اجلاس میں ملک کی مجموعی سیاسی و معاشی صورتحال کا تفصیل کے ساتھ جائزہ لیاگیا ، ذرائع کے مطابق اجلاس میں وفاق اور پنجاب میں پیپلز پارٹی کے کام نہ ہونے اور پاور شیئرنگ فارمولے پر عمل نہ ہونے پر سخت تحفظات کا اظہار
مرکز اور پنجاب میں حکومت سے مذاکرات کے حوالے قائم کی جانے والی پیپلز پارٹی کی کمیٹیاں تحلیل کردی گئی ہیں اور مذاکرات کا اختیار صدر آصف علی زرداری کو دے دیاگیا،ذرائع
اجلاس میں قرارداد پاس کی گئی گورنر خیبرپختونخوا کی جانب سے بلائی گئی آل پارٹیز کانفرنس کی کاوش کو سراہا گیا ، اے پی سی کی تجاویز کی توثیق ، خیبرپختونخوا کی صوبائی اور وفاقی حکومتوں سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ آل پارٹیز کانفرنس کی تمام تجاویز پر عمل درآمد کریں، نیئر حسین بخاری کی پارٹی رہنماؤں شازی مری، شیریرحمان کے ہمراہ سینٹرل ایگزیکٹو اجلاس کے بعد گفتگو
اسلام آباد ( آن لائن )پاکستان پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس بلاول بھٹو زرداری کی زیر صدارت جس میں خصوصی طور پر صدر آصف علی زرداری نے بھی شرکت کی ،اجلاس میں ملک کی مجموعی سیاسی و معاشی صورتحال کا تفصیل کے ساتھ جائزہ لیاگیا ، ذرائع کے مطابق اجلاس میں وفاق اور پنجاب میں پیپلز پارٹی کے کام نہ ہونے اور پاور شیئرنگ فارمولے پر عمل نہ ہونے پر سخت تحفظات کا اظہار کیاگیا ۔ ذرائع کے مطابق مرکز اور پنجاب میں حکومت سے مذاکرات کے حوالے قائم کی جانے والی پیپلز پارٹی کی کمیٹیاں تحلیل کردی گئی ہیں اور مذاکرات کا اختیار صدر آصف علی زرداری کو دے دیاگیا ہے ۔
اجلاس کے بعد پارٹی کے سیکرٹری جنرل نیئر حسین بخاری نے پارٹی رہنماؤں شازی مری، شیری رحمان کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی کی سی ای سی کا اجلاس ہوا جس میں ملک کی مجموعی سیاسی و معاشی صورتحال پر مشاورت کی گئی اجلاس میں قرارداد بھی پاس کی گئی قرارداد میں خیبرپختونخوا میں گورنر خیبرپختونخوا کی جانب سے بلائی گئی آل پارٹیز کانفرنس کی کاوش کو سراہا گیا اور اے پی سی کی تجاویز کی توثیق کی گئی اور خیبرپختونخوا کی صوبائی اور وفاقی حکومتوں سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ آل پارٹیز کانفرنس کی تمام تجاویز پر عمل درآمد کریں۔ انہوں نے کہا کہ سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس کی قرارداد میں کْرم کی کشیدہ صورت حال پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا اور امن کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا گیا جبکہ امدادی سامان کی ترسیل کے راستوں کو فوری طور پر کھولنے کا مطالبہ کیا گیا۔سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس کی قرارداد میں پاکستان پیپلزپارٹی اور حکومت کے معاہدے کے تحت پنجاب اور اسلام آباد میں مقامی حکومت کے فوری انتخابات کا مطالبہ بھی کیاگیا ہے ۔
نیئر حسین بخاری نے کہا کہ سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس کی قرارداد میں متنازع کینالوں کی تعمیر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے 11 ماہ سے التواء کے شکار مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس کو فی الفور بلانے کا مطالبہ اور متنازع کینالوں کے معاملے کو فوری طور پر مشترکہ مفادات کونسل میں اٹھانے کا بھی مطالبہ کیاگیاہے ۔انہوں نے کہا کہ سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس کی قرارداد میں پی ڈبلیو ڈی، کراچی ڈاک لیبر بورڈ، یوٹیلٹی اسٹور، پاسکو، جینکو، این ایف سی و دیگر اداروں میں تمام مزدور دشمن اقدامات پر تشویش کا اظہارکیاگیا ہے ۔ سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس کی قرارداد میں حکومت کی زرعی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے تشویش کا اظہار – کسانوں کو کسی بھی قسم کی امداد نہ ملنے پر بھی تشویش ظاہر کیا گی گئی ہے ۔
سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس کی قرارداد میں بلوچستان میں سیلاب سے متاثرہ افراد کی بحالی کے لئے وفاقی حکومت کی جانب سے فنڈز کے فی الفور اجرائکا مطالبہ بھی کیاگیا ہے ۔ نیئر حسین بخاری نے مزید کہا کہ سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس کی قرارداد میں مقبوضہ جموں کشمیر میں بھارتی استبداد اور ظلم و ستم کی مذمت اور کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی قرارداد کی روشنی میں حق خودارادیت دینے کا مطالبہ کے ساتھ اجلاس کی قرارداد میں گلگت بلتستان کے عوام کے حق ملکیت اور حق حاکمیت کے مطالبے پر عمل درآمد کے لئے سنجیدہ اقدامات کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے ۔
Comments are closed.