سیالکوٹ (آن لائن) وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ سیالکو ٹ کے شہریوں کو بہترین طبی سہولیات کی فرا ہمی ترجیحات میں شامل ہے ، علاج کی جدید سہولیات پر مشتمل نیا ہسپتال بنانے کی کوشش کریں گے ۔ ڈاکٹر دولت کمانے کے لئے اشتہارات لگانے کے بجائے عوامی خدمت کو اپنا شعار بنائیں ۔ اشتہاری ہونا ڈاکٹروں کی نہیں سیاستدانوں کی ضرورت ہوتی ہے ۔ جلد سیالکوٹ سے کھاریاں موٹر وے بنانے کا بھی اعلان کیا ۔ کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوے انہوں نے کہا حکومت عوام کی فلاح و بہبود کے لئے اقدامات کر رہی ہے ۔ ترقی کے سفر میں سب کو دیا نتداری سے اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے ۔ بد قسمتی سے ہم لوگ حلف اٹھا لیتے ہیں لیکن اس کی پاسداری نہیں کرتے انہوں نے کہا کہ جلد سیالکوٹ سے کھاریاں موٹر وے کی تعمیر پر کام شروع کیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سیالکوٹ میں بہترین طبی سہولیات کی فراہمی بھی ہماری ترجیحات میں شامل ہے ۔ تاہم انہوں نے کہا کہ شہر میں ڈا کٹروں نے جو دولت کی خاطر اشتہار سازی کی مہم شروع کر رکھی ہے وہ سخت قابل اعتراض ہے ، پہلے پنجابی فلموں کے اشتہارات لگتے تھے اب ڈاکٹروں کے اشتہارات آویزاں ہیں، سب سے افسوسناک بات فحش اشتہارات لگانا ہے ۔
ڈاکٹروں اگر پیشہ ورانہ انداز سے فرائض سر انجام د یں تو انھیں اشتہاروں کی ہر گز ضرورت نہیں پڑے گی ۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹروں کو عوامی خدمت کے جذبے سے کام کرنے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اشتہارات جگہ جگہ آویزاں کروانے سے روکنے کے لئے شہر میں انتظامیہ میڈیکل بورڈ تشکیل دے ۔ دولت کے لئے اخلاقیات کا دائرہ ہر گز نہیں چھوڑا جانا چاہیے انہوں نے کہا کہ یہ اشتہاری ہونا تو ہم سیاستدانوں کا کام ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر کے ہاتھ سے لوگوں کو شفا خود ایک اشتہار ہے، جس کے ہاتھ میں شفا ہو، اللہ نے یہ ہنر دیا ہو تو مریض خود آتے ہیں، ڈاکٹروں کا ایک اشتہار پڑھا تو شرم آئی، یہ اشتہارات کے ذریعے پروموشن ڈاکٹرز کے شان شیان نہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیالکوٹ میں میرے والد کے دور میں بنا یا گیا ہسپتال اب شہریوں کی ضروریات پورا کرنے کے لئے ناکافی ہے اس لئے شہر میں ایک اور جدید ہسپتال بنانے کی کوشش کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ شہر کے کاروباری طبقے نے عوام کی فلاح و بہبود کے لئے بہت کام کیا ہے ۔ ہم ترقی کے سفر میں ایک دوسرے سے قدم سے قدم ملا کے چلنا ہو گا ۔ انہوں نے تعلیم مکمل کرنے والے طلبا کو مبارکباد دیتے ہوے کہا کہ تاریخ کسی بھی قوم کی شناخت ہوتی ہے ۔ اسی کے عشرے میں ہماری تاریخ مسخ کی گئی ۔ مرڈر آف ہسٹری نا می کتاب میں درج ہے کہ نصابی کتابوں میں تاریخ کتنی غلط لکھی گئی ہے ۔ یہ ہماری پوری لیڈر شپ کی نا کامی ہے ۔ ہمیں اپنے تعلیمی معیار کو بہترین بنانے کے لئے فوری اہم اقدامات کی ضرورت ہے ۔ ہمیں اپنے دین پر فخر ہو نا چاہیے ۔ دین کی تعلیم حاصل کر کے اس سے استعفادہ کی ضرورت ہے ۔
Comments are closed.