فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت‘وزارت دفاع نے ملٹری ٹرائل کا ریکارڈ آئینی بینچ میں پیش کردیا
اسلام آباد(آن لائن)سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت کے دوران وزارت دفاع نے ملٹری ٹرائل کا ریکارڈ آئینی بینچ میں پیش کردیاجس کاآئینی بنچ ارکان نے جائزہ لینے کے بعدواپس کردیا۔ جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ آج کل ہمارا ملک اتنا ٹرینڈ ہوچکا ہے کہ 8 ججز کے فیصلے کو 2 لوگ بیٹھ کے کہتے ہیں کہ غلط ہے۔ نارکوٹکس کا پوراکنٹرول فوج کے پاس ہے،نارکوٹکس میں ٹرائل چلانا ہوتا ہے تو متعلقہ چیف جسٹس سے سیشن جج مانگا جاتا ہے،کیا ملٹری کورٹس میں ایسا ہوتا ہے۔ پہلے مجسٹریٹ اور کمشنر وغیرہ بھی ٹرائل کرتے تھے تو قتل کیس میں سزا دی جاتی تھی، جب کہا جاتا تھا کہ اس میں شہادتیں نہیں تو سزا کیسی تو کہا تھا جاتا قتل تو ہوا ہے، پروسیجر اور شفاف ٹرائل کا موقع تو فراہم ہونا چاہیے۔جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ میرے ذہن میں جو سوال بنتا ہے وہ میں کروں گی کسی کو اچھا لگے یا برا۔انھوں نے یہ ریمارکس بدھ کے روزدیے ہیں۔جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 7 رکنی آئینی بینچ نے سماعت کی۔وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث نے آرمی ایکٹ کے تحت ملٹری ٹرائل کے طریقہ کار پر دلائل دیتے ہوئے موٴقف اپنایا کہ جج ایڈووکیٹ جنرل حلف اٹھاتا ہے کہ غیر جانبداری کو برقرار رکھے گا، سپریم کورٹ اس سماعت میں ہر کیس کا انفرادی حیثیت سے جائزہ نہیں لے سکتی۔انہوں نے استدلال کیا کہ سپریم کورٹ کے سامنے آرٹیکل 184 کی شق تین کا کیس عدالت کے سامنے نہیں ہے، جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ ملٹری ٹرائل کس بنیاد پر چیلنج ہو سکتا ہے، وکیل وزارت دفاع نے کہا کہ مجاز عدالت نہ ہو، بدنیتی پر مشتمل کارروائی چلے یا اختیار سماعت سے تجاوز ہو تو ٹرائل چیلنج ہو سکتا ہے، اگر ملٹری ٹرائل میں کوئی ملزم اقبال جرم کرلے تو اسے اسلامک قانون کے تحت رعایت ملتی ہے۔جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ اقبال جرم تو مجسٹریٹ کے سامنے ہوتا ہے
، وکیل وزارت دفاع نے کہا کہ وہ معاملہ الگ ہے، جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ اگر ملٹری ٹرائل میں کوئی ملزم وکیل کی حیثیت نہ رکھتا ہو کیا اسے سرکاری خرچ پر وکیل دیا جاتا ہے۔وکیل وزارت دفاع نے موٴقف اپنایا کہ وکیل کرنے کی حیثیت نہ رکھنے والے ملزم کو سرکاری خرچ پر وکیل دیا جاتا ہے، جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ عام طور پر تو ملزم عدالت کا فیورٹ چائلڈ ہوتا ہے، کیا ملٹری کورٹ میں بھی ملزم کو فیورٹ چائلڈ سمجھا جاتا ہے۔