گزشتہ کئی ماہ سے بارشیں نہ ہونے کے بعد بتدریج بڑھتی ہوئی خشک سالی اور زیر زمین پانی کی سطح میں خطرناک حد تک کمی

راولپنڈی (آن لائن) گزشتہ کئی ماہ سے بارشیں نہ ہونے کے بعد بتدریج بڑھتی ہوئی خشک سالی اور زیر زمین پانی کی سطح میں خطرناک حد تک کمی کے باعث راولپنڈی میں ” ڈراوٹ ایمرجنسی” نافذ کردی گئی طویل خشک سالی کے باعث راولپنڈی شہر کو اس وقت 17 ملین گیلن جبکہ کنٹونمنٹ کے علاقوں کو 37.19 ملین گیلن یومیہ پانی کی کمی کا سامنا ہے جبکہ زیر زمین پانی کی سطح 700 فٹ تک نیچے چلی گئی ہے جس پر واٹر اینڈ سینی ٹیشن ایجنسی (واسا) اور کنٹونمنٹ بورڈ راولپنڈی نے باضابطہ وارننگ جاری کرتے ہوئے فروری اور مارچ میں بارشیں نہ ہونے کی صورت میں راولپنڈی میں پانی کا بحران شدت اختیار کر جائے گا پانی کا ضیاع روکنے کے لئے سروس سٹیشنوں اور گھروں میں گاڑیاں یا فرش دھونے پر پابندی سمیت کسی بھی طریقے سے پانی کا ضیاع روکنے کے لئے بڑے پیمانے پر کاروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کے تحت کنکشن منقطع کرنے کے ساتھ مقدمات کا اندراج اور بھاری جرمانے بھی عائد کئے جائیں گے واسا حکام کے مطابق خشک سالی کے باعث راولپنڈی میں پانی کا بحران شدت اختیار کر چکا ہے فروری اور مارچ میں بارشیں نہ ہوئی تو پانی کا مسئلہ سنگین ہو جائے گا محکمہ موسمیات نے بھی قلیل بارشوں کی پیشن گوئی کی ہے آبادی میں مسلسل اضافہ اور کمرشل سرگرمیوں سے پانی کے ذخائر میں کمی ہورہی ہے خشک سالی کے باعث دستیاب پانی کی تقسیم مشکل ہوگئی ہے خشک سالی کے باعث پانی کے کم استعمال کیلئے آگاہی مہم بھی شروع کی گئی ہے کیونکہ خشک سالی کے باعث ڈیموں کے ساتھ زیر زمین پانی شدید متاثر ہوا ہے جس سے پانی کی طلب اور سپلائی بھی شدید متاثر ہو رہی ہے واسا ذرائع کے مطابق اس وقت راولپنڈی میں پانی کی طلب 68 ملین گیلن یومیہ ہے جبکہ دستیاب پانی صرف 51 ملین گیلن یومیہ ہے فی الوقت پانی کی ضرورت راول ڈیم، خان پور ڈیم اور ٹیوب ویلوں سے پوری کی جارہی ہے لیکن زیر زمین پانی کا لیول 700 فٹ نیچے چلا گیا ہے پانی کے غیر ضروری استعمال پر مقدمات کا اندراج کرینگے جبکہ پانی کے ضیاع پر واسا دو شہریوں کے چالان کر چکا ہے واسا حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ پانی کا استعمال کم کریں اور واسا کے ساتھ تعاون کریں کیونکہ خان پور ڈیم کی بھل صفائی کے باعث بھی 22 فروری تک پانی کی سپلائی معطل رہے گی ادھر واسا کے بعد راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ نے بھی خشک سالی کے باعث ایمرجنسی نافذ کردی ہے بورڈ حکام کے مطابق راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ کو 7 لاکھ آبادی کو پانی فراہم کررہا ہے جس کے لئے خانپور سے 11.28 ملین گیلن اور ٹیوب ویلوں سے 1.5 ملین گیلن پانی دستیاب ہے جبکہ راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ کے پاس 12.81 ملین گیلن پانی موجود ہے کنٹونمنٹ بورڈ راولپنڈی کو 50 ملین گیلن پانی یومیہ کی طلب ہے جس کے مقابلے میں بورڈ کو 37.19 ملین گیلن یومیہ پانی کی کمی کا سامنا ہے بورڈ حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ مزید 2 ماہ بارش نہ ہونے کی صورت میں خانپور ڈیم سے پانی کی فراہمی 4 ملین گیلن تک آجائے گا لہٰذا پانی کے بحران سے نمٹنے کے لئے ابتدائی طور پر پانی ضائع کرنے والوں کے چالان پھر واٹر کنکشن معطل اور پھر ایف ائی آر کا اندراج کیا جائے گا۔

Comments are closed.