اسلام آباد(آن لائن)قومی اسمبلی اجلاس میں صدر پاکستان کے خطاب پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے کہا کہ بلوچستان میں بی ایل اے نے سیکیورٹی فورسز کے جوانوں کو یرغمال بنایا ہم بی ایل اے کے اس حملے کی مذمت کرتے ہیں آج وقفہ سوالات موخر کرتے اور اس واقعے پر بات کرتے‘ بلوچستان پر بات ہورہی ہے اور حکومتی اراکین گپ شپ کررہے ہیں‘ پچاس سو دہشت گرد اکٹھے کیسے ہوتے ہیں دہشتگردوں کو کس نے اکٹھا ہونے دیا ‘تحریک انصاف کے پانچ لوگ اکٹھے ہوں تو پولیس مارتی ہے‘ اڈیالہ جیل کے سامنے ہمیں پانچ بندوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ اس حکومت نے پاکستان کی علاقائی سالمیت کو ہلا کر رکھ دیا ہے آج تک مخصوص نشستوں کا فیصلہ نہیں ہوا پارلیمنٹ کے دونوں ایوان نامکمل ہیں کیا ان کو دہشت گرد نظر نہیں آتے۔ عمر ایوب نے کہا کہ حمود الرحمن کمیشن کی رپورٹ آج تک نہیں آئی آرمی پبلک سکول کی رپورٹ ابھی تک نہیں آئی اسامہ بن لادن، ایبٹ آباد کمیشن رپورٹ سامنے نہیں آئی فارن فورسز ایبٹ آباد آئیں اور ہمیں پتہ نہیں تھا نو مئی کے اوپر بھی کمیشن بٹھائیں ڈی چوک پر سنائپرز نے گولیاں چلائیں صدر کی تقریر کے دوران مریم نواز سے لوگ ملتے رہے‘کیا یہ ایوان کا ڈیکورم ہوتا ہے ایوان کو چلانے کیلئے کمیٹی بنائی وہ کہاں گئی؟
رینجرز سندھ پولیس پنجاب پولیس اور مسلح افواج ریاست نہیں ہے صدر پاکستان کے اتحاد کی علامت ہے صدر کی تقریر کے دوران مسلح افواج کے سربراہان کہاں تھے جس وقت پارلیمنٹ کو ادارہ نہیں سمجھا جاتا اور پارلیمنٹ میں اندر سے ارکان کی گرفتاری کی جاتی ہے‘ مطلب پارلیمنٹ میں جمہوریت نہیں ہے‘غیراعلانیہ مارشل لاء ہے میں نے متعددبار توجہ دلاؤ نوٹسز جمع کرائے اور جواب کتنوں کے آئے؟ زیرو آئے میں نے اسپیکر کو کہا جواب نہیں آئے اسپیکر صاحب نے کہا حکومت جواب دینا نہیں چاہتی میں نے کہا لکھ کر دیں جواب موصول نہیں ہو میں تمام ساتھیوں کو کہتا ہوں کہ بغیر سیکیورٹی کے بازار چلتے ہیں اور مہنگائی کا پتا کرتے ہیں کہ کتنی کم ہوئی ہے فوڈ انفلیشن ابھی اور ہو گی جس سے مہنگائی اور بڑھے گی بیورو کریسی اور گورنمنٹ کر کیا کر رہی ہے؟ مریم نواز صاحبہ کو کوئی مشورہ دیتا ہے کہ کارکردگی رپورٹ چھپوا دیں تو آپکی واہ واہ ہو جائے گی اس ملک میں ڈنڈے کے زور پر احکامات دیئے جاتے ہیں کوئی مشاورت نہیں ہوئی، کوئی مشترکہ مفادات اجلاس نہیں بلایا گیا ایک حکم پر دریائے سندھ کے پانی پر بغیر مشاورت کے نہروں کے نکالنے کا فیصلہ کرلیا گیاپیپلز پارٹی نے حکومت کا ساتھ دیا اور ن لیگ نے انکی پیٹھ میں چھرا گھونپ دیا گیا پیکا ایکٹ ڈنڈے کے زور پر منظور کراکر میڈیا کا گلا گھونٹ دیا گیا آئی جی اسلام آباد بطور اپوزیشن لیڈر مجھے دھمکاتا ہے کہ میں بلوچستان، سندھ اور فاٹا کے ایشو پر بات نہ کروں اختر مینگل کیساتھ کیا سلوک کیا گیا وہ کیوں اس ایوان میں نہیں آتے کبھی ان سے ان کی کہانی سنیں
، اختر مینگل کے 1100 لوگوں کے خلاف ایف آئی آر کاٹی گئیں آپ کو اختر مینگل، محمود اچکزئی، عادل بازئی سمیت اپوزیشن نظر آتی ہے، دہشت گرد نظر نہیں آتے دہشت گرد اس لئے نظر نہیں آتے کیوں کہ وہ سیدھی گولی چلاتا ہے بلوچستان میں صوبائی حکومت کہاں ہے؟ بلوچستان میں آگ لگی ہوئی ہے، بلوچستان میں کوئی حکومتی رٹ نہیں بلوچستان میں اس حکومت میں بیٹھا کوئی رکن بغیر سیکیورٹی دن 12 بجے بھی اپنی گاڑی پر نہیں جاسکتابلوچستان کے بعض اضلاع اس وقت نوگو ایریاز بنے ہوئے ہیں مگر امن و امان کی بجائے ادارے پاکستان تحریک انصاف کے پیچھے پڑے ہیں 9/11 کے بعد جو جدید ترین اسلحہ دیا گیا وہ کیوں پاکستانی سویلین کے خلاف کیوں استعمال ہوا 9 مئی میں ظل شاہ سمیت دیگر پی ٹی آئی ارکان کو فالس فلیگ آپریشن میں مارا گیا 26 نومبر کو بھی سنائپر رائفلز کیساتھ لوگوں کو مارا گیا مگر کیوں؟ یہ فیڈریشن کا حال ہے؟ قومی اسمبلی کا اجلاس کل ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔
Comments are closed.