وکیل وزارت دفاع نے کہا کہ آرمی ایکٹ کے رولز کے تحت ملزم کو مکمل تحفظ دیا جاتا ہے، جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ میں نے بطور چیف جسٹس بلوچستان ملٹری کورٹس کے فیصلے کیخلاف اپیلیں سنی ہیں، ایسا نہیں ہوتا محض ملٹری کورٹس کے فیصلے میں صرف ایک سادے کاغذ پر لکھ دیا جائے کہ ملزم قصور وار ہے یا بے قصور ہے، جب رٹ میں ہائی کورٹس میں اپیل آتی ہے تو جی ایچ کیو پورا ریکارڈ فراہم کرتا ہے۔جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ ریکارڈ میں پوری عدالتی کارروائی ہوتی ہے، جس میں شواہد سمیت پورا طریقہ کار درج ہوتا ہے، آپ 9 مئی کے مقدمات سے ہٹ کر ماضی کے ملٹری کورٹس کے فیصلے کی کچھ مثالیں بھی پیش کریں۔جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ غیر ملکی جاسوسوں کے علاوہ اگر کسی عام شہری کا ملٹری ٹرائل ہو تو کیا وہاں صحافیوں اور ملزم کے رشتہ داروں کو رسائی دی جاتی ہے، وکیل وزارت دفاع خواجہ حارث نے جواب دیا کہ قانون میں رشتہ داروں اور صحافیوں کو رسائی کا ذکر تو ہے لیکن سیکیورٹی وجوہات کے سبب رسائی نہیں دی جاتی۔جسٹس محمد علی مظہر سوال اٹھایا کہ اگر ٹرائل میں کوئی غلطی رہ گئی ہو تو کیا اپیل میں اس غلطی کی نشاندہی کی وجہ سے ملزم کو فائدہ ملتا ہے، خواجہ حارث نے جواب دیا کہ اپیل کا حق دیا گیا ہے اور اس کی تمام پہلو دیکھے جاتے ہیں۔جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ کیا رٹ میں اتنا اختیار ہے کہ پروسیجر کو دیکھا جائے کہ اسے مکمل فالو کیا گیا یا نہیں، خواجہ حارث نے کہا کہ تمام پروسیجر فالو ہوتا ہے، جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ رٹ میں کوئی ایسی اتھارٹی تو ہو جو پروسیجر کو دیکھ سکے اور اسکا جائزہ لے،
زندگی کسی کی بھی ہو انتہائی اہم ہوتی ہے، جج پر بھی تو منحصر ہوتا ہے کہ وہ ٹرائل کیسے چلاتا ہے۔جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ اپیل میں اپیل کنندہ کو کیا مکمل موقع دیا جاتا ہے، خواجہ حارث نے کہا کہ رولز 63 میں ملٹری کورٹ کے پرائزئڈنگ آفسر کہ ذمہ داریاں دی گئی ہیں، انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنا اور شفاف ٹرائل کا موقع دینا اسکی ذمہ داری میں شامل ہے، حلف لینے کے بعد آرمی ایکٹ کے تحت ٹرائل کرتے ہیں۔جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ ملٹری کورٹ کے جو پرائزئینڈنگ افسر ہوتے ہیں، کیا وہ مکمل تجربہ کار ہوتے ہیں یا کسی کو بھی یہ ذمہ داری دے دی جاتی ہے، خواجہ حارث نے جواب دیا کہ تجربہ ضروری نہیں لیکن ملٹری ایکٹ پر عبور رکھتے ہوں۔جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ پہلے مجسٹریٹ اور کمشنر وغیرہ بھی ٹرائل کرتے تھے تو قتل کیس میں سزا دی جاتی تھی، جب کہا جاتا تھا کہ اس میں شہادتیں نہیں تو سزا کیسی، تو کہا جاتا قتل تو ہوا ہے، پروسیجر اور شفاف ٹرائل کا موقع تو فراہم ہونا چاہیے۔خواجہ حارث نے کہا کہ ملٹری ٹرائل کرنے والوں کو اسکی کوئی خاص ٹریننگ کی ضرورت نہیں ہوتی، انہوں نے صرف حقائق دیکھنے ہوتے ہیں کہ یہ قصوروار ہے کہ نہیں۔جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ آجکل ہمارا ملک اتنا ٹرینڈ ہوچکا ہے کہ 8 ججز کے فیصلے کو دو لوگ بیٹھ کے کہتے ہیں کہ غلط ہے۔خواجہ حارث نے کہا کہ سوشل میڈیا کی تو بات نہ کریں وہاں کیا کچھ نہیں ہو رہا، سوشل میڈیا پر کچھ لوگ بیٹھ کر اپنے آپ کو سب کچھ سمجھتے ہیں، ان کا کام ہے انکو کرنے دیں ہمیں انکی ضرورت نہیں۔جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیے کہ افسوس ہے کہ سوشل میڈیا پر ایسے تاثر دیا جاتا ہے کہ جیسے ہم کسی سیاسی پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں، میرا تعلق خیبرپختونخوا سے ہے میں ملٹری ٹرائل پر اس کے اثرات کہ وجہ سے سوال کرتی ہوں، لیکن افسوس میرے ان سوالات کی وجہ سے مجھے سیاسی پارٹی سے جوڑ دیا جاتا ہے۔اس موقع پر سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت میں وقفہ کردیا۔وقفے کے بعد سماعت دوبارہ شروع ہوئی تووزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث نے سفید کاغذی لفافوں میں ملٹری ٹرائل کا ریکارڈ آئینی بنچ میں پیش کردیا، ملٹری ٹرائل کی سات کاپیاں آئینی بنچ کے ساتوں ججز کو دی گئیں۔وکیل وزارت دفاع خواجہ حارث نے کہا کہ عدالت ٹرائل کا طریقہ کار دیکھ لے، ٹرائل سے قبل پوچھا گیا کسی کو لیفٹیننٹ کرنل عمار احمد پر کوئی اعتراض تو نہیں، کسی نے بھی اعتراض نہیں کیا۔جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ یہ ریکارڈ تو اپیل میں دیکھا جانا ہے، ہمارے لیے اپیل میں اس ریکارڈ کا جائزہ لینا مناسب نہیں، ہم ٹرائل کو متاثر نہیں ہونگے دیں گے۔آئینی بنچ کے 6 ججز نے ٹرائل کا ریکارڈ وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث کو واپس کردیا، جسٹس محمد علی مظہر نے ریکارڈ دیکھنے کے بعد واپس کردیا۔ جسٹس مسرت ہلالی پیش کردہ ریکارڈ کا جائزہ لیا۔
خواجہ حارث نے کہاکہ جسٹس عائشہ ملک نے اپنے فیصلے میں ایک نکتے سے اختلاف کیا ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہاکہ پاکستان میں عدالتیں آرٹیکل 175اے کے تحت بنی ہیں،کوئی ہٹ کر فیصلہ دے تو دائرہ اختیار کیا ہو گا؟ہمیں کسی کی ذات پر کوئی شک نہیں، ہونا بھی نہیں چاہئے،جسٹس مسرت ہلالی نے کہاکہ پولیس ایف آئی آر میں تام سیکشنزپاکستان پینل کوڈ کے تحت آتے ہیں،میراجوسوال بنتا ہے وہ میں کروں گی کسی کو اچھا لگے یا برا۔کھوسہ صاحب یہ کوئی طریقہ نہیں ہے آپ اپنی باری پر بات کیجئے گا۔اس دوران خواجہ حارث نے 9 مئی کے ملزمان میں سے ایک ملزم کے ملٹری ٹرائل کا ریکارڈ پیش کر دیا۔خواجہ حارث نے کہا کہ ملٹری ٹرائل میں تمام قانونی تقاضے پورے کیے گئے ہیں۔آئینی بنچ کے ججز نے ملٹری ٹرائل کا ریکارڈ دیکھ کر فائلیں واپس کر دیں، لیکن جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی نے ملٹری ٹرائل کی فائل رکھ لی۔جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ہم ابھی ریکارڈ دیکھ رہے ہیں کچھ دیر بعد فائل واپس کردیں گے۔