اسلام آباد ( آن لائن)سپریم کورٹ نے ایڈیشنل رجسٹرار نذر عباس کے خلاف توہین عدالت کیس کا محفوظ فیصلہ سنا دیا ہے۔ عدالت نے نذر عباس کے خلاف جاری توہین عدالت کا نوٹس واپس لے لیاہے اور پروسیجر اور ججز کمیٹی کے اختیارات کا معاملہ چیف جسٹس کو بھجوا دیا گیا ہے۔توہین عدالت کیس کا 20 صفحات پر مشتمل تحریری حکمنامہ بھی جاری کردیا گیا۔جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس عقیل عباسی پر مشتمل دورکنی بینچ نے جمعرات کو کیس کا فیصلہ وکلاء اور عدالتی معاونین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد محفوظ کیا تھا۔کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے فل کورٹ کی تشکیل پر بھی دلائل طلب کیے تھے۔عدالتی حکم کے باوجود بینچز اختیارات کیس سماعت کے لیے مقرر نہ ہونے کے معاملے پر سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل نذر عباس کو عہدے سے بھی ہٹا دیا تھا۔اب عدالت کی جانب سے جاری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ایڈیشنل رجسٹرار نذر عباس نے جان بوجھ کر عدالتی حکم کی خلاف ورزی نہیں کی۔عدالت نے قرار دیا کہ ججز کمیٹی اور آئینی کمیٹی نے عدالتی حکم کی خلاف ورزی کی ہے، تاہم نذر عباس کے خلاف مزید کارروائی ختم کر دی گئی۔سپریم کورٹ نے کمیٹیوں کے اختیارات سے متعلق معاملے پر فل کورٹ تشکیل دینے کی سفارش کی ہے اور اس حوالے سے فائل چیف جسٹس کو بھجوا دی ہے۔سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ انتظامی سطح پر جوڈیشل احکامات کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا، بادی النظر میں توہین عدالت کی کارروائی ججز کمیٹیوں کے خلاف ہوتی ہے
، تاہم، ججز کمیٹیوں کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی نہیں کی جا رہی۔عدالت نے فیصلے میں کہا کہ ہمارے سامنے دو سوالات تھے، کیا ایک ریگولر بنچ سے جوڈیشل آرڈر کی موجودگی میں کیس واپس لیا جاسکتا ہے؟سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا نذرعباس کے اقدام میں کوئی بدنیتی ظاہر نہیں ہو رہی، نذر عباس کا اقدام توہین عدالت کے زمرے میں نہیں آتا، ان کی وضاحت قبول کرکے توہین عدالت کی کارروائی ختم کرتے ہیں۔عدالت نے کہا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی نے کیس واپس لیا جو اس کو اختیار ہی نہیں تھا، ججز کمیٹیوں نے جوڈیشل آرڈرنظرانداز کیا یا نہیں، یہ معاملہ فل کورٹ ہی طے کرسکتا ہے، چیف جسٹس پاکستان فل کورٹ تشکیل دے کر اس معاملے کو دیکھیں، فل کورٹ آئین کے آرٹیکل 175 کی شق 6 کے تحت اس معاملے کو دیکھے۔فیصلے میں کہا گیا کہ کسٹمز ایکٹ سے متعلق کیس غلط انداز میں ہم سے لیا گیا، کسٹمز کیس واپس اسی بنچ کے سامنے مقرر کیا جائے جس تین رکنی بنچ نے یہ کیس پہلے سنا تھا۔ یاد رہے کہ ہفتے کو توہین عدالت کیس میں سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس منصور علی شاہ نے ججز کمیٹی کو خط لکھ کر انٹراکورٹ اپیل کے بینچ پر اعتراض کیا تھا۔جسٹس منصور علی شاہ نے ججز کمیٹی کو ارسال کردہ خط میں جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس محمد علی مظہر کی انٹرا کورٹ اپیل کے بینچ میں شمولیت پر اعتراض کیا۔جسٹس منصور علی شاہ نے خط میں موقف اپنایا تھا کہ 23 جنوری کو جوڈیشل کمیشن اجلاس ہوا
، اجلاس کے بعد چیف جسٹس نے اپنے چیمبر میں کمیٹی کا غیر رسمی اجلاس بلایا، اجلاس میں تجویز دی کہ سنیارٹی کے اعتبار سے اپیل پر 5 رکنی بینچ بنایا جائے۔جسٹس منصور علی شاہ نے خط میں مزید لکھا ہے کہ انہوں نے تجویز دی کہ ان ججز کو شامل نہ کیا جائے جو کمیٹی کے رکن بھی ہیں، چیف جسٹس نے کہا وہ 4 رکنی بینچ بنانا پسند کریں گے۔جسٹس منصور شاہ نے لکھا کہ رات 9 بجکر 33 منٹ پر میرے سیکریٹری کا واٹس ایپ میسج آیا، سیکریٹری نے مجھ سے 6 رکنی بینچ کی منظوری کا پوچھا، میں نے سیکریٹری کو بتایا کہ مجھے اس پر اعتراض ہے، صبح جواب دوں گا۔سینئر جج نے خط میں مزید لکھا ہے کہ رات 10 بجکر 28 منٹ پر سیکریٹری نے بتایا 6 رکنی بینچ بن گیا ہے، انہوں نے لکھا کہ میرا بینچ پر دو ممبران کی حد تک اعتراض ہے۔واضح رہے کہ 21 جنوری کو سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس عقیل عباسی نے بینچز اختیارات کا کیس مقرر نہ ہونے کے معاملے پر چیف جسٹس یحییٰ آفریدی اور آئینی بینچ کے سربراہ جسٹس امین الدین کو خط لکھا تھا۔خط میں لکھا تھا کہ کمیٹی، جوڈیشل آرڈر کے خلاف نہیں جاسکتی تھی اور کیس 20 جنوری کو مقرر کرنے کی پابند تھی، ہمیں کمیٹی کے فیصلے کا معلوم نہیں، پورے ہفتے کی کاز لسٹ بھی تبدیل کردی گئی اور آرڈر جاری کیے بغیر کیسز کو بینچ کے سامنے سے ہٹا دیا گیا۔خط میں کہا گیا تھا کہ عدالتی حکم کی تعمیل نہ کرنے پر آفس کی ناکامی اور ادارے کی سالمیت مجروح ہوئی، عدالت کے طے شدہ قانون کی خلاف ورزی کی گئی، بینچ کے نوٹس لینے کے دائرہ اختیار کو نہیں چھینا جاسکتا، بینچز کی آزادی کے بارے میں بھی سنگین خدشات پیدا ہوتے ہیں۔بعد ازاں، سپریم کورٹ نے ایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل نذر عباس کو عہدے سے ہٹا دیا، اس حوالے سے جاری کیے گئے اعلامیہ میں کہا گیا کہ ایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل نذر عباس سنگین غلطی کے مرتکب ہوئے، رجسٹرار سپریم کورٹ کو معاملے کو دیکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔مزید کہا گیا کہ ایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل نے آئینی بینچ کا مقدمہ غلطی سے ریگولر بینچ کے سامنے سماعت کے لیے مقرر کیا، نتیجتاً سپریم کورٹ اور فریقین کے وقت اور وسائل کا ضیاع ہوا۔
Comments are closed.