اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کی اہلیہ سے ملاقات نہ کرانے پر توہین عدالت کی درخواست نمٹا دی

اسلام آباد ( آن لائن) اسلام آباد ہائیکورٹ نے سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل غفور انجم کے بیان پر پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی سے ملاقات نہ کرانے پر توہین عدالت کی درخواست نمٹا دی۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی سے ملاقات نہ کرانے پر توہین عدالت کی درخواست کی سماعت کی۔عدالتی حکم پر سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل غفور انجم پیش ہوئے، بانی پی ٹی آئی کی جانب سے وکیل فیصل فرید چوہدری جبکہ اسٹیٹ کونسل ملک عبد الرحمان بھی عدالت میں پیش ہوئے۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل سے استفسار کیا کہ عدالت نے ایک حکم دیا تھا اس پر عملدرآمد ہو رہا ہے یا نہیں؟ جس پر سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے جواب دیا کہ اس عدالت کے حکم پر مکمل عمل ہو رہا ہے

، درخواست گزار کے وکیل کو بھی اس متعلق آگاہ کر دیا گیا ہے، اگر چہ جیل رولز میں یہ ملاقات کرانے کا ذکر موجود نہیں، بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی ہر منگل کو ملاقات کرا تے ہیں۔قائم مقام چیف جسٹس نے کہا کہ فیصل صاحب یہ تو آپ کو فیور دے رہے ہیں، جس پر وکیل فیصل فرید چوہدری نے کہا کہ سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کی یقین دہانی آجائے کہ عدالتی فیصلے پر عمل درآمد ہو گا، مسئلہ ان کی طرف سے نہیں آتا، کسی اور سے آتا ہے۔سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے کہا کہ مسئلہ کہیں سے بھی نہیں آتا، جس پر قائم مقام چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے کہا کہ ہم یہاں بیٹھے ہیں دیکھ لیں گے۔بعدازاں عدالت نے بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی سے ملاقات کرانے کی درخواست نمٹا دی۔

Comments are closed.