اسلام آباد(آن لائن )سپریم کورٹ نے فوجداری مقدمات محض میڈیا نمائندوں کے انٹرویوز پرسزادینے کے معاملات پر اظہار تشویش کرتے ہوئے بچے کے قتل کے مقدمے میں اٹارنی جنرل ایڈووکیٹ جنرل اور پراسیکیوٹر جنرل کو نوٹس کرتے ہوئے ان سے جواب مانگ لیاہے جبکہ جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے ہیں کہ قتل فوجداری کیسز میں میڈیا پرسن کے انٹرویوز کی کیا ویلیو ہے۔ملزم ریمانڈ پر ہو تو عدالت تک مداخلت نہیں کر سکتی۔ملزم جب بری ہوتا تو الزام عدالتوں پر آتا ہے۔پوری دنیا میں عدالتی کاروائی پر کوئی کمنٹ نہیں کرسکتا۔
انھوں نے یہ ریمارکس جمعہ کے روزدیے ہیں۔ملز م کے وکیل نے جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کوبتایاکہ صحافی نے اپنی رپورٹ میں ملزم کو قتل کا مجرم قرار دیدیا۔صحافی نے کہا میری تفتیش میں شاہد علی قتل کا مجرم ہے۔جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ ہماری تشویش فئیر ٹرائل ہے۔فئیر ٹرائل میں کسی کی مداخلت نہیں ہوسکتی۔جسٹس عرفان سعادت نے کہاکہ کیا ملزمان کو صحافی کی انٹرویوز پر پھانسیاں لگی گی۔جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ فوجداری کیسز میں شواہد جمع ہوتے ہیں۔
ملزم جب بری ہوتا تو الزام عدالتوں پر آتا ہے۔پوری دنیا میں عدالتی کاروائی پر کوئی کمنٹ نہیں کرسکتا۔فوجداری کیس میں تفتشی کے علاوہ کوئی مداخلت نہیں کر سکتا۔عدالت نے اٹارنی جنرل ایڈووکیٹ جنرل اور پراسیکیوٹر جنرل کو نوٹس کردیاہے اور کیس 27 جنوری منگل تک ملتوی کردی ہے ،واضح رہے کہ کراچی میں وسیم اکرم نامی بچہ کو قتل کرنے پر ملزم شاہد علی کو سزائے موت سنائی گئی،ملزم نے میڈیا انٹرویو میں جرم کا اعتراف کیا،ملزم مجسٹریٹ کے سامنے اپنے بیان سے مکر گیا،ٹرائل کورٹ نے میڈیا انٹرویو پر انحصار کرکے ملزم کو سزائے موت سنا دی ،سندھ ہائیکورٹ نے بھی ٹرائل کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔
Comments are closed.