سیکیورٹی فورسز نے 339 یرغمالیوں کو بازیاب کرایا‘وزیراعظم کا فورسز کو خراج تحسین

سیکیورٹی فورسز نے 339 یرغمالیوں کو بازیاب کرایا‘وزیراعظم کا فورسز کو خراج تحسین
جیلوں میں قید ہزاروں طالبان کو آزاد،ملک کی خاطر جانیں دینے والوں کے خلاف باتیں نہیں بر داشت کر سکتے ‘کوئٹہ میں خطاب

کوئٹہ (آن لائن)وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے 339 یرغمالیوں کو بازیاب کرایا‘سانحہ جعفر ایکسپریس پر پوری قوم اشکبار ہے ‘400 سے زیادہ نہتے لوگوں کو یرغمال بنایا گیا ‘مسافر عید منانے اپنے گھر وں کو جا رہے تھے ‘واقع سے نمٹنے کے لئے سیکیورٹی فورسز نے کامیاب حکمت عملی اپنائی‘33 دہشتگردوں کو جہنم واصل کرنے پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ کوئٹہ دورے کے موقع پرامن و امان سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ آج ایسے موقع پر جمع ہوئے ہیں، جس پر پوری قوم اشکبار ہے کہ تین دن پہلے بولان میں دہشتگردوں نے ایک ٹرین جس میں 400 سے زائد پاکستانی سفر کررہے تھے، ان کو یرغمال بنایا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اسے حادثات کا متحمل نہیں ہو سکتا ۔امن کے لئے تمام اکائیوں کو کرداد ادا کرنا ہو گا۔2018 میں دہشت گردی کا خاتمہ ہو گیا تھا ،دہشت گردی کے ناسور نے دوبارہ سر اٹھایا ہے ،طالبان کے ساتھ اپنا رشتہ جوڑنے والوں کے باعث ہم آج یہ دن دیکھ رہے ہیں ،انہوں نے جیلوں میں قید ہزاروں طالبان کو آزاد،ملک کی خاطر جانیں دینے والوں کے خلاف باتیں نہیں بر داشت کر سکتے ،افواج پاکستان کے جوان دہشتگردی کے خلاف قربانیاں دے رہیے ہیں ،دہشتگردی کو ختم نہ کیا گیا تو ترقی کا سفر رک جائے گا ،حالات جیسے بھی ہوں ہم نے مل کر کام کرنا ہے ۔انہوں نے کہا کہ نہتے پاکستانیوں کو شہید کیا اور ان کو رمضان کے تقدس کا احساس نہیں تھا، بچوں، بزرگوں اور خواتین کا احساس نہیں تھا

، انتہائی ظالمانہ طریقے سے انہوں نے ٹرین سے نکالا، اور میدان میں بیٹھایا اور ایسا واقعہ شاید پاکستان کی تاریخ میں پہلے کبھی رونما نہیں ہوا۔شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اور اس ویرانے میں جس طرح بے یار و مددگار مسافر بیٹھے تھے، جو اپنے گھروں پر عید منانے جا رہے تھے، اس میں فوجی جوان بھی موجود تھے، اس کے بعد جس طریقے سے ان دہشت گردوں سے نمٹنے کے لیے جو حکمت عملی اپنائی گئی، اس کی کئی جہتیں تھیں۔انہوں نے کہا کہ ایک تو پاکستانیوں کی جانوں کو بچانا تھا اور دہشتگردوں کا بھی خاتمہ کرنا تھا، وہاں پر خودکش بمباروں نے اپنے گھیرے میں رکھا ہوا تھا، ہم سب کو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ جنرل عاصم منیر کی لیڈرشپ میں اور کور کمانڈر کوئٹہ کی مکمل سرپرستی میں اور درجہ بدرجہ جو اس کام کے لیے یونٹس مامور تھے، آئی ایس آئی، ایم آئی، ایم او ڈائریکٹوریٹ اور جو ضرار کمپنی ہے، جو ایسے ہی لوگوں کو جہنم رسید کرنے کیلیے تیار کی گئی ہے۔وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ انہوں نے جو مشترکہ اسکیم بنائی، الحمد اللہ اس کے نتیجے میں 339 ہمارے پاکستانیوں کو چھڑوایا گیا، اور 33 دہشتگردوں کو جہنم رسید کیا گیا، ابھی 2، ڈھائی گھنٹے کی پریزنٹیشن ہوئی ہے، اس کے بعد ہم ہسپتال میں زخمیوں کی عیادت کرنے گئے تھے۔وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز نے 339 یرغمالیوں کو بازیاب کرایا۔انہوں نے کہا کہ نہتے پاکستانیوں کو شہید کیا اور ان کو رمضان کے تقدس کا احساس نہیں تھا، بچوں، بزرگوں اور خواتین کا احساس نہیں تھا،

انتہائی ظالمانہ طریقے سے انہوں نے ٹرین سے نکالا، اور میدان میں بیٹھایا اور ایسا واقعہ شاید پاکستان کی تاریخ میں پہلے کبھی رونما نہیں ہوا۔شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اور اس ویرانے میں جس طرح بے یار و مددگار مسافر بیٹھے تھے، جو اپنے گھروں پر عید منانے جا رہے تھے، اس میں فوجی جوان بھی موجود تھے، اس کے بعد جس طریقے سے ان دہشت گردوں سے نمٹنے کے لیے جو حکمت عملی اپنائی گئی، اس کی کئی جہتیں تھیں۔انہوں نے کہا کہ ایک تو پاکستانیوں کی جانوں کو بچانا تھا اور دہشتگردوں کا بھی خاتمہ کرنا تھا، وہاں پر خودکش بمباروں نے اپنے گھیرے میں رکھا ہوا تھا، ہم سب کو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ جنرل عاصم منیر کی لیڈرشپ میں اور کور کمانڈر کوئٹہ کی مکمل سرپرستی میں اور درجہ بدرجہ جو اس کام کے لیے یونٹس مامور تھے، آئی ایس آئی، ایم آئی، ایم او ڈائریکٹوریٹ اور جو ضرار کمپنی ہے، جو ایسے ہی لوگوں کو جہنم رسید کرنے کیلیے تیار کی گئی ہے۔وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ انہوں نے جو مشترکہ اسکیم بنائی، الحمد اللہ اس کے نتیجے میں 339 ہمارے پاکستانیوں کو چھڑوایا گیا، اور 33 دہشتگردوں کو جہنم رسید کیا گیا، ابھی 2، ڈھائی گھنٹے کی پریزنٹیشن ہوئی ہے، اس کے بعد ہم ہسپتال میں زخمیوں کی عیادت کرنے گئے تھے۔شہباز شریف نے کہا کہ ضرار یونٹ جو دہشت گردی کے خلاف بنایا گیا ہے، اس کے افسروں اور جوانوں سے میں نے خطاب کیا اور ان سب کو دل کی اتھاہ گہرائیوں سے اپنی طرف سے، حکومت پاکستان کی طرف سے اور 24 کروڑ عوام کی طرف سے ان کا شکریہ ادا کیا، اور ان کی جرات، جواں مردی اور ان کی دلیری کی تحسین کی۔

Comments are closed.