اسلام آباد(آن لائن)آل پاکستان لائرز ایکشن کمیٹی کے تحت پیرکو26ویں آئینی ترمیم کے خلاف وکلا برادری کی طرف سے ملک بھرمیں شدیداحتجاج کیاگیاوکلاکی ایک بڑی تعدادسپریم کورٹ پہنچی،تمام تررکاوٹین بھی عبورکیں،اس دوران آل پاکستان لائرز ایکشن کمیٹی کے عہدیداران نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جوڈیشل کمیشن کے اجلاس کویکسرمستردکردیاہے۔وکلا رہنماؤں نے کہا کہ حکومت اپنی مرضی کے ججزلاناچاہتی ہے اس لیے آئے روزجوڈیشل کمیشن کااجلاس بلایاجارہاہے،پارلیمنٹ کوکٹھ پتلی کی طرح سے استعمال کیاگیا،جس طریقے سے ترمیم کی گئی وہ بھی شرمناک ہے۔ان خیالات کااظہارحامدخان ایڈووکیٹ،علی احمدکرد،عابدزبیری اور منیراے ملک سمیت دیگررہنماوٴں نے سپریم کورٹ سے باہرمیڈیاسے گفتگومیں کیا۔حامدخان نے کہاکہ آج وکلا کا ملک گیر احتجاج ہو رہا ہے
،یہ احتجاج جوڈیشل کمیشن کے اجلاس کے خلاف احتجاج ہو رہا ہے،یہ اجلاس سپریم کورٹ میں اپنی مرضی کے جج لانے کے لیے ہو رہا ہے،کراچی اور لاہور سے وکلا بسوں پر پہنچے ہیں دوسرے علاقوں سے بھی وکلاء آئے ہیں،اس حکومت نے جس طریقے سے وکلا کے راستے بند کیے ہیں یہ پہلے کہیں نہیں ہوا،کشمیر ہائی وے، سرینا ہوٹل، مارگلہ روڈ اور ڈی چوک پر وکلا سراپا احتجاج ہیں،ہم نہیں چاہتے کہ یحییٰ آفریدی، مندوخیل اور امین الدین جیسے کمپرومائزڈ آئیں،اس پارلیمنٹ کو کٹھ پتلی کی طرح استعمال کیا گیا ہے،جس طریقے سے ترمیم کی گئی ہے جو شرمناک ہے، یہ لوگ اپنی مرضی کے جج کو چیف جسٹس بنایا گیا ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج عامر فاروق کا کردار سب کے سامنے ہے،قاضی فائز عیسی نے دو سال بعد کیس لگا کر ہارس ٹریڈنگ کو جائز قرار دیا،ہمارا احتجاج یک دن،ایک ماہ کا نہیں ہے یہ احتجاج چھبیسویں ائینی ترمیم کے ختم ہونے تک ہے،پاکستان کے سارے وکلا اس وقت اکٹھے ہیں،چند ایک ٹاوٹ وکلا ہیں جو بیان دے رہے ہیں اور حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں،یہاں باضمیر جج خط لکھ کر بتا رہے اور مطالبہ کر رہے ہیں کہ یہ اجلاس ملتوی کیا جائے،جن ججوں نے خط لکھے ہیں ان میں دو جج اس سے سینیر ہیں،انہوں نے کہا کہ ٓاپ ڈوگر کورٹ نہیں بنا سکتے،یہاں سپریم کورٹ کو تقسیم کیا گیا ہے، عابد زبیری کی میڈیا سے گفتگو میں کہاکہ آج اگر سپریم کورٹ میں کوئی تعیناتی ہوئی تو اس میں اور پی سی او ججوں میں فرق نہیں ہو گا،کہا جاتا ہے تحریک نہیں اٹھا رہے، ہمارے وکلا پرامن طور پر احتجاج کے لیے آ رہے تھے لیکن ان کو روکا گیا ہے،کیا یہ ٓازاد عدلیہ ہے کہ آپ صرف اپنی مرضی کے جج لگائیں،ہماری تحریک اس ترمیم کو ختم کرائے گی،اس ملک میں کوئی انسانی حقوقِ نہیں ہیں،ہم کوئی کیس حکومت کے خلاف دائر کرتے ہیں تو وہ اپنی مرضی کے ججوں کو وہ کیس دے دیتے ہیں، اور وہاں سے جو فیصلہ انا ہے سب کو پتہ ہے،اس وقت پاکستان میں وکلاء ایکشن کے حوالے سے تحریک شروع ہو رہی ہے۔