نئی دہلی (آن لائن)مودی حکومت کی ناکام پالیسیاں،بھارتی عوام سراپا احتجاج ، بھارتی علاقے پتھم پورمیں بھوپال سے لائے گئے زہریلے فضلے کو ٹھکانے لگانے کے اقدام پر احتجاج جاری ، یہ زہریلا فضلہ بھوپال میں اب ناکارہ رہ جانے والی یونین کاربائیڈ فیکٹری سے لایا گیا ، مقامی لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا ۔بھارتی علاقے پتھم پورمیں بھوپال سے لائے گئے زہریلے فضلے کو ٹھکانے لگانے کے لیے پہنچنے کے بعد عوامی احتجاج شدت اختیار کر گیا ، تین ہفتے قبل دنیا کی بدترین صنعتی آفات میں سے ایک کے مقام سے 337 ٹن زہریلے فضلے کے کنٹینرز کو ٹھکانے لگانے کے لیے پہنچنے کے بعد سے یہ قصبہ تناؤکا شکار ہے
، یاد رہے بھوپال شہر میں 1984 کے گیس سانحے میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے تھے، یہ زہریلا فضلہ بھوپال میں اب ناکارہ رہ جانے والی یونین کاربائیڈ فیکٹری سے لایا گیا ہے ، اس عمل نے مقامی لوگوں میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے، مقامی آبادی کوخدشہ ہے کہ اس فضلے کو آبادی کے قریب ٹھکانے لگانا نقصان دہ اور ماحولیاتی تباہی کا سبب بن سکتا ہے، 3 جنوری کو شہر میں فضلے کے پہنچنے کے ایک دن بعد مظاہرے پھوٹ پڑے اور پتھراو? اور خود سوزی کی کوشش کی گئی، اس سے قبل مقبوضہ کشمیر کے ضلع راجوی کے گاؤں بدھل میں گزشتہ ایک ماہ کے دوران 16 افراد کی پراسرار بیماری سے اموات ہو چکی ہیں، پراسرار ہلاکتوں میں مرنے والے افراد میں نیوروٹوکسن کی موجودگی کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے، یہ واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ مودی سرکار کی حکومتی پالیسیوں میں عوام کی زندگیوں کی پرواہ نہیں کی جاتی۔
Comments are closed.