اسلام آباد(آن لائن) ایوان بالا نے اپوزیشن اور صحافیوں کے شدید احتجاج کے باوجود پیکا ایکٹ ترمیمی بل کثرت رائے سے منظور کر لیا،بل پیش کرنے کے موقع پر صحافیوں نے میڈیا گیلری سے واک آوٹ کیا،اپوزیشن لیڈر سینیٹر شبلی فراز نے صحافیوں سے مشاورت کے بغیر بل منظور کرنے پر حکومت پر تنقید کی۔منگل کو ایوان بالا میں وفاقی وزیر رانا تنویر خان نے پیکا ایکٹ ترمیمی بل 2025 پیش کیا جس پر اپوزیشن اراکین اپنی نشستوں پر کھڑے ہوگئے اور احتجاج شروع کیا اس موقع پر صحافیوں نے بھی پریس گیلری سے احتجاجاً واک آوٹ کیا اس موقع پر اپوزیشن لیڈر سینیٹر شبلی فراز نے کہاکہ یہ وقت گزر جائے گا اور یہ سب چیزیں یاد رکھی جائیں گی انہوں نے کہاکہ اس ایوان کے اقدار کو قربان کیا گیا انہوں نے کہاکہ آج تک چیرمین سینٹ کی جانب سے سینیٹر اعجاز چوہدری کے پروڈکشن آرڈر جاری نہیں ہوئے ہیں اور ااپ اس کے سہولت کار ہیں انہوں نے کہاکہ حکومت کا رویہ انتہائی غیر جمہوری ہے مجھے بات کرنے کا موقع نہیں دیا گیا انہوں نے کہاکہ اپوزیشن غلطیوں کی نشاندھی کرے گی انہوں نے کہاکہ قانون سازی اس ایوان کا بنیادی حق ہے اور ہمیں عوام نے اس ایوانوں میں عوام کے مفاد کیلئے بھیجا ہے انہوں نے کہاکہ جب اس ایوان میں آزادی صلب کی جائے تو اس سے کیا ہوگا انہوں نے کہاکہ جب قانون میں کوئی ترمیم ہوتی ہے یا نیا قانون لایا جاتا ہے تو اس کا مطلب دیکھا جاتا ہے انہوں نے کہاکہ اس بل کا مقصد بنیادی طور پر ایک سیاسی جماعت کو دبانا ہے انہوں نے کہاکہ دیگر ممالک میں قوانین بننے میں وقت لگتا ہے اگر یہ قانون آج منظور ہوا تو آج سے ہی نافذ العمل ہوگا انہوں نے کہاکہ اس سے سیاسی انتقام میں اضافہ ہوگا انہوں نے کہاکہ اس بل پر صحافیوں کے ساتھ بھی کوئی مشاورت نہیں کی گئی ہے انہوں نے کہاکہ قانون ایسے منظور نہیں ہوتے ہیں اس پر بہت وقت صرف ہوتا ہے انہوں نے کہاکہ صحافیوں کا حق بنتا ہے کہ وہ احتجاج کریں انہوں نے کہاکہ اس قانون کے نقصانا ت ہیں انہوں نے کہاکہ یہ قانون برائے اصلاح نہیں بلکہ قانون برائے سزا ہے انہوں نے کہاکہ ہم نے اس بل کے حوالے سے اپنا اختلاف کیا ہے ہم چاہتے ہیں کہ اس پر بحث ہو اور اس میں جو ترامیم آئی ہیں اس کو بھی زیر بحث لایا جائے انہوں نے کہاکہ ہماری نئی نسل کے سوچ کا طریقہ مختلف ہے اس ملک کی اکثریت نوجوانوں پر مشتمل ہے ان کے ذہنوں میں سوالات ہیں انہوں نے کہاکہ ہماری سوچ اور زبان پر قدغن ہے یہ معاشرہ کیسے آگے بڑھے گا انہوں نے کہاکہ ہمیں اپنے نوجوانوں کے سوالات کا جواب دینا ہوگا انہوں نے کہاکہ ایسے قوانین ملک کو پیچھے لے جائیں گے انہوں نے کہاکہ ایسے قوانین کو منظور کرنا انتہائی غیر ذمہ داری ہے اس پر پورے معاشرے سے رائے لینی چاہیے اس موقع پر سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہاکہ میں اس بل میں ترامیم پیش کی تھی جو کمیٹی کو بھجوائی گئی تھی مگر کمیٹی نے نہ تو ان ترامیم کو منظور کیا ہے اور نہ ہی مسترد کیا ہے انہوں نے کہاکہ یہ رپورٹ نامکمل ہے اور اس کو دوبارہ کمیٹی کے پاس بھجوایا جائے جس پر ڈپٹی چیرمین نے کہاکہ کمیٹی نے ترامیم کو مسترد کردیا تھا جس کا زکر رپورٹ میں موجود ہے اس موقع پر سینیٹر افنا ن اللہ نے کہاکہ شخص جس کو سزا ہوئی ہے اس کی تصویر ایوان میں لائی جارہی ہے اس پر رولنگ دیں اس موقع پر ڈپٹی چیرمین نے بل پر اراکین سے شق وار رائے لینے کے بعد کثرت رائے کی بنیاد پر منظور کر لیا اس موقع پر وفاقی وزیر رانا تنویر خان نے کہاکہ اپوزیشن لیڈر نے بھی بل کی حمایت کی ہے تاہم انہوں نے مخالفت برائے مخالفت کی ہے انہوں نے کہاکہ یہ بل قومی اسمبلی اور سینیٹ کی کمیٹیوں سے منظور ہوا ہے انہوں نے کہاکہ اس قانون میں بہتری لائی جاسکتی ہے یہ کوئی قرآنی صحیفہ نہیں ہے انہوں نے کہاکہ صحافیوں کو یقین دلاتا ہوں کہ اس قانون کا پرنٹ اور الیکٹرانیک میڈیا کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے یہ صرف سوشل میڈیا کیلئے بنایا گیا ہے انہوں نے کہاکہ اگر حکومت ایک بہتری کی سمت جارہی ہے تو اس کو سراہنا چاہیے انہوں نے کہاکہ سارے قوانین کا غلط استعمال ہوتا ہے تاہم اس کی وجہ سے قوانین کو ختم نہیں کیا جاتا ہے انہوں نے کہاکہ جو بھی سوشل میڈیا پر بہتر کام کرے گا اس کو خوش آمدیدکتہے ہیں مگر جو بھی غلط کام کرے گا اس کے خلاف اقدامات اٹھائے جائیں گے اس موقع پر اپوزیشن لیڈر سینیٹر شبلی فراز نے کہاکہ ہم اس بل کی مخالفت کرتے ہیں انہوں نے کہاکہ معاشرے میں غلط خبروں کی کوئی بھی حمایت نہیں کرتا ہے انہوں نے کہاکہ صحافیوں نے بھی احتجاج کیا ہے حکومت نے جلد بازی میں یہ قانون منظور کرایا ہے انہوں نے کہاکہ اس حوالے سے جو بھی کیسز ہونگے اس کیلئے نہ تو ججز تیار ہیں اور نہ ہی وکیل تیار ہیں اور کسی بھی عدالت سے ریلیف نہیں مل سکے گاسینیٹر علی ظفرنے کہاکہ اس بل پر کسی کو بات کرنے کی بھی اجازت نہیں دی گئی اور نہ ہی اس بل پر کوئی بحث نہیں کی گئی ہے انہوں نے کہاکہ ہم اپوزیشن کے ساتھ اس روئیے کی شدید مذمت کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔اعجاز خان
Comments are closed.