ہم وکلاء کے ساتھ ہیں اور ساتھ رہیں گے۔قد یا اقتدار کی کرسی سے انسان بڑا نہیں ہوتا۔شرم آنی چاہیے جنہوں نے رات کے دو بجے 26 آئینی ترمیم کو پاس کیا۔ہم 26 ویں آئینی ترمیم کو نہیں مانتے۔ہم چاہتے ہیں کہ جوڈیشل کمیشن کے اجلاس کو معطل کیا جائے، جوڈیشل کمیشن کے اجلاس کے خلاف نکلے ہیں،پاکستان میں کبھی بھی اس طرح کے حالات نہیں بنے،آئین کو آج روند کر رکھ دیا گیا
،لوگ سپریم کورٹ آتے ہیں آئینی بینچ میں نہیں،شرم آنی چاہیے جن لوگوں نے 26 ویں آئینی ترمیم پاس کیا،26 ویں آئینی ترمیم کے بینفیشری کو تسلیم نہیں کررہے ہیں،جوڈیشل میں بیٹھ کر جو اپنے مرضی کے ججز لانا چاہتے ہیں ان کے اور ہمارے درمیان ایک لکیر آئی گئی،بہتر یہی ہے کہ 8 ججز مت لائیں، جوڈیشل کمیشن کے اجلاس کو موخر کیا جائے، جوڈیشل کمیشن میں چھوٹے چھوٹے لوگ بیٹھے ہیں۔منیراے ملک نے کہاکہ وکلابرادری آئین وقانون کی بالادستی اکٹھی ہوئی ہے ، جولوگ صرف مفادکے لیے حکومت کاساتھ دے رہے ہیں وہ کل کوپچھتائیں گے۔انھوں نے کہاکہ ہمیں عدلیہ کوآزادہی بناناہے،ججزکے تقررمیں جلدبازی کی کیاضرورت ہے۔دوسری جانب وکلا رہنماوٴں نے مقامی ہوٹل کے باہر پریس کانفرنس کی، منیر اے ملک نے کہا کہ آج وکلاء26ویں آئینی ترمیم کے خلاف آواز اٹھانے جمع ہوئے ہیں، ہمارا احتجاج پر امن ہے، ہم جوڈیشل کمیشن کے ممبران کے سامنے اپنا احتجاج ریکارڈ کروائیں گے، ہم جوڈیشل کمیشن کو بھی باور کروانا چاہتے ہیں کہ موجودہ نظام سے انصاف کا قتل ہو رہا ہے، ہم یہاں سے سپریم کورٹ کی طرف جائیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ یہاں آج پورے ملک کی بار سے وکلاء موجود ہیں، ہم وکلائکا راستہ روکنے کے لیے جگہ جگہ کنٹینر لگا کر راستہ بند کر دیا گیا ہے۔علی احمد کرد نے کہا کہ آج کے وکلاء تحریک کی قیادت منیر اے ملک کر رہے ہیں، ہم سب آج کا احتجاج بھرپور ریکارڈ کروائیں گے، کوئی آدمی اقتدار پر بیٹھنے سے بڑا نہیں ہوتا، انسان اپنی سوچ اور اپنے کردار سے بڑا ہوتا ہے، ہم آج جوڈیشل کمیشن کے خلاف احتجاج کروانے نکلے ہیں۔علی احمد کرد نے کہا کہ آئین کو مینولپیٹ کیا جا جا رہا ہے، جنہوں نے 26ویں کو پاس کیا انہیں شرم آنی چاہیے، آدھی رات کو لاء منسٹر کہتے تھے ہمارے پاس ابھی ڈرافٹ نہیں آیا، جو بھی 26ویں آئینی ترمیم کے بینیفشری ہیں ہم انہیں بھی تسلیم نہیں کرتے، آج پورے ملک نے 26ویں آئینی ترمیم کو ٹھکرا دیا ہے۔سیکرٹری کراچی بار غلام رحمان جنرل نے کہا کہ ہمارا آج کا احتجاج پر امن ہے، 26ویں ترمیم غیر آئینی ہے، ہمارا احتجاج ائین کی بحالی کے لیے ہے، آج ججز ایس ایچ او کی طرح سیاسی سپورٹ لے رہے ہیں، ہم صحافت کی آزادی کے لیے نکلے ہیں، پیکا ایکٹ کالا قانون ہے، اسے ختم ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں ایسی عدلیہ نہیں چاہیے جو مقتدرہ کے ساتھ ملی ہو، آج شاہراہ دستور پر ہم صحافیوں، طلباء،اور عوام کا مقدمہ لڑنے جا رہے ہیں
