نواز شریف کو سزا سنانے والے بینچ کی تشکیل ہی غلط تھی،رانا ثنا اللہ

اسلام آباد (آن لائن)مسلم لیگ(ن) کے سینئر رہنما و سابق وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ آئین و قانون تقاضا کا ہے نواز شریف کی سزا کو کالعدم قرار دیا جائے۔

تفصیلات کے مطابق سابق وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسی ہمیشہ آئینی بالادستی کیلئے کھڑے ہوئے ہیں۔ نواز شریف کو سزا سنانے والے بینچ کی تشکیل غلط تھی،آئین و قانون تقاضا کا ہے نواز شریف کی سزا کو کالعدم قرار دیا جائے۔رانا ثنا اللہ نے اس امید کا اظہار کیا کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسی اس قسم کی سزاوں کو کالعدم قرار دیں گے۔ قبل ازیں سابق وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو بھیجے گئے صد کے خط کی کوئی اہمیت نہیں۔

صدر مملکت نے اپنی آئینی حیثیت کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا، وہ یہ نہیں کہہ سکے کہ میرا اخیتار ہے اور الیکشن کمیشن انتخابات کروانے کا پابند ہے۔صدر مملکت نے خط رائے کے لیے وزارت قانون کو بھیجا وہ اس رائے کے پابند ہیں، ان کے پاس انتخابات کی تاریخ دینے کا اختیار نہیں۔ رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن حلقہ بندیوں کا عمل شروع کرچکا ہے یہ بھی آئین کا تقاضا ہے۔ مئی 2022 میں ن لیگ فیصلہ کر چکی تھی کہ الیکشن میں جائیں گے، مولانا فضل الرحمان اور آصف زرداری نے زور لگا کر نواز شریف کو قائل کیا،وزیراعظم مستعفی ہونے اور اسمبلی ختم کرنے کا اعلان کرنے جا رہے تھے، نواز شریف نے با امر مجبوری بڑی بحث کے بعد رضا مندی ظاہر کی۔انہوں نے کہا کہ مردم شماری کی منظوری والے دن میٹنگ میں کیا کسی نے بات کی؟ میٹنگ کے شرکا کو معلوم تھا کہ مردم شماری کی منظوری سے الیکشن میں تاخیر ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی 8 اگست تک ہمارے اتحادی تھے اب نہیں، الیکشن میں جو موقف پیپلز پارٹی کو سوٹ کرتا ہے وہ دینا ان کا حق ہے، اس کا جواب دینے کا حق ہمیں حاصل ہے۔

Comments are closed.