جدہ (آن لائن) وزیر خزا نہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان مشکل وقت میں فلسطینیوں کے ساتھ کھڑا ہے ۔ غزہ کی موجودہ صور تحال مسلم دنیا کی جانب سے فوری توجہ کی طلب گار ہے ، غزہ کے لوگوں کو صرف ہمدرادانہ الفاظ کی نہیں بلکہ عملی اقدا مات کی ضرورت ہے ۔ جنگ کا مستقل خاتمہ ممکن بنا نا وقت کا تقاضا ہے ۔ اسلامی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کا غیرمعمولی اجلاس سعودی عرب کے شہر جدہ میں او آئی سی کے ہیڈ کوارٹر میں منعقد ہوا، اجلاس میں تنظیم کے رکن ممالک نے شرکت کی جہاں پاکستان کی نمائندگی وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کی۔اجلاس کے دوران فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی جارحیت، جبری نقل مکانی اور ان کی سرزمین پر الحاق کے منصوبوں پر گفتگو کی گئی، وزرائے خارجہ نے متفقہ طور پر عرب منصوبے کے تحت غزہ کی تعمیر نو کی حمایت کی اور فلسطینی عوام کو جبراً غزہ سے بیدخل کرنے کے کسی بھی بیان کو مسترد کر دیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مسلم امہ کو رمضان ا لمبارک کے مہینے کی مبارکباد دیتے ہوے کہا کہ دعا گو ہیں کہ یہ مبارک مہینہ امن ترقی او ر خوشحا لی لے کر آئے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑا ہے اور عرب لیگ کے فیصلے کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ غزہ کی تعمیر نو کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ اسرائیل فلسطینیوں پر جاری مظالم بند کرے اور عالمی قوانین کی پاسداری کرے۔ انہوں نے کہا فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی جنگی جرم ہے۔ 1967 کی سرحدوں پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام ضروری ہے۔ جس کا دار لحکومت القدس الشریف ہو ۔ انہوں نے کہا کہ او آئی سی کو فلسطینی عوام پر مظالم رکوانے کے لیے عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔ انہوں نے فلسطین کی اقوام متحدہ کی مکمل رکنیت کی حمایت کرتے ہوے کہا او آئی سی اسرائیلی جارحیت کے خلاف متحد ہو،فلسطینی عوام کو بیانات نہیں، عملی مدد کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا غزہ میں انسانی امداد کی بندش ظالمانہ اقدام ہے۔ اسرائیل ایسا کر کے جنگی جرائم کا مر تکب ہو رہا ہے ۔ اسرائیل کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں کا حساب دینا ہوگا۔ انہوں نے کہا او آئی سی کو اسرائیلی مظالم پر خاموش نہیں رہنا چاہیے۔ انہوں نے کہا پاکستان اقوام متحدہ میں فلسطینی عوام کے حقوق کی آواز بلند کرے گا۔
غزہ میں مستقل جنگ بندی اور تعمیر نو کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج غزہ تاریک ترین دور سے گزررہا ہے۔ غزہ کا بنیادی ڈھا نچہ مکمل طور تباہ ہو چکا ہے ۔ فلسطین کی موجودہ صورتحال مسلم دنیا فوری تو جہ کی طلب گار ہے، انہوں نے کہا کہ اسرائیل جنگبندی کے باوجود فلسطینیوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ ڈھا رہا ہے ۔ عورتوں اور بچوں سمیت پچاس ہزار فلسطینی شہید کئے جا چکے ۔ فلسطینی عوام کو اپنے علاقوں سے نکالنا نسل کشی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان جنگبندی کے اقدام کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ اسلامی تعاون تنظیم ہر اس تجویز کو ردکرے جو فلسطینیوں کو بے گھر کرنے کے لئے ہے ،۔ انہوں نے کہا غیر صورتحال کا خاتمہ مستقل امن سے ہی ممکن ہے ۔
Comments are closed.