میاں شہباز شریف اور سپہ سالار کی قیادت میں ملک ترقی اور معیشت استحکام کی جانب گامزن ہے ، عطا اللہ تارڑ

لاہور (آن لائن) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ میاں شہباز شریف اور سپہ سالار کی قیادت میں ملک ترقی اور معیشت استحکام کی جانب گامزن ہے ۔ ہم تعمیر وترقی کا جشن بنا رہے ہیں دوسری طرف انتشاری اور فسادی ٹولہ جس کا رونا مقدر بن چکا یوم سیاہ بنا رہا ہے ۔ ملک دشمن مکروہ چہرے بے نقاب ہو چکے ۔ یوم تعمیر و ترقی کے موقع پر حلقہ این اے 127 میں جلسہ سے خطاب کرتے ہوے انہوں نے کہا عوام کے لئے بڑھ چڑھ کر کام کر رہے ہیں۔ ان سے کئے گئے وعدے پورے کر رہے ہیں ۔ میری والدہ حلقے کے عوام کی خدمت میں مصروف عمل ہیں۔ مجھے اپنی بہنوں، بھائیوں، نوجوان ساتھیوں پر فخر ہے۔ انہوں نے کہا عوام کو مزید بااختیار بنائیں گے۔ ہمیشہ عوام کا ہاتھ اور بازو بن کر ان کے ساتھ رہوں گا۔ حلقے میں یہ نظر آئے گا کہ آپ میں سے ہر ایک عطاء تارڑ بن کر عوام کے مسائل حل کرے گا۔ انہوں نے کہا ایک سال کی قلیل مدت میں عملی کام کئے، پانچ سال میں اس حلقے کی تقدیر ہی بدل دیں گے۔ آج پورے ملک میں یوم تعمیر و ترقی منایا جا رہا ہے۔ محمد شہباز شریف کی قیادت میں معیشت کو ڈیفالٹ کے دھانے سے تعمیر و ترقی کی طرف لائے ہیں۔ عالمی مالیاتی ادارے اس بات کا اعتراف کر رہے ہیں کہ نہ صرف مہنگائی کم ہوئی بلکہ شرح سود کم ہوئی

، سٹاک مارکیٹ میں اضافہ ہوا۔ انہوں نے کہا تعمیر و ترقی کا سفر جاری رکھیں گے ۔ تحریک انتشار والے شرطیں لگاتے تھے کہ ملک ڈیفالٹ ہوگا مگر جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے۔ انہوں نے کہا دنیا کی بہترین معیشتوں میں ہمارا شمار ہو گیا ۔ محمد شہباز شریف اور سپہ سالار کی قیادت میں ملک میں استحکام و ترقی کا سفر جاری ہے،سپہ سالار نے حب الوطنی اور محنت سے معاشی سفر میں بھرپور کردار ادا کیا۔ اور پاکستان کو ترقی کی منزلوں کی طرف لے کر گئے۔ آج ہر جگہ خوشحالی ہے، معیشت ترقی کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا تحریک انتشار والے پاکستان کے دشمن ہیں۔ یہ شہداء کی بے حرمتی کرتے ہیں اور 9 مئی پر کمیشن بنانے کا کہتے ہیں۔ ان کے کالے کرتوت اور مکروہ چہرے قوم دیکھ چکی ہے۔ یہ ملک کے ڈیفالٹ ہونے کی دعائیں کرنے والے آج شرمندہ ہو رہے ہیں، آج ہم تعمیر وترقی کا جشن بنا رہے ہیں اور جن کا رونا مقدر بن چکا وہ یو م سیاہ بنا رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا پاک فوج کے خلاف بات کرنے والوں کی 190 ملین پا ونڈ کی چوری بے نقاب ہوئی۔ یہ پانچ پانچ قیراط کی انگوٹھیاں مانگتے تھے۔ عوام کے آٹھ کروڑ روپے سے یہ خیبر پختونخوا میں جلسہ کر رہے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو پاکستان لوٹ کر کھا گئے ۔ انہوں نے کہا وہ جو کہتا تھا کہ کچھ نہیں ہوتا، اب وہ روتا ہے تو چپ نہیں ہوتا۔ یہ اب روتے ہیں، چیخیں مارتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ا ن کا لمیہ یہ ہے کہ یہ جہاں جیت جاتے ہیں وہاں الیکشن شفاف اور جہاں ہار جائیں وہاں دھاندلی دھاندلی کا ڈ ھنڈورا پیٹتے ہیں ۔

انہیں جھوٹ بھی ڈھنگ سے بولنا نہیں آتا۔ انہوں نے کے پی کے میں پی ٹی آئی کی کارکردگی پر سوا ل اٹھاتے ہوے کہا بتائیں آپ نے خیبر پختونخوا میں کتنے عوامی منصوبے شروع کئے ہیں۔ نعرے لگانا بڑا آسان ہے لیکن ثبوت پیش کرنا مشکل ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا چیف الیکشن کمشنر راجہ سکندر سلطان کا نام پی ٹی آئی نے دیا تھا۔ چیف الیکشن کمشنر میرٹ پر کام کرتے ہیں، ان پر الزام لگاتے ہوئے انہیں شرم نہیں آتی۔ انہوں نے کہا عوام نے ان کی سیاست کو باہر پھینک دیا ہے۔ جھوٹ، بہتان اور منافقت کی سیاست کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ان کا چار سالہ دور کھوکھلے نعروں پر مشتمل تھا۔ یہ پشاور کے حلقوں کی بات کیوں نہیں کرتے۔ یہ روندو ہوں، یہ وہ بچہ ہے جو وکٹیں اٹھا کر بھاگ جاتا تھا کہ نہ کھیڈاں گے نہ کھیڈن دیاں گے۔ انہوں نے کہا پی ٹی آئی والوں کے پاس خیبر پختونخوا میں کارکردگی دکھانے کے لئے کچھ نہیں ہے۔ آن کی آپس کی لڑائیاں چل رہی ہیں، یہ ایک دوسرے کے بدست و گریبان ہیں۔ یہ قوم میں نفرت کے بیج بوتے تھے، آج ان کی اپنی جماعت ٹوٹ پھوٹ چکی ہے۔ عوام نے ان کی جھوٹ کی سیاست مسترد کر دی ہے۔ یہ روتے رہیں گے، ہم عوامی خدمت کرتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا آج عوام نے ان کی یوم سیاہ کی کال مسترد کر دی اور تعمیر و ترقی کو پورے پاکستان نے خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا اپنا خون پسینہ لگائیں گے، خوشحالی عوام کے قدموں میں نچھاور کریں گے۔ پاکستان کو ترقی کرنے سے اب کوئی نہیں روک سکتا۔ روندو روتے رہیں گے اور ہم ترقی کرتے رہیں گے۔

Comments are closed.