سینیٹ کی داخلہ کمیٹی نے کثرت رائے سے پیکا ایکٹ ترمیمی بل کی منظوری دیدی

اسلام آباد(آن لائن)سینیٹ کی داخلہ کمیٹی نے کثرت رائے سے پیکا ایکٹ ترمیمی بل کی منظوری دیدی ،جے یوآئی اور صحافتی تنظیموں کی جانب سے بل کی شدید مخالفت ،پی ٹی آئی کے اکین اجلاس سے غیر حاضر رہے۔سوموار کو سینیٹ کی داخلہ کمیٹی کا چیئرمین فیصل سلیم کی صدارت میں اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا اجلاس میں کمیٹی اراکین کے علاوہ دیگر حکام نے شرکت کی اجلاس میں پیکا ایکٹ ترمیمی بل پیش کیا گیا اس موقع پر کمیٹی کے رکن سینٹر کامران مرتضیٰ نے کہاکہ بل اتنی جلدی میں کیوں منظور کیا جارہا ہے انہوں نے کہاکہ اس کم وقت میں تو قانون پڑھا ہی نہیں جاسکتا ہے تو اس پر مشاورت کیا ہوگی انہوں نے کہاکہ بل میں بہت سی کمزوریاں ہیں فیک نیوز کی تشریح نہیں ہے یہ کیسے فیصلہ ہوگا کہ فیک نیوز کیا ہے انہوں نے کہاکہ جو ایسے متنازعہ قوانین کی بنیاد رکھتا ہے وہی اس کی زد میں آجاتا ہے اس موقع پر چیرمین کمیٹی نے کہاکہ میں خود بھی فیک نیوز کا متاثر رہا ہوں انہوں نے کہاکہ روزانہ فیک نیوز کے خلاف مقدمات کریں تو صرف وکیلوں کو ہی ادائیگیاں کرتے رہیں گے رکن کمیٹی عرفان صدیقی نے کہاکہ بل کی روح سے ہمیں اتفاق ہے انہوں نے کہاکہ سوشل میڈیا کی صورت میں فیک نیوز کی بیماری کے علاج ضروری ہے انہوں نے کہاکہ میرے نام سے میرے کالم چھپ رہے ہیں ایف آئی اے کو کئی درخواستیں دیں لیکن سلسلہ نہیں رکا انہوں نے کہاکہ ہمیں صحافیوں کا تحفظ بھی کرنا ہے بہت اچھا ہوتا کہ بل سے پہلے صحافیوں سے مشاوت کی جاتی اگر قانون کا رخ صحافیوں کی طرف آئے گا تو ہم صحافیوں کے ساتھ کھڑے ہوں گے اجلاس میں اینکرز ایسوسی ایشن کے شہزاد اقبال نے سینٹ کمیٹی میں پیکا بل پر اعتراضات کرتے ہوئے کہاکہ ہمیں وقت نہیں دیا گیا کہ ہم اس بل پر تجاویز لاسکیں اس موقع پر اینکر ایسوسی ایشن کے امیر عباس نے کہاکہ اس بل میں بہت سی خامیاں ہیں اس بل کے نتیجے میں بہتری کی بجائے خرابی ہوگی