، کالا کوٹ آج مینڈیٹ کی بحالی کے لیے نکلا ہے۔وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں وکلا کے احتجاج کی کال کے پیش نظر پولیس کی جانب سے ریڈ زون کے داخلی راستے بند ہونے سے عوام الناس رل گئے،صدر اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسویشن ایشن ریاست علی آزاد نے ججز سیراستوں کی بندش کے پیش نظردرخواست گزاروں کے خلا ف کوئی بھی حکم جاری نہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ سریناچوک نادرا چوک سے ریڈ زون انٹری بند کر دی گئی، ریڈ زون بند کرنے کے باعث ٹریفک روانگی متاثر گاڑیوں کی رش لگ گئی، مارگلہ روڈ سے ریڈ زون داخلے کیلئے گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔سرکاری ملازمین کوبھی بہت دوردورتک پیدل چل کرفاصلہ طے کرناپڑا،پولیس کی بھاری نفری بھی ہرجگہ تعینات ہے،جبکہ مختلف راستوں کوکینٹنرزلگاکربندکردیاگیاہے۔ وفاقی دارالحکومت کی ٹریفک پولیس کی جانب سے جاری ایڈوائزری میں کہا گیا کہ شہر میں لا اینڈ آرڈر کی صورت میں ریڈ زون کے داخلی اور خارجی راستے بند ہوں گے۔اسلام آباد کی ٹریفک پولیس کی جانب سے جاری ایڈوائزری میں کہا گیا کہ 10 فروری 2025 کو لا اینڈ آرڈر کی صورت میں ریڈ زون کے داخلی اور خارجی راستے بند رہیں گے۔ٹریفک پولیس نے کہا کہ ریڈزون کے داخلی اور خارجی راستے سرینا، نادرا، میریٹ، ایکسپریس چوک اورٹی کراس بری امام صبح 6 بجے سے تاحکم ثانی عارضی طور پر بند ہوں گے۔پولیس نے کہا کہ عوام الناس سے گزارش ہے کہ کسی بھی سفری دشواری سے بچنے کے لیے متبادل کے طور پر مارگلہ روڈ استعمال کر سکتے ہیں تاہم اسلام آباد ٹریفک پولیس آپ کی رہنمائی کے لیے مصروف عمل ہے۔ٹریفک پولیس نے شہریوں سے کہا کہ مزید معلومات کے لیے ٹریفک ہیلپ لائن نمبر 1915 اور اسلام آباد ٹریفک پولیس کے دوسرے سوشل میڈیا پلیٹ فارم سے رہنمائی لیں۔وفاقی دارالحکومت کی ٹریفک پولیس نے کہا کہ ریڈزون میں صرف مار گلہ روڈ سے داخلے کا راستہ دیا گیا ہے۔۔ادھر ریڈ زون میں راستوں کی بندش کے باعث وکلا اور سائلین کو عدالتوں میں پیش ہونے میں مشکلات کا سامنا ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ بار نے ہڑتال کے باعث عدم پیشی پر عدالت سے ایڈورس آرڈر نہ کرنے استدعا کی۔ صدر اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسویشن ایشن ریاست علی آزاد نے ججز سے اپیل کی کہ راستوں کی بندش کے باعث پیش نہ ہونے والے وکلائکے خلاف ایڈورس آرڈر جاری نہ کیاجائے۔
Comments are closed.