عمر قید کی سزا کالعدم قرار دے دی۔جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیے ہیں کہ پراسیکیوشن نے الزام ثابت کرنا ہوتا ہے انھوں نے یہ ریمارکس جمعہ کے روزدیے ہیں۔جسٹس جمال مندوخیل کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سماعت کی۔جسٹس نعیم اختر افغان نے سوال اٹھایا کہ کیا کوئی الزام لگائے گا تو اسے سزا دے دی جائے گی؟ پراسیکیوشن نے الزام ثابت کرنا ہوتا ہے۔
جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ سب کو مارنے کی نیت سے آنے والا کسی ایک کو کیوں چھوڑے گا؟وکیل درخواست گزار کا کہنا تھا کہ کیس میں نامزد ملزم بھی بری ہو چکا جبکہ ایک ملزم دوران ٹرائل وفات پا گیا۔سپریم کورٹ نے محمد جاوید کی عمر قید کی سزا کالعدم قرار دے دی۔محمد جاوید کو 2013 میں تلہ گنگ میں قتل کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ہائی کورٹ نے ٹرائل کورٹ کی عمر قید کی سزا کو برقرار رکھا تھا۔
Comments are closed.