خواجہ حارث نے کہا کہ ٹرائل سے قبل پوچھا گیا کہ کسی کو لیفٹیننٹ کرنل عمار احمد پر کوئی اعتراض تو نہیں، کسی نے بھی آفیسر پر اعتراض نہیں کیا۔جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ یہ ریکارڈ تو اپیل میں دیکھا جانا ہے، ہمارے لیے اس ریکارڈ کا جائزہ لینا مناسب نہیں۔جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ ہم ٹرائل پر متاثر نہیں ہوں گے۔آئینی بنچ کے 6 ججز نے ٹرائل کا ریکارڈ وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث کو واپس کردیا، جسٹس محمد علی مظہر نے ریکارڈ دیکھنے کے بعد واپس کردیا۔لطیف کھوسہ نے کہا کہ اگر ملٹری ٹرائل اتنا ہی اچھا ہے تو پھر سارے کیسز ان کو ہی بھجوا دیں۔خواجہ حارث نے کہا کہ ملٹری کورٹ میں عوامی سماعت ہوتی ہے پبلک ہیرنگ کا مکمل موقع دیا جاتا ہے، آزادانہ اور غیرجانبدرانہ ٹرائل ہوتا ہے، آرٹیکل 175 اے میں کہا گیا ہے عدالت کو آزاد ہونا چاہیے، ملٹری کورٹس بھی آزاد ہوتی ہیں۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ہمیں کسی پر شک نہیں کرنا چاہیے شرعی طور پر بھی شک کرنا درست نہیں
، انصاف صرف ہونا نہیں چاہیے بلکہ ہوتا ہوا بھی نظر آنا چاہیے۔خواجہ حارث نے کہا کہ جسٹس عائشہ ملک نے اپنی ججمنٹ میں ایک پوائنٹ سے اختلاف کیا ہے۔جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ ایف آئی آر میں تمام سیکشنز پی پی سی کے نیچے آتے ہیں، ریکارڈ کے مطابق گواہ کہہ رہا ہے کہ وہ چشم دید گواہ بھی نہیں۔وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ 9 ملزمان میں سے سات چشم دید گواہ ہیں، آپ اتنی تفصیل سے ملٹری کورٹس کی دستاویزات دیکھ رہی ہیں کل کو اپیل آپ کے پاس آنی ہیں، آپ کو کیس کے میرٹ سے متعلق سوال نہیں پوچھنے چاہئیں یہ معاملہ ابھی آپ کے پاس آنا باقی ہے۔جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ میرے ذہن میں جو سوال بنتا ہے وہ میں کروں گی کسی کو اچھا لگے یا برا۔جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ ملٹری ٹرائل کرنے والا جج تو اتھارٹیز کے ماتحت ہوتا ہے۔ خواجہ ھارث نے کہا کہ اگر کوئی شواہد ہیں تو بات کریں محض تاثر پر اعتراض نہیں اٹھایا جاسکتا۔ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ نہ مجھے کسی پر کوئی شک ہے نہ اعتراض ہے، سوال یہ ہے کہ ملٹری کورٹس میں ٹرائل کرنے والے کون ہیں اس لیے پوچھا۔جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ آپ کی جانب سے پیش کردہ ریکارڈ کا جائزہ لیا، میں بہت تفصیل میں نہیں گیا، 9 مئی واقعات میں بظاہر سکیورٹی آف سٹیٹ کا معاملہ نہیں لگتا، 9 مئی واقعات کے ملزمان کا ملٹری ٹرائل بہت تفصیل سے چلایا گیا، کیا یہ ممکن نہیں کہ یہ تمام ریکارڈ پبلک کردیا جائے تاکہ پبلک ان ملزمان کی مذمت کرسکے، 9 مئی واقعات کے ملزمان نے جو کارنامے سرانجام دیئے وہ عوام میں بے نقاب ہونے چاہئیں۔بعدازاں عدالت نے سماعت آج جمعرات تک کے لیے ملتوی کردی۔
Comments are closed.