پر امن احتجاج پر کوئی اعتراض نہیں، ایک اور نومئی یا چھبیس نومبر دہرانے کی قطعا اجازت نہیں دی جائے گی، خواجہ آصف
سیالکوٹ (آن لائن) وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پر امن احتجاج پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں تاہم ایک اور نومئی یا چھبیس نومبر دہرانے کی قطعا اجازت نہیں دی جائے گی ، چیمپئینز ٹرافی کے انعقاد کے موقع پر پی ٹی آئی کا احتجاج ملکی ساکھ کو نقصا ن پہنچا نے کی کوشش ہے ۔ تحریک انصاف اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان مذاکرات میں کوئی حقیقت نہیں ۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوے انہوں نے کہا کہ انتشاری ٹولہ ایک بار پھر چیمپئینز ٹرافی جیسے عالمی ایونٹ کو سبوتاژ کرنے کے پر تول رہا ہے۔ ایس سی ا و کانفر نس کے دوران بھی انہوں نے انتشاری ڈ رامہ کیا ۔ کسی بھی عالمی ایونٹ کی توقیر میں کمی کرنا ان کا وطیرہ ہے ۔ انہوں نے کہا انکے پرامن جلسے جلوس پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں تاہم ان کے گذشتہ جتنے جلسے ہوے وہ سب پر تشدد تھے ۔ انھیں آگاہ کر رہے ہیں کہ ایک اور نو مئی یا چھبیس نومبر کی ا جازت ہر گز نہیں دیں گے ۔ انہوں نے کہا پی ٹی ا ٓئی سیاسی اقدار کو اپنا رویہ بنائے ۔ دہشتگرد گروہ کی طرح خود کو پیش کرنا چھوڑ دے ۔
آج جب قوم یوم تعمیر نو بنا ر۵ہی ہے یہ یو م سیاہ بنا رہے ہیں ۔ آج ہونے والے جلسے کے حوالے سے بھی ان کے گروہوں میں اختلاف ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی کے پی کے کہتے ہیں ہمارے نوے یا ننانوے فیصد مطالبات منظور ہو چکے اگر انکے مطالبات منظور ہو گئے ہیں تو احتجاج کس بات کا کر رہے ہیں ۔ ایک دن خط لکھا جاتا جس میں ایسے نکات اٹھائے جاتے جن کی پہلے سے منظوری ہو چکی ہوتی ہے ۔ انہوں نے کہا ہنگامہ اور شور برپا تھا ٹرمپ آئے گا بانی باہر آجائے گا ۔ ٹرمپ بھی آگیا لیکن بانی اپنی اصل جگہ بیٹھا ہوا ہے ۔ حالیہ ملکی دورے پر آئے ہوے امریکی وفد کے ایک رکن نے بتایا ہے کہ پی ٹی آئی والے بانی کے حق میں مہم چلانے کے لئے تین چار بلین ڈالر وہاں خرچ کر رہے ہیں ۔ یہ یہاں سے چوریاں کر کے واہاں لے جا کر خرچ کر رہے ہیں ۔ مذاکرات کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ کوئی چانس نظر نہیں آتا کہ پی ٹی آئی سیاسی جماعت کی حثیت سے آگے بڑھے گی ۔ پہلے ہی کہا تھا مذاکرات مذاکرات کھیل بے سود ثابت ہو گا اور آخرکار یہ بے نتیجہ عمل ہی ثابت ہوا ۔ کبھی ہماری طرف سے کبھی انکی طرف سے مذاکرات کی آوازیں ابھی بھی آرہی ہیں ۔ کبھی کہا جاتا ہے کہ بیک ڈور مذاکرات چل رہے ہیں ۔ ہالانکہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ انکے مذاکرات کی باتوں میں کوئی حقیقت نہیں ہے ۔ یہ دلاسے یہ اپنے ہواریوں کو مطمئن کرنے کے لئے دے رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے انتشار کے باوجود میاں شہباز شریف کی قیادت میں میں معیشت ترقی کی راہ پر گامز ن ہوئی ہے ۔ مہنگا ئی ، شرح سود میں کمی آئی کاروبار میں اضافہ ہوا ۔ عالمی سطح پر قومی وقار اضافہ ہوا ہے ۔ سٹاک مارکییٹ ایک لاکھ اٹھارہ ہزار پوائنٹس پر کی حد پر پہنچ گئی ، بجلی سستی ہوئی ہے ابھی بجلی کے نرخوں میں مزید کمی آئے گی ۔ قومی ائر لائن کی ساکھ بحال ہوئی ہے ۔ انہوں نے کہا حکومت عوام کے مسائل سے بخوبی آگا ہ ہے ۔ وزیر اعلی پنجاب دن رات عوامی فلاح کے کاموں میں مصروف ہیں ۔
طلبا کو سکالر شپس دے رہی ہیں ، شہر شہر جا کر لوگوں کو ملکی حالات کی بہتری نوید سنا رہی ہیں ۔ انہوں نے کہا حکومت ملک میں دہشتگردی اور خوارجیوں کے خاتمے کے لئے بھی اقدامات کر رہی ہے ۔ تاہم کے پی کے اور بلوچستان میں ہمیں دہشتگردی کا بد ترین چیلنج درپیش ہے انہوں نے کہا چیمپئینز ٹرافی جیسے عالمی ایونٹ کے انعقاد کے موقع پر فسادی ٹولہ ایک بار احتجاج کی کال دے کر لوگوں کی توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے ۔ یہ ملک کے وقار کو نقصان پہنچانے کے درپے ہیں ۔ اقتدار کے بھوکے یہ لوگ ملک کے مفاد کو فراموش کر بیٹھے ہیں ۔ نواز شریف اور بینظیر کی حکومت بھی گرائی گئی، ، جیلوں میں ڈالا گیا ، لیکن کبھی ہم نے ملکی وقار پر کو نقصان نہیں پہنچایا ۔ انہوں نے کہ پی ٹی آئی والے ایسے واقعات کرکے پاکستان کی ترقی کو روکنا چاہتے ہیں، آج کے جلسے میں یہ سرکاری وسائل کا بے دریغ استعمال کر رہے ہیں، پی ٹی آئی والوں کے جلسوں میں ان کی لیڈر شپ آپ کو نظر نہیں آئے گی۔
Comments are closed.