حکومتی کمیٹی اور تحریک انصاف میں ڈیڈ لاک برقرار،اجلاس بغیر کسی نتیجے کے ختم

مذاکراتی کمیٹی برقرار،امید ہے دونوں فریقین مذاکرات جاری رکھیں گے،ایاز صادق
پوری تیار ی کے ساتھ آئے تھے ،اپوزیشن آتی تو جواب دیتے ،جو راستہ وہ سڑک کے ذریعے نکالنا چاہتے ہیں وہ نہیں نکلے گا ،اس سے ان کا اور جمہوریت کا نقصان ہوگا،اسحاق ڈار،عرفان صدیقی ،رانا ثناء اللہ
اسلام آباد (آن لائن)تحریک انصاف کی عدم شرکت کے باعث مذاکراتی کمیٹی کا اجلاس بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوگیا ،حکومتی کمیٹی اور تحریک انصاف میں ڈیڈ لاک برقرار ہے ،سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق 55 منٹ تک تحریک انصاف کے اراکین کا انتظار کرتے رہے ،ٹیلی فونک رابطوں اور پیغامات بھجوانے کے باوجود اپوزیشن مذاکراتی کمیٹیوں میں نہیں آئی جس پر اجلاس ختم کر دیا گیا

،نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ اپوزیشن رابطے کی صورت میں اب سپیکر اگلی میٹنگ طے کریں گے جبکہ سپیکر قومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ وہ امید رکھتے ہیں کہ دونوں کمیٹیاں مذاکرات جاری رکھیں گی ،ابھی تک مذاکراتی کمیٹی برقرار ہے ۔منگل کو پارلیمنٹ ہاؤس میں حکومتی کمیٹی کے اراکین کا اجلاس کمیٹی روم نمبر 5 میں ہوا جس کی صدارت سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کی لیکن اپوزیشن کے بائیکاٹ کے باعث کمیٹی اجلاس کی کارروائی آگے نہ بڑھ سکی ،50 سے55 منٹ تک کمیٹی اراکین نے تحریک انصاف کے اراکین کا انتظار کیا ،جوائنٹ سیکرٹری کو اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کے چیمبر بھی بھجوایا گیا جہاں پر تحریک انصاف کے اراکین موجود تھے لیکن انہوں نے اجلاس میں شرکت سے انکار کر دیا ۔جس پر اجلاس ختم کر دیا گیا

،اس موقع پر میڈیا سے گفتگو میں سپیکر نے کہا کہ پچھلی میٹنگ میں فیصلہ ہوا تھا کہ سات روز بعد حکومتی کمیٹی جواب دے گی ،ہم نے تمام اراکین سے رابطہ کیا تھا اور کسی نے بھی نہیں کہا کہ وہ اجلاس شرکت نہیں کریں گے ،ہم نے سیکرٹری ٹو اپوزیشن لیڈر کو پیغام بھیجا لیکن بتایا گیا کہ اپوزیشن لیڈر مصروف ہیں ،بطور سپیکر میرے دروازے اب بھی کھلے ہیں اور امید رکھتا ہوں کہ دونوں کمیٹیاں مذاکرات جاری رکھیں گی ،آج کی میٹنگ غیر رسمی تھی ،نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ ہم اجلاس میں آئے ہیں ،جواب لیکر ہی آئے گی ،ہماری خواہش تھی کہ اپوزیشن والے آتے ،قانون اور آئین میں رہ کر مسائل کا حل نکلتا ہے ،126 دن کا دھرنا بھی مذاکرات سے ختم ہوا،تحریک انصاف کا رویہ مناسب نہیں ہے،وہ اب بھی امید کرتے ہیں کہ تحریک انصاف سپیکر سے رابطہ کرے گی اور مذاکرات کی میز پر آئیگی ۔وزیر اعظم کے مشیر رانا ثنااللہ نے کہا کہ تحریک انصاف کا رویہ افسوسناک ہے ،عمران خان کا رویہ ،ہٹ دھرمی پر مبنی ہے جبکہ نواز شریف نے ہمیشہ مذاکرات پر ہی یقین رکھا ہے،ہم نے لچک دکھائی ہے لیکن دوسری طرف سے ایسا نہیں کیا جاتا ،پارلیمانی جمہوری نظام مذاکرات سے آگے چلتا ہے ڈیڈ لاک سے نہیں ۔جو راستہ وہ سڑک کے ذریعے نکالنا چاہتے ہیں وہ نہیں نکلے گا اس سے ان کا اور جمہوریت کا نقصان ہوگ

ا ،ایک غلطی انہوں نے25 نومبر کو کی اور شنگجانی میں جلسے سے انکار کیا اور ایک غلطی انہوں نے آج مذاکرات سے باہر نکل کر کی ہے ۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت 2029 تک برقرار رہے گی اور اسے کوئی خطرہ نہیں ہے ،تحریک انصاف عدم استحکام لانا چاہتی ہے جبکہ ہم استحکام کے لئے کوشاں ہیں،مذاکراتی کمیٹی کے ترجمان عرفان صدیقی نے کہا کہ ہم نے اپنا جواب تیا رکرلیا ہے، پوری تیاری کے ساتھ آئے تھے لیکن بیرسٹر گوہر نے کل کہا کہ مذاکراتی کمیٹی کے اجلاس میں نہیں آئیں گے ،پی ٹی آئی آتی تو جواب سے آگاہ کرتے ،ان کے نہ آنے کی صورت میں کمیٹی بے مقصد ہو جائے گی ۔

Comments are closed.