اسلام آباد(آن لائن) ایوان بالا میں وزیر ہوائی بازی خواجہ آصف نے بتایا ہے کہ چترال سمیت ملک کے دور دراز ائیرپورٹس پر فلائٹس جلد ہی بحال کر دی جائیں گے انہوں نے کہاکہ پی آئی اے کی نجکاری کے حوالے سے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔منگل کو ایوان بالا میں پی ٹی آئی کی سینیٹر فلک ناز نے ضمنی سوال کرتے ہوئے کہاکہ چترال کیلئے فلائٹس معطل کی گئی ہیں اس کی کیا وجہ ہے انہوں نے کہاکہ سردیوں میں لواری ٹاپ کی بندش کی وجہ سے عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے انہوں نے کہاکہ اس حوالے سے پی آئی اے حکام سے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ ہمارے پاس صرف ایک ہی اے ٹی آر جہاز ہے جو دوسرے روٹس پر جاتا ہے انہوں نے کہاکہ چترال کی سڑکیں خراب ہیں اس موقع پر وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہاکہ چترال ائیرپورٹ فنکشن ہے تاہم پی آئی اے کے پاس اے ٹی آر جہاز صرف تین ہیں جن میں دو اپریشنل جبکہ ایک گراؤنڈڈ ہے انہوں نے کہاکہ چترال سمیت دور دراز علاقوں میں فلائٹس کی بحالی کی کوششیں کر رہے ہیں انہوں نے کہاکہ پی آئی اے کی حالت زار سب کے سامنے ہے اس وقت دیگر ائیرلائنز کے ساتھ بھی بات چیت جاری ہے اور چترال سمیت دیگر چھوٹے سٹیشنز پر بھی جہازوں کی آمد و رفت کو یقینی بنائیں گے
انہوں نے کہاکہ اس وقت اس حوالے سے کوئی حتمی بات نہیں کر سکتا ہوں تاہم آنے والے دنوں میں اپریشن بحال ہوجائیں گے اس موقع پر سینیٹر فلک ناز چترالی نے کہاکہ یہ بہت اہم معاملہ ہے اس کو کمیٹی کے سپرد کردیا جائے انہوں نے کہاکہ چترال کی سڑکیں برف باری کی وجہ سے بند ہے عوام کو شدید مشکلات کاسامنا ہے جس پر وفاقی وزیر خواجہ آصف نے کہاکہ اس وقت ہمارے پاس اے ٹی آر جہاز صرف دو ہیں اور نئے جہاز ملنے کے بعد چترال کے روٹ کو بحال کریں گے سینیٹر شاہ زیب درانی نے کہاکہ چترال کے ائیرپورٹ کو بڑے جہازوں کیلئے کیوں نہیں بنایا جارہا ہے جس پر وفاقی وزیر نے کہاکہ چترال ائیرپورٹ کی فزیبیلیٹی دیکھنے کے بعد ہی فیصلہ ہوسکتا ہے کہ کونسے جہاز وہاں پر اتر سکتے ہیں سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہاکہ ایٹمی ملک کے پاس صرف تین اے ٹی آر ہیں اور اس میں ایک گراؤنڈ ہوچکا ہے انہوں نے کہاکہ سندھ کے موہنجو دڑو ائیرپورٹ کیلئے فلائٹس بند ہیں یہ کب سٹارٹ ہونگی انہوں نے کہاکہ پی آئی اے کی نجکاری نہیں ہورہی ہے اگر حکومت سے نہیں چل رہی ہے تو اس کو مفت کسی کو دیدیں انہوں نے کہاکہ اے ٹی آر کے سپیر پارٹس کب تک آئیں گے جس پر وفاقی وزیر دفاع نے کہاکہ جو حقیقت ہے وہ بتا دی ہے
انہوں نے کہاکہ پی آئی اے پر پابندیوں کی وجہ سے بہت نقصان ہوا اور یہ روٹس آہستہ آہستہ کھل رہے ہیں انہوں نے کہاکہ اس وقت پی آئی اے بہتری کی جانب گامزن ہے تاہم ابھی توقعات پوری نہیں ہوسکتی ہیں انہوں نے کہاکہ چھوٹے روٹس کو سبسڈائیز کریں گے انہوں نے کہاکہ اس وقت پورے ملک میں 25سے زیادہ ائیرپورٹس غیر فعال ہیں اب پی آئی اے کی نجکاری کے بعد تمام روٹس بحال کئے جائیں گے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے ضمنی سوال کرتے ہوئے کہاکہ گوادر سے مسقط کا پی آئی اے کا کرایہ زیادہ ہے جبکہ اس کے مقابلے میں اسلام آباد تا پیرس کرایہ کم ہے اس کی کیا وجہ ہے جس پر وفاقی وزیر دفاع نے کہاکہ گوادر ائیرپورٹ سے فلائٹس شروع ہوگئی ہیں اور ایک فلائٹ شارجہ گئی ہے انہوں نے کہاکہ سوال کا پورا جواب نہیں دیا گیا ہے اس کی انکوائری کرکے ایوان کو اگاہ کریں گے۔۔۔۔اعجاز خان
Comments are closed.