اسلام آباد(آن لائن)وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے ہدایت کی ہے کہ یقینی بنایا جائے کہ کوئی بھی منافع خور سزا سے بچ نہ پائے اور کوئی بے گناہ زیر عتاب نہ آئے،عوامی نمائندے اور وفاقی وزراء سستی اشیائے ضروریہ کی عوام کی فراہمی کیلئے رمضان بازار، سہولت اسٹالز اور دیگر مختص مقامات کے دورے یقینی بنائیں، پرائس کنٹرول کے نظام کی مسلسل نگرانی کی جائے تاکہ عوام کو ریلیف کی فراہمی میں کوئی کمی نہ آئے۔ وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت اسلام آباد میں رمضان المبارک کے دوران اشیاء خوردونوش ارزاں قیمتوں پر فراہم کرنے کے لیے قائم کردہ کمیٹی کی کارکردگی کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا۔وزیراعظم نے رمضان المبارک میں اشیاء خوردونوش کی قیمتیں کنٹرول کرنے اور عوام کو اشیائے ضروریہ کم نرخوں پر دستیابی پر کمیٹی اور اسلام آباد انتظامیہ کی کاکردگی کو سراہااورکہا کہ یقینی بنایا جائے کہ کوئی بھی منافع خور سزا سے بچ نہ پائے اور کوئی بے گناہ زیر عتاب نہ آئے، ماہ رمضان میں عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے کیلئے پرعزم ہیں۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ عوامی نمائندے اور وفاقی وزراء سستی اشیائے ضروریہ کی عوام کی فراہمی کیلئے اسلام آباد میں قائم رمضان بازار، سہولت اسٹالز اور دیگر مختص مقامات کے دورے یقینی بنائیں‘پرائس کنٹرول کے نظام کی مسلسل نگرانی کی جائے تاکہ عوام کو ریلیف کی فراہمی میں کوئی کمی نہ آئے۔اجلاس میں وزیر اعظم کو قیمتیں کم کرنے کے اقدامات، سستی اشیاء خوردونوش کی فراہمی کے لیے قائم کردہ سہولت مراکز اور منافع خوروں کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ اسلام آباد میں 16 سہولت سٹالز، 5 رمضان بازار، 18 فیئر پرائس دکانیں اور متعدد دیگر سہولیات قائم کی گئی ہیں، ان سہولیات میں گھی، انڈے، دالیں، چینی، چکن اور دیگر اشیائے خوردونوش مارکیٹ ریٹ سے کم نرخوں پر فروخت ہو رہی ہیں، 12اشیاء ضروریہ کی ارزاں نرخوں پر فراہمی یقینی بنانے کے لیے ڈپارٹمنٹل سٹورز میں ڈی سی کاؤنٹر قائم کیے گئے ہیں، رمضان المبارک کے آغاز سے اب تک منافع خوروں کے خلاف 4915 انسپکشنز، 785 گرفتاریاں اور 728000 روپے کے جرمانے عائد کیے جا چکے ہیں، پرائس مجسٹریٹس کی کارکردگی کی نگرانی کے لیے آن لائن ایپ استعمال کی جا رہی ہے، بیت المال کے تحت اسلام آباد میں 8 مقامات پر مستحق روزہ داروں کو افطاری کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔اجلاس میں وفاقی وزرا ڈاکٹر احسن اقبال، احد خان چیمہ، عطا اللہ تارڑ، طارق فضل چوہدری، حنیف عباسی، وزیر مملکت طلال چوہدری اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران شریک تھے۔
Comments are closed.