کسی فوجی اہلکار کے کام میں رخنہ ڈالنے کا جرم انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت آتا ہے، جسٹس جمال مندوخیل
اسلام آباد(آن لائن)سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے خلاف انٹراکورٹ اپیلوں پر سماعت کے دوران جسٹس امین الدین خان نے کہاکہ اگر تعلق نہیں بھی بنتا تب بھی سیکشن ٹوون ڈی ٹو کالعدم قرار کیسے دیا جا سکتا ہے۔جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دئیے کہ کسی فوجی اہلکار کے کام میں رخنہ ڈالنے کا جرم انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت آتا ہے، 9 مئی واقعات میں دوسرا جرم آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت آتا ہے، ہم مرکزی فیصلے سے اتفاق بھی کرلیں تو اپنی رائے الگ سے دے سکتے ہیں، جسٹس محمد علی مظہرنے ریمارکس دیے ہیں کہ آرمی ایکٹ تو خصوصی طور پر افواج پاکستان کے ممبران کیلئے ہے۔انھوں نے یہ ریمارکس بدھ کے روزدیئے ہیں۔ جسٹس امین الدین کی سربراہی میں سات رکنی آئینی بینچ نے فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے خلاف انٹراکورٹ اپیلوں پر سماعت کی۔جسٹس محمد علی مظہر نے کہاکہ خواجہ صاحب! جواب الجواب مختصر ہوتے ہیں،عدالت نے کہاکہ جو پوائنٹس پہلے کور نہیں کر سکے اور مخالف وکلا کی جانب سے اٹھائے گئے اس پر معاونت کریں،خواجہ حارث نے کہاکہ مخالف وکلا نے فیصلے پر دلائل نہیں دیئے،بنیادی طور پر 4پوائنٹس ہیں جو مخالف وکلا کی جانب سے اٹھائے گئے،مخالف وکلا نے شفاف ٹرائل اور آزاد عدلیہ پر دلائل دیئے،
جسٹس مسرت ہلالی نے کہاکہ عدالتیں آرٹیکل 175کے تحت بنیں، بتائیں کیا یہ عدالت بھی اس کے تحت بنیں،جسٹس جمال مندوخیل نے کہاکہ کوئی ایسا فورم ہے جو 175کے تحت نہ بنا ہو، وہ سویلین کا ٹرائل کر سکتے ہوں،جسٹس امین الدین خان نے کہاکہ دوسری طرف کے وکلا نے کہا انٹراکورٹ اپیل کا دائرہ محدود ہے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہاکہ یہ آئینی بنچ ہے کوئی ہائیکورٹ نہیں کہ دائرہ سماعت محدود ہوگا، جسٹس امین الدین نے کہاکہ نیا آئینی بنچ مقدمہ سن رہا ہے تمام میرٹس زیربحث آ سکتے ہیں،وکیل خواجہ حارث نے کہاکہ آئینی بنچ تو اپیل میں کیس واپس بھی بھیج سکتا ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہاکہ ہم مرکزی فیصلے سے اتفاق بھی کرلیں تو اپنی رائے الگ سے دے سکتے ہیں۔،جسٹس محمد علی مظہر نے کہاکہ شروع میں سپریم کورٹ میں بنچ 9رکنی تشکیل دیا گیا تھا،بعد میں بنچ کم ہوتے ہوتے 5رکنی رہا گیا۔دوران سماعت جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دئیے کہ عدالتیں آرٹیکل 175 کے تحت بنیں، کیا فوجی عدالت عدالت بھی آرٹیکل 175 کے تحت بنیں؟جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کوئی ایسا فورم ہے جو آرٹیکل 175 کے تحت نہ بنا ہو اور شہریوں کا ٹرائل کر سکتا ہو؟ جسٹس محمد علی نے کہا آرمی ایکٹ تو خصوصی طور پر افواج پاکستان کے ممبران کیلئے ہے۔ وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث نے کہاکہ آئین پاکستان میں درج ہے کہ آرمی ایکٹ آرمڈ فورسز کے ڈسپلن اور فرائض کی انجام دہی کیلئے ہے، میں آپ کے سامنے بتا دوں کہ 9 مئی کے واقعات میں انسداد دہشتگری کا کوئی جرم نہیں تھا۔
جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دئیے کہ کسی فوجی اہلکار کے کام میں رخنہ ڈالنے کا جرم انسدادِ دہشتگردی ایکٹ کے تحت آتا ہے، 9 مئی واقعات میں دوسرا جرم آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت آتا ہے۔خواجہ حارث نے کہا آرٹیکل 8 یقینی بناتا ہے کہ افواج اپنے فرائض کو درست طریقے سے ادا کر سکیں۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہا ایف بی علی کیس میں بنیادی حقوق کا سوال تو آیا ہے، خواجہ حارث نیجواب دیا ایف بی علی کیس چیلنج اس بنیاد پر ہوا تھا کہ ہمارے بنیادی حقوق سلب ہورہے ہیں۔جسٹس مسرت ہلالی نے وزارت دفاع کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ا#پ کب تک دلائل مکمل کر لیں گے،جسٹس مسرت ہلالی نے کہاکہ آئندہ دو ہفتے میں دستیاب نہیں ہوں،اس کے ساتھ ہی فوجی عدالتوں سے متعلق کیس کی سماعت آج جمعرات تک ملتوی کردی گئی، خواجہ حارث جواب الجواب جاری رکھیں گے۔
Comments are closed.