اسلام آباد (آن لائن)سابق گورنر سندھ عمران اسماعیل نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی اپنی مخالف جماعتوں کے ساتھ گفتگو نہیں کرتی جو غلط ہے، پی ٹی آئی کو چاہیے کہ تمام سیاسی قوتوں کے ساتھ بیٹھ کر بات کرے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ مولانا فضل الرحمان سے بھی بات کرنے کیلئے تیار نہیں تھے، آج ان کے ساتھ ہیں۔انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان جہاں کی بات کر رہے ہیں، پی ٹی آئی کو وہاں کے حلقے کھولنے چاہیں، اسی طرح وفاقی حکومت بھی وہاں کے حلقوں کو کھول دے جہاں فارم 47 کی بات ہورہی ہے، فارم 47 کی حکومت بنی ہے، حکومت کھڑی ہی فارم 47 پر ہے۔عمران اسماعیل نے کہا ہے کہ اگر کسی کا الیکشن چوری ہوا ہے اور اگر وہ احتجاج کر رہا ہے تو آپ اس دہشت گردی کا الزام لگا دیتے ہیں،
یہ جمہوری رویہ نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ کیا کبھی پیپلز پارٹی نے یا مسلم لیگ ن نے کھبی احتجاجی تحریکوں میں حصہ نہیں لیا ہے؟ کیا کبھی انہوں نے میندیٹ چوری ہونے پر آواز بلند نہیں کی؟ کیا یہ جمہوری روایات کے خلاف ہے کہ کسی جماعت کا جلسہ جلوس یا ریلی ہو، ان کو اپنا دل بڑا کرنا چاہیے۔عمران اسماعیل نے کہا ہے کہ ملک میں مقبول لیڈر عمران خان ہے، آصف علی زردری یا میاں نواز شریف تو مقبول رہنما نہیں ہیں، معاشی اشاریے بہتر ہوئے ہیں، اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ الیکشن چوری کریں، معاشی اشاریے تو مشرف کے دور میں بھی بہتر تھے تو پھر کیوں شور شرابا ہنگامہ مچایا ہوا تھا، رہنے دیتے اس کو، اچھا خاصا ملک چلا رہا تھا۔انہوں نے کہا کہ جمہوری طاقتوں کو ساتھ بیٹھ کر بات چیت کرنا چاہیے، پی ٹی آئی کے ساتھ ایک بہت بڑاایشو رہا ہے کہ وہ اپنے سیاسی مخالفین کے ساتھ بات چیت نہیں کرتی ہے۔
Comments are closed.