کریڈٹ درجہ بندی کی بین الاقوامی ایجنسی موڈیز نے پاکستانی بینکوں کا منظرنامہ مستحکم سے مثبت کردیا

زرمبادلہ کے ذخائر بہت کم ،پاکستان کی بیرونی پوزیشن اب بھی نازک ہے‘پاکستان میں مہنگائی کی وجہ سے سماجی تناوٴ بڑھنے کا خدشہ ہے

نیویارک (آن لائن)کریڈٹ درجہ بندی کی بین الاقوامی ایجنسی موڈیز نے پاکستانی بینکوں کا منظرنامہ مستحکم سے مثبت کردیااور کہا ہے کہ رواں سال 2025ء میں پاکستان کی معاشی نمو 3 فیصد متوقع ہے‘آئی ایم ایف پروگرام سے پاکستان کیلئے فنڈنگ کے امکانات میں بہتری آئے گی‘زرمبادلہ کے ذخائر بہت کم ہیں ،پاکستان کی بیرونی پوزیشن اب بھی نازک ہے‘پاکستان میں مہنگائی کی وجہ سے سماجی تناوٴ بڑھنے کا خدشہ ہے۔رواں مالی سال پاکستان کی بیرونی فنانسنگ کی ضرورت تقریباً 21 بلین ڈالر‘ مالی سال 27-2026 کے لیے تقریباً 23 بلین ڈالر کی مالی ضرورت ہوگی۔ موڈیز کے مطابق مثبت منظرنامہ بینکوں کی لچک دار مالی کارکردگی کے سبب کیا گیا ہے، مثبت منظرنامہ ایک سال قبل کے مقابلے میں بہتر معاشی حالات کا اظہار بھی ہے۔رواں سال 2025ء میں پاکستان کی معاشی نمو 3 فیصد متوقع ہے۔

گزشتہ سال میں شرح نمو 2اعشاریہ پانچ تھی۔آئی ایم ایف پروگرام سے پاکستان کیلئے فنڈنگ کے امکانات میں بہتری آئے گی۔یا آئی ایم ایف پروگرام پاکستان کو فنانسنگ کے معتبر ذرائع فراہم کرے گا ۔اس پروگرام کے بعد دیگرممالک اور عالمی مالیاتی اداروں سے فنڈنگ کا حصول شامل ہے۔موڈیز کے مطابق رواں مالی سال پاکستان کی بیرونی فنانسنگ کی ضرورت تقریباً 21 بلین ڈالر ہیں۔ جبکہ مالی سال 27-2026 کے لیے تقریباً 23 بلین ڈالر کی مالی ضرورت ہوگی۔ پاکستان کے پاس 904 ارب ڈالرز کے زرمبادلہ ذخائر ضرورت سے بہت کم ہیں۔پاکستان کی بیرونی پوزیشن اب بھی نازک ہے۔ بلند بیرونی مالیاتی ضروریات کے ساتھ 3 سے 5 سال پالیسیوں میں مشکلات پیش ہوں گی۔کمزور گورننس، اعلیٰ سماجی تناوٴ، حکومتی اصلاحات آگے بڑھانے کی صلاحیت کو متاثر کر سکتا ہے۔موڈیزکے مطابق پاکستان میں مہنگائی کی وجہ سے سماجی تناوٴ بڑھنے کا خدشہ ہے۔ زیادہ ٹیکسز اور توانائی نرخ میں مستقبل کی ایڈجسٹمنٹ اصلاحات پر دباوٴ ڈال سکتی ہیں۔

Comments are closed.