انہوں نے کہاکہ بل میں فیک نیوز کی تشریح بہت مبہم ہے انہوں نے کہاکہ ہم خود فیک نیوز کے متاثر ہیں فیک نیوز کے لئے قانون کے حامی ہیں لیکن موجودہ صورت میں بل ہمیں قبول نہیں ہے اجلاس کوسیکرٹری داخلہ نے بتایا یہ قانون لوگوں کے تحفظ کے لئے ہے انہوں نے کہاکہ حکومت کچھ ترامیم بھی لائی ہے تاکہ اس قانون کا بہتر اطلاق ہوسکے انہوں نے کہاکہ قومی اسمبلی سے منظور کردہ بل کو اسی صورت میں منظور کیا جائے۔ اس موقع پر سینیٹر عرفان صدیقی نے کہاکہ وزیر اطلاعات کے ساتھ صحافیوں کی ملاقات میں کچھ ترامیم پر اتفاق ہوا ہے چیرمین کمیٹی نے استفسار کیا کہ کیا وزارت داخلہ قومی اسمبلی سے منظور بل میں نئی ترامیم چاہتی ہے انہوں نے کہاکہ اس وقت بل میں ترامیم لینا مشکل ہوگا لیکن ہم چاہیں گے کہ صحافیوں کو سنا جائے تاکہ حکومت کو ہم اپنی رائے دے سکیں اجلاس میں صحافتی تنظیموں کی جانب سے بل پر مخالفت کی گئی ۔اس موقع پر چیرمین کمیٹی نے صحافتی تنظیموں سے اپنی تحریری سفارشات پیش نہ کرنے پر سوالات کرتے ہوئے کہاکہ صحافتی تنظیموں کو چاہئے تھا کہ اپنی تحریری سفارشات کمیٹی میں رکھتے ۔رکن کمیٹی عرفان صدیقی نے کہاکہ اس ملک میں کسی کو ہتھکڑیاں لگانے کیلئے ضروری نہیں کہ کسی قانون کی ضرورت ہو انہوں نے کہاکہ مجھے خود کرایہ داری کے قانون کے تحت پکڑا گیا تھا۔ اس موقع پر جے یو آئی کے رکن کمیٹی کامران مرتضی نے پیکا بل کی مخالفت کر دی جبکہ کمیٹی نے کثرت رائے کی بناء پر پیکا ترمیمی بل کی منظوری دے دی۔

اجلاس میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا خط چئیرمین کمیٹی سینیٹر فیصل سلیم الرحمن سمیت ارکان میں تقسیم کیا گیا جائنٹ ایکشن کمیٹی کے خط میں قانون منظور کرنے سے پہلے سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کی درخواست کی گئی تھی خط میں کہا گیا تھا کہ مجوزہ قانون میڈیا کے لیے ڈریکونین قانون ہے اجلاس کے دوران پیپلز پارٹی کی رکن کمیٹی پلوشہ خان نے خاموش رہ کر بل کی حمایت کی۔اجلاس میں اینکر ایسویسی ایشن کے رکن شہزاد اقبال نے کہاکہ ڈبل ریزولیوشن نہیں ہو سکتی ہے انہوں نے کہاکہ پیمرا کے چینلز کو اس دائرے میں لانا درست نہیں انہوں نے کہاکہ اتھارٹی تریبیونل اور کونسل کے ممبران حکومت نامزد کرے گی جس سے ان کے آزادانہ کام کرنا متاثر ہو گا اس موقع پر آر آئی یو جے کے سیکرٹری آصف بشیر چوہدری نے کہاکہ قانون پر شدید تحفظات ہیں تمام سٹیک ہولڈرز پر مشتمل جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو سنا جائے انہوں نے کہاکہ مجوزہ قانون فیئر ٹرائل کے اصولوں کے خلاف ہے شق وار اعتراضات کرنا چاہتے ہیں انہوں نے کہاکہ قانون کو کریمنلائز نہیں ہونا چاہیے یہ غلط پریکٹس ہو گی بل میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہیں منظوری سے قبل مشورت کی جائے جس پر چیرمین کمیٹی نے کہاکہ بل پر مشاورت کے لیے وقت نہیں ہے آج ہی اسے پاس کروانا ہے رکن کمیٹی کامران مرتضیٰ نے کہاکہ اگر بل پاس کیا گیا تو یہ بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہو گی انہوں نے کہاکہ بل میڈیا پر سنگین قدغنیں عائد کرتا ہے یہ بل پاس ہونے کے بعد میڈیا کی آزادی ختم ہو جائے گی چیرمین کمیٹی نے کہاکہ سینیٹر کامران مرتضی کی سفارشات پر بھی بحث نہیں کی جا سکتی رکن کمیٹی عرفان صدیقی نے کہاکہ یقین دلاتا ہوں کی بل میڈیا کے خلاف نہیں ہے انہوں نے کہاکہ یہ بل آج ہی پاس کرنا ہے انہوں نے کہاکہ بل میڈیا کے خلاف نہیں سوشل میڈیا کے غلط استعمال کرنے والوں کے خلاف ہے انہوں نے کہاکہ سوشل میڈیا کے گند کا لاوا پھٹ کر ہمارے گھروں میں آ چکا ہے انہوں نے کہاکہ اگر یہ قانون صحافیوں پر لاگو ہوا تو میں صحافیوں کے ساتھ ہوں گااجلاس میں جے یو آئی اے رکن کامران مرتضی کی ترامیم بھی مسترد کردی گئی۔۔۔

Comments are closed.