اجتماعی کاوشوں سے ہم اپنے پاوٴں پر کھڑے ہو چکے ‘ ترقی کا سفر شروع ہو چکا اب ہم اڑان بھریں گے ‘ وزیراعظم
بس چلے تو 15 فیصد ٹیکس کم کر دوں مگر آئی ایم ایف شرائط سے مجبور ہوں ‘ کاروباری طبقے کی مشاورت سے پالیسیاں آگے بڑھائیں گے
کالی بھیڑیں ہر جگہ ہوتی ہیں ان میں بھی ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ تمام سرمایہ کار برے ہیں ‘ کاروبار کرنا حکومت کا کام نہیں
راتوں کو نیند نہیں آتی تھی کہ اگر پاکستان ڈیفالٹ کرگیا تو میری قبر پر یہ لکھا جائے گا کہ اس شخص کے دور میں ملک ڈیفالٹ کرگیا
گذشتہ دور میں دہشتگردی کی لہرکیوں لوٹ آئی سوالیہ نشان ہے‘دہشتگردی کا مل کر قلع قمع کرنا ہو گا ‘شہبازشریف ‘تقریب سے خطاب
اسلام آباد (آن لائن) وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومتی اقدامات کی وجہ سے مہنگائی کی شرح کم ترین سطح پر آگئی ‘ اجتماعی کاوشوں سے ہم اپنے پاوٴں پر کھڑے ہو چکے ‘ ترقی کا سفر شروع ہو چکا اب ہم اڑان بھریں گے ‘ اب ہمیں معاشی نمو کا سفر طے کرنا ہے ‘ مشکل فیصلے کر لئے اب آگے بڑھنا چاہتے ہیں ‘ بس چلے تو پندرہ فیصد ٹیکس کم کر دوں لیکن آئی ایم ایف شرائط کی وجہ سے مجبور ہوں ‘ ہم کاروباری طبقے کی مشاورت سے پالیسیاں آگے بڑھائیں گے ‘ چیئرمین ایف بی آر سرمایہ کاروں کو بلا کر ان سے بات کریں ان سے زیادتی نہیں ہونی چاہیے ‘ کالی بھیڑیں ہر جگہ ہوتی ہیں ان میں بھی ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ تمام سرمایہ کار برے ہیں ‘ کاروبار کرنا حکومت کا کام نہیں بلکہ کاروبار کیلئے سازگار ماحول فراہم کرنا ہماری ذمہ داری ہے
‘ حکومت کفائت شعاری کی پالیسی پر سختی سے گامزن ہے ۔ یہاں حکومت کا ایک سال مکمل ہونے پرمنعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ میں پچھلی حکومت پر کوئی الزام تراشی نہیں کرنا چاہتا اور نہ ہی کوئی سیاست کرنا چاہتا ہوں، مجھے راتوں کو نیند نہیں آتی تھی کہ اگر پاکستان ڈیفالٹ کرگیا تو میری قبر پر یہ لکھا جائے گا کہ اس شخص کے دور میں ملک ڈیفالٹ کرگیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ایک سال میں اندھیروں سے نکل کر رو شنیوں تک کا جو سفر طے کیا ‘ کسی ایک کا کام نہیں اجتماعی کاوش کا نتیجہ ہے ‘ جون 2023ء کی بات ہے پیرس میں کانفرنس تھی آئی ایم ایف کا پروگرام ہچکولے کھا رہا تھا انکی شرائط بہت کڑی تھی ۔ ملک میں مہنگائی کا طوفان تھا عوام نے جو مشکلات برداشت کیں۔ انکو سلام پیش کرتا ہوں ‘ آئی ایم ایف سے مذاکرات کر کے اسلامی بینک کے تعاون سے معاہدہ کرایا ‘ اللہ کے فضل وکرم سے پاکستان ڈیفالٹ ہونے سے بچ گیا
‘ ستمبر میں تین سالہ پروگرام طے ہوا اس پروگرام کے لئے بے پناہ ٹیم کی مشترکہ کاوشیں شامل تھیں۔ تنخواہ دار طبقے نے تین سو ارب روپے کا ٹیکس دیا ‘جو ان کی استطاعت سے بہت بڑھ کرتھا۔ حکومتی اقدامات کی وجہ سے مہنگائی کی شرح کم ترین سطح پر آگئی ‘ اجتماعی کاوشوں سے ہم اپنے پاوں پر کھڑے ہو چکے ‘ ترقی کا سفر شروع ہو چکا اب ہم اڑان بھریں گے ‘ اب ہمیں معاشی نمو کا سفر طے کرنا ہے ‘ ہم نے مشکل فیصلے کر لئے اب آگے بڑھنا چاہتے ہیں ‘ بس چلے تو پندرہ فیصد ٹیکس کم کر دوں لیکن آئی ایم ایف شرائط کی وجہ سے مجبور ہوں ‘ ہم کاروباری طبقے کی مشاورت سے پالیسیاں آگے بڑھائیں گے ‘ چیئرمین ایف بی آر سرمایہ کاروں کو بلا کر ان سے بات کریں ان سے زیادتی نہیں ہونی چاہیے ‘ کالی بھیڑیں ہر جگہ ہوتی ہیں ان میں بھی ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ تمام سرمایہ کار برے ہیں ‘ کاروبار کرنا حکومت کا کام نہیں ، بلکہ کاروبار کیلئے سازگار ماحول فراہم کرنا ہماری ذمہ داری ہے ‘ حکومت کفائت شعاری کی پالیسی پر سختی سے گامزن ہے ۔ دہشتگردی کا سامنا ہے ، کے پی کے اور بلوچستان میں ہمارے نوجوان روز شہید ہو رہے ہیں ۔ 2018ء میں 80 ہزار جانوں کی قربانیوں کے بعد ملک سے دہشتگردی کا مکمل خاتمہ ہو چکا تھا ۔
لیکن گذشتہ دور میں دہشتگردی کی لہر دوبارہ کیوں لوٹ آئی یہ ایک سوالیہ نشان ہے ہمیں دہشتگردی کا مل کر قلع قمع کرنا ہو گا ۔ مجھے لوگ مختلف القابات سے نوازتے ہیں لیکن مجھے اس سے فرق نہیں پڑتا ۔ان کا کہنا تھا کہ اگلے ہی روز اسلامک ڈیولپمنٹ بینک کے ایم ڈی سے رابطہ ہوا اور پھر مجھے آئی ایم ایف کی ایم ڈی نے مجھے بتایا کہ بینک نے پاکستان کے لیے ایک ملین ڈالر منظور کرلیا ہے، آپ پروگرام جاری رکھ سکتے ہیں اور اس طرح ہماری ٹیم کی شبانہ روز محنت کے ساتھ پاکستان ڈیفالٹ سے بچ گیا۔وزیراعظم نے کہا کہ یہ حکومت بننے کے بعد ستمبر میں ہمارا آئی ایم ایف کے ساتھ7 ارب ڈالر کا 3 سالہ معاہدہ طے ہوگا جس میں وزیر خزانہ سمیت تمام متعلقہ اداروں کی کاوشیں شامل ہیں
، جس کے نتیجے میں تنخواہ دار طبقے کو بہت بوجھ برداشت کرنا پڑا، 300 ارب روپے تنخواہ دار طبقے نے ٹیکس ادا کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ تنخواہ دار طبقے نے پاکستان کی معیشت کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کے لیے اپنی بساط سے بڑھ کر کردار ادا کیا ہے جس پر میں انہیں سلام پیش کرتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ تمام مشکلات کے باوجود جنوری 2025 میں مہنگائی کی شرح 40 فیصد سے اگر 2.4 فیصد پر آچکی ہے تو اللہ تعالیٰ کا خاص کرم ہے اور اس میں زندگی کے تمام طبقات نے حصہ ڈالا ہے، جس پر میں پوری قوم کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔شہباز شریف نے کہا کہ میں پچھلی حکومت پر کوئی الزام تراشی نہیں کرنا چاہتا اور نہ ہی کوئی سیاست کرنا چاہتا ہوں، مجھے راتوں کو نیند نہیں آتی تھی کہ اگر پاکستان ڈیفالٹ کرگیا تو میری قبر پر یہ لکھا جائے گا کہ اس شخص کے دور میں ملک ڈیفالٹ کرگیا۔ان کا کہنا تھا کہ اب ہماری معیشت اپنے پیروں پر کھڑی ہوگئی ہے اور آگے معاشی ترقی کا سفر طے کرنا ہے، میں بزنس کمیونٹی سے مخاطب ہونا چاہتا ہوں کہ ہم نے مشکل فیصلے کرلیے لیکن آگے سفر بھی آسان نہیں ہے لیکن ایک امید پیدا ہوگئی ہے
، اس میں آپ نے میرا بھرپور ساتھ دینا ہے، کس طرح ایکسپورٹ کو آگے بڑھانا ہے، کس طرح انڈسٹری کو مضبوط کرنا ہے اور ٹیکسز کو نیچے لانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے 8 سے 10 ماہ میں ہم نے بہت سخت فیصلے کیے لیکن ابھی آپ کی مشاورت سے پالیسی بنے گی کہ کس طرح ایکسپورٹ گروتھ ہوگی کس طرح انڈسٹری کو آگے لے کر جانا ہے۔شہباز شریف نے مزید کہا کہ میرا بس چلے تو میں ابھی 15 فیصد ٹیکس میں کمی کردوں، اور یہ صرف دکھاوا نہیں، آپ کے سامنے کی بات ہے کہ کس طرح سارے وزرا کام کررہے ہیں اور مشکل فیصلے لے رہے ہیں، اب ترقی اور خوشحالی کا سفر طے کرنا ہے۔
Comments are closed.