افغان حکومت جعفر ایکسپریس حملے میں ملوث کرداروں کیخلاف کارروائی کرے ، پاکستان

پاکستانیوں کی امریکا داخلے پر پابندی سے متعلق صرف افواہیں ہیں، ایسا کچھ نہیں ہورہا،ترجمان دفتر خارجہ
بھارت کی جانب سے دوکشمیری تنظیموں ہر پابندیاں انتہائی قابل مذمت ہیں، ترجمان کی ہفتہ وار بریفنگ

اسلام آباد (آن لائن) پاکستان نے افغان حکومت سے جعفر ایکسپریس حملے میں ملوث کرداروں کیخلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوے کہا ہے کہ حملہ بیرون ملک سے پلان تھا ، حملہ آور افغان دہشتگردوں سے رابطے میں تھے ۔ افغانستان اس معاملے میں تعاون کرے ۔ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات آگے بڑھنے کی راہ میں دہشت گردی کا مسئلہ ہی بڑی رکاوٹ ہے ۔ بھارت کی جانب سے دوکشمیری تنظیموں ہر پابندیاں انتہائی قابل مذمت ہیں ۔ اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں کیلئے امدادرو کنا ایک مذموم عمل ہے ۔ ہفتہ وار پریس بریفنگ میں ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے کہا کہ جعفر ایکسپریس پر حملہ ملک سے باہر دہشت گردوں کا پلان تھا، افغان حکومت پر زور دیتے ہیں کہ ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کرے، افغان حکام پر زور دیتے ہیں کہ وہ پاکستان کے ساتھ تعاون کرے۔پاکستان دہشت گردی کا شکار رہا ہے۔ پاکستان ان تخریب کاروں کا نشانہ رہاہے جو کہ ہماری سرحدوں سے باہر ہیں۔ جعفر ایکسپریس ٹرین دہشت گردی میں دہشت گرد افغان دہشتگردوں سے رابطے میں تھے۔پاکستان دہشت گردی کا شکار رہا ہے۔ پاکستان ان تخریب کاروں کا نشانہ رہاہے جو کہ ہماری سرحدوں سے باہر ہیں۔ جعفر ایکسپریس ٹرین دہشت گردی میں دہشت گرد افغان دہشتگردوں سے رابطے میں تھے۔

ترجمان نے کہا پاکستانی حکومت کثیر الجہتی حکمت عملی پر گامزن ہے۔ ہم نے ابھی جعفر ایکسپریس ٹرین دہشت گردی پر ریسکیو آپریشن مکمل کیا ہے۔ ہم سفارتی رابطوں کو اس طرح پبلک فورم پر بیان نہیں کرتے۔ ماضی میں بھی ہم ایسے واقعات کی مکمل تفصیلات افغانستان کے ساتھ شئیر کرتے رہتے ہیں۔ یہ ایک مسلسل عمل ہے جو جاری رہتا ہے۔ ترجمان نے بھارتی حکام کی جانب دو کشمیری تنظیموں کو غیر قانونی قرار دینے کی مذمت کرتے ہوے بھارت پر زور دیا کہ کشمیری سیاسی جماعتوں پر عائد پابندیاں ہٹائے، بھارت نے عوامی ایکشن کمیٹی اور جموں و کشمیر اتحاد المسلمین‘ کو پانچ سال کے لیے غیر قانونی ایسوسی ایشن قرار دیا ہے۔ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت ممتاز سیاسی اور مذہبی رہنما میر واعظ عمر فاروق کررہے ہیں جبکہ جموں و کشمیر اتحاد المسلمین کی بنیاد مولانا محمد عباس انصاری نے رکھی تھی، اس فیصلے سے کالعدم کشمیری سیاسی جماعتوں اور تنظیموں کی کل تعداد 16 ہو گئی ہے، سیاسی جماعتوں اور تنظیموں پر پابندی لگانا بھارتی حکام کے رویے کو ظاہر کرتا ہے۔امریکا کی جانب سے پاکستان پر سفری پابندیوں کے معاملے پر درعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سفری پابندیوں سے متعلق میڈیا رپورٹس دیکھی ہیں ابھی تک یہ صرف قیاس آرائیاں ہیں ، امریکا میں ہمارا سفارتخانہ امریکی حکام کے ساتھ رابطے میں ہے، ابھی تک اس بارے میں کوئی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ترجمان نے کہا پاکستان اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں کیلئے امدادروکنے کے عمل کی مذمت کرتا ہے، اسرائیلی اقدام کا مقصد امدادی تنظیموں کی سرگرمیوں کوروکنا ہے، عالمی برادر ی اسرائیلی مظالم کو روکنے میں اپنا کردارادا کرے۔ترجمان نے کہا کہ وزیر خارجہ نے او آئی سی کے وزرائے خارجہ کونسل کی میٹنگ میں شرکت کی، اسحاق ڈار نے فلسطینیوں کے لیے پاکستان کی مکمل تعاون کے کا اعادہ کیا۔ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ وزیر خارجہ نے سائیڈ لائنز پر فلسطینی وزیر اعظم ، او آئی سی کے سیکرٹری جنرل اور دیگر سے ملاقاتیں کیں، اسحاق ڈار کی سائیڈ لائنز پر ترکیہ کے وزیر خارجہ سمیت دیگر سے بھی ملاقاتیں ہوئیں، نائب وزیراعظم نے مسئلہ فلسطین پرپاکستان کے موٴقف سے آگاہ کیا۔ ترجمان نے کہا ہمارے بہت سے دوست ممالک نے جعفر ایکسپریس دہشت گردی کی مذمت کی ہے۔ ہمارے کئی دوستوں سے ہمارا انسداد دہشت گردی پر تعاون موجود ہے۔ ہماری پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

ترجمان نے کہا جعفر ایکسپریس ٹرین دہشت گردی کے پیچھے بھارت ہے۔ جبکہ اس واقعہ کے دوران ٹریس شدہ کالز میں افغانستان سے رابطوں کا سراغ ملا ہے۔ ترجمان نے کہا ایران ہمارا دیرینہ ہمسایہ دوست ملک ہے۔ کوئی بھی ایسا عمل جو کہ جے سی پی او سے متعلق معاملات کو پر امن طور پر حل کر سکے کی حمایت کرتے ہیں۔ ترجمان نے کہا دہشت گردی ہمارے.لیے ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔ ترجمان نے کہا پاکستان میں موجود کسی بھی غیر ملکی شہری کے لیے قوانین موجود ہیں۔ ترجمان نے کہا ہمیں کے پی حکومت سے افغانستان سے بات چیت کے لیے کوئی درخواست موصول نہیں ہوئی ہے ۔ چینی نمائندہ خصوصی برا ئے افغانستان کا دورہ پاکستان معمول کی مشاورت کا حصہ ہے۔ کرم ایجنسی کے معاملے کا تعلق وفاقی و صوبائی حکومتوں سے ہے۔ ترجمان نے چینی وزیراعظم کے دورہ کی رپورٹوں کو مسترد کرتے ہوے کہا کہ انکا پاکستان کے دورے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ یہ خبر مکمل طور پر ایک فیک نیوز ہے ۔ ترجمان نے کہا یو ایس ایڈ کی سکولوں کے لئے مختص رقوم کے دہشت گردی میں استعمال کے مبینہ الزامات بے بنیاد ہیں ۔

Comments are closed.