وکلا برادری نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں تین مختلف ہائی کورٹس سے بتادلے کے ذریعے بھجوائے گئے ججزکومسترد کردیا، ہڑتال کا اعلان
وکلاء برادری مختلف ہائی کورٹس سے ججزکے تبادلے کومستردکر تی ہے ،اورپیر کوہڑتال کااعلان کرتی ہے ،پیر کو کوئی وکیل کسی بھی عدالت میں پیش نہیں ہو گا یہ ٹرانسفرز عدلیہ میں تقسیم اور بدنیتی پر مبنی ہیں ،پریس کانفرنس
اسلام آباد(آن لائن )وکلا برادری نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں تین مختلف ہائی کورٹس سے بتادلے کے ذریعے بھجوائے گئے ججزکومستردکرتے ہوئے ہڑتال کااعلان کردیاہے اتوار کومختلف صوبوں سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں ججز کی ٹرانسفرز کا معاملہ پراسلام آباد بار کونسل، اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن، ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کی مشترکہ پریس کانفرنس میں کہاہے کہ وکلاء برادری مختلف ہائی کورٹس سے ججزکے تبادلے کومستردکر تی ہے ،اورپیر کوہڑتال کااعلان کرتی ہے ،پیر کو کوئی وکیل کسی بھی عدالت میں پیش نہیں ہو گا یہ ٹرانسفرز عدلیہ میں تقسیم اور بدنیتی پر مبنی ہیں ،علیم عباسی ایڈوکیٹ چیئرمین اسلام آباد بار کونسل نے میڈیاکوبتایاکہ ہماری میٹنگ میں اسلام ہائیکورٹ ڈسٹرکٹ اور ہائیکورٹ کے تمام نمائندے موجود ہی تھے اور بتایاکہ اس ہنگامی پریس کانفرنس کا مقصد،وزرات قانون نے تین ججز کی اسلام آباد میں ٹرانسفر کاکیاجاناہے
،انھوں نے کہاکہ میٹنگ میں فیصلہ ہوا ہے کہ وکلاء برادری ان ٹرانسفر کو رد کرتی ہے ،وکلاء اس عمل کا بھرپور مخالفت کریں گی ،پیر کو گیارہ بجے ڈسٹرکٹ کورٹ جی الیون میں ملک گیر کنونیشن منعقد کرنے جا رہے ہیں ،پیر کو اسلام آباد میں وکلاء مکمل ہڑتال کا اعلان کرتے ہیں ،پاکستان بھر کے وکلاء سے اپیل کی ہے آپ بھی ہمارا ساتھ دیں ،صوبائی بار کونسل سے بھی اپیل کرتے ہیں احتجاج میں ہمارا ساتھ دیں، دس تاریخ کو 8 ججز کی تعیناتی کے لئے اجلاس بدنیتی پر مبنی ہے ،اس اقدام سے جوڈیشری مزید تقسیم ہوگی ،ہمارا مطالبہ ہے کہ اس اجلاس کو ملتوی کیا جائے ،ہمیں ان سیاسی جماعتوں پر اعتبار نہیں ہے اپنی لڑائی خود لڑیں گے ،سندھ ہائیکورٹ میں جیالے بھرتی کئے گئے لاہور ہائیکورٹ میں ایسا ہوگا ،ایک جج صاحب کی دس دن پہلے اپائنمنٹ ہوئی ایک کی ڈیڑھ سال پہلے ہوئی ،ان ججز کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں لایا جارہا ہے،اگر صوبائی نمائندگی مقصد ہوتی تو اسلام آباد میں تمام صوبوں کے لوگ موجود ہیں ،حکومت وقت اور اپوزیشن جماعتوں کی بھی مزمت کرتے ہیں ،26 وی ترمیم کے بارے میں لکھا جائے گا کہ یہ اتفاق رائے سے منظور کی گئی ہے
،پی ٹی آئی نے اس ترمیم کے خلاف کیا کیا۔جوڈیشل کمیشن اجلاس بھی بدنیتی پر بلایا گیا، 26 آئینی ترمیم کے خلاف تمام درخواستوں کو فل فور سنا جائے۔علیم عباسی ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ سولہ رکنی فل کورٹ پہلے آئینی ترمیم پر فیصلہ کرے، دس فروری کا اجلاس بدنیتی پر مبنی ہے اس اجلاس کو فل فوری منسوخ کیا جائے، یہ وکلاء کی لڑائی نہیں یہ ملک میں رول آف لاء اور عدلیہ کی آزادی کی لڑائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ان سیاسی جماعتوں پر اعتماد نہیں ان لوگوں پر اعتبار نہیں ہے، چھبیسویں آئینی ترمیم کے خلاف جہدوجہد وکلا نے کرنی ہے، ہم اس حکومت وقت اور اس اتحاد کیساتھ اسٹبلشمنٹ کو باور کروانا چاہتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ آئینی ترمیم کے بعد ججز کی تعیناتی دیکھ لیں، سندھ ہائیکورٹ میں سارے جیالے بھرتی کر لیے گئے، لاہور ہائیکورٹ میں بھی یہی کچھ ہوگا۔
Comments are closed.