شیریں مزاری کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا کیس،عدالت رپورٹ جمع نہ کروانے پر پولیس پر برہم
اسلام آباد (آن لائن)پاکستان تحریک انصاف کی رہنما و سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا کیس،عدالت نے رپورٹ جمع نہ کروانے پر پولیس حکام پر اظہارِ برہمی کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری کا نام ای سی ایل سے نکالنے سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی،جسٹس طارق محمود جہانگیری نے کیس کی سماعت کی۔عدالت نے شیریں مزاری کیخلاف درج مقدمات کی رپورٹ طلب کر لی۔ جسٹس طارق محمود جہانگیری نے رپورٹ جمع نہ کرانے پر پولیس حکام پر اظہارِ برہمی کیا۔ جسٹس طارق محمود جہانگیری نے پولیس کو ہدایت کی کہ ہائیکورٹ کے ڈیکورم کا خیال کیا کریں،پہلے 25 ہزار جرمانہ کیا تھا اب 50 ہزار روپے کریں گے۔
لاہور ہائیکورٹ کی طرح ضروری نہیں آپ کے وارنٹ ہی نکالیں۔عدالت نے پولیس حکام کو ہدایت کی درخواست گزار کیخلاف آج تک جتنے بھی مقدمات درج ہوئے،اس کی رپورٹ جمع کرائیں۔ شیریں مزاری کے وکیل نے بتایا کہ 17 مئی کو انہوں نے رپورٹ دی کہ درخواست گزار کے خلاف صرف 3 مقدمات درج ہیں،اس عدالت کے آرڈر کی پولیس مسلسل خلاف ورزی کر رہی ہے۔ عدالت نے پولیس سے استفسار کیا کہ اگر 2014 کا مقدمہ ہے تو گرفتاری اس وقت کیوں نہیں ڈالی گئی؟ جسٹس طارق محمود جہانگیری نے قرار دیا کہ شیریں مزاری کیخلاف کوئی مقدمہ ہے تو رپورٹ میں لکھا جائے،یہ نہ ہو کہ بعد میں 2012 کا کوئی مقدمہ نکل آئے۔ہائیکورٹ نے رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت 10 روز کیلئے ملتوی کر دی۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے اسی کیس میں آئی جی نے 25 ہزار جرمانے کی رقم شیریں مزاری کو دی تھی۔ اسلام آباد ہائیکورٹ میں سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست پر سماعت ہوئی،جسٹس طارق محمود جہانگیری نے سماعت کی۔ آئی جی اسلام آباد نے ہائیکورٹ کے حکم پر 25 ہزار جرمانہ ادا کیا۔
Comments are closed.