اسلام آباد ہائی کورٹ نے جیل سپرنٹنڈنٹ اور آئی جی اسلام آباد کو بیان حلفی جمع کرانے کی ہدایت کر دی
عدالت نے لاکلرک سکینہ بنگش کو اڈیالہ جیل بھجوانے کیلئے کمیشن مقرر کردیا
اسلام آباد(آن لائن )اسلام ٓاباد ہائیکورٹ نے مشال یوسفزئی کی بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات روکنے کے خلاف کیس میں سپرنٹنڈنٹ جیل اور آئی جی اسلام آباد کو بیان حلفی جمع کرانے کی ہدایت کردی،عدالت نے لاکلرک سکینہ بنگش کو اڈیالہ جیل بھجوانے کیلئے کمیشن مقرر کردیا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے عدالتی کمیشن سے 4سوالات کا جواب مانگ لیا، عدالت نے کہاکہ بانی پی ٹی آئی سے ملکر پوچھیں کہ مشال ان کی وکیل ہیں یا نہیں،عدالتی سوال کیا بانی پی ٹی آئی کو وکالت نامے پر دستخط کرانے کی اجازت دی گئی ہے یا نہیں؟جبکہ جسٹس سرداراعجازاسحاق نے ریمارکس دیے ہیں کہ یہ عدالت کے آرڈر کی توہین ہے جو گزشتہ سماعت پر فریقین کی رضامندی سے ہوا تھا۔ جیل اتھارٹیز سے توقع تھی کہ وہ عدالتی حکم پر عمل کرتی۔ بادی النظر میں عدالت مطمئن ہے کہ یہ جیل اتھارٹیز نے توہین عدالت کی ہے انھوں نے یہ ریماکس جمعہ کے روزدیے ہیں۔ایڈووکیٹ جنرل نے کہاکہ سکیورٹی خدشات کے پیش نظربانی کو جیل سے لانا ممکن نہیں،ویڈیو لنک کے ذریعے پیش کرنے کیلئے لنک دستیاب نہیں،جیل سپرنٹنڈنٹ نے کہاکہ منگل کو بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی ملاقات کرائی جاتی ہے،بانی کی دستخط شدہ 6وکلا پر مشتمل فہرست بھی عدالت میں پیش کی گئی۔مشال یوسفزئی نے کہاکہ کمیشن مقرر ہورہا ہے تو یہ ہمارے لئے گولڈن موقع ہے،
کمیشن پوچھے بانی سے دوستوں کی ملاقات کرائی جارہی ہے یا نہیں،کیس کی سماعت آئندہ جمعہ تک ملتوی کردی۔اس سے قبل اسلام آبادہائی کورٹ نے سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو عمران خان سے ملاقات کرکے عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیاتھاپھر ویڈیولنک کے ذریعے پیش کرنے کے احکامات بھی جاری کیے گئے۔جمعہ کو سامعت شروع ہوئی توپی ٹی آئی رہنما مشال یوسفزئی کو بانی پی ٹی آئی سے ملاقات سے روکنے کے خلاف کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے دن 12 بجے سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو طلب کیا۔ عدالت نے حکم دیا کہ سپرنٹنڈنٹ جیل بانی پی ٹی آئی سے مل کر آئیں۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے ریمارکس دیے کہ بانی پی ٹی آئی سے پوچھ کر بتائیں کہ مشال یوسفزئی بانی پی ٹی آئی کی وکیل ہیں یا نہیں۔عدالت سپرنٹنڈنٹ جیل کے بیان سے مطمئن نہیں ہوئی تو 3 بجے بانی پی ٹی آئی کو پیش کریں۔ آئی جی اسلام آباد بانی پی ٹی آئی کو عدالت پیش کرنے کے انتظامات کریں گے۔جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے احکامات جاری کیے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ یہ عدالت کے آرڈر کی توہین ہے جو گزشتہ سماعت پر فریقین کی رضامندی سے ہوا تھا۔ گزشتہ سماعت پر عدالت نے پٹیشنر کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کا حکم دیا تھا۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ جیل اتھارٹیز سے توقع تھی کہ وہ عدالتی حکم پر عمل کرتی۔ بادی النظر میں عدالت مطمئن ہے کہ یہ جیل اتھارٹیز نے توہین عدالت کی۔ عدالت کے سامنے ایک لسٹ پیش کی گئی کہ یہ بانی پی ٹی آئی کی جانب سے دی گئی۔ عدالت مطمئن نہیں ہوئی تو بانی پی ٹی آئی سے خود پوچھ لیں گے۔ بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت میں 12 بجے تک وقفہ کر دیا۔وقفے کے بعدپی ٹی آئی رہنما مشال یوسفزئی کو بانی پی ٹی آئی سے ملاقات سے روکنے کے خلاف کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے احکامات جاری کئے
، عدالت نے کہاکہ بانی پی ٹی آئی کو 2بجے ویڈیو لنک کے ذریعے پیش کریں،اگربانی پی ٹی آئی کو ویڈیو لنک کے ذریعے پیش کرنا ہے تو ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد بتائیں۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہاکہ اگر2بجے بانی پی ٹی آئی کو ویڈیو لنک پر پیش نہ کیا گیا تو 3بجے ذاتی حیثیت میں پیش کریں۔جسٹدورانِ سماعت وکیل شعیب شاہین ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ پچھلے 5 ماہ سے سیاسی قیادت کی ملاقات بھی نہیں ہو سکی۔ عدالت نے جیل سپرنٹنڈنٹ سے استفسار کیا کہ کیا آپ کو وکیل نے بتایا ہے کہ آپ کو کیوں زحمت دی گئی ہے؟ جس پر جیل سپرنٹنڈنٹ عبدالغفور انجم نے بتایا کہ میں شہر سے باہر تھا۔عدالت نے استفسار کیا کہ گزشتہ جمعہ کو ملاقات کیوں نہیں کرائی، جس پر انہوں نے جواب دیا کہ گزشتہ جمعہ بانی پی ٹی آئی ملاقات نہیں کرنا چاہتے تھے۔ جج نے پوچھا کہ گزشتہ سماعت کے آرڈر کے بعد آپ نے مشال یوسفزئی کو اپنے کمرے میں بٹھائے رکھا اور ملاقات نہیں کرائی؟ جس پر جیل سپرنٹنڈنٹ نے جواب دیا کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی نے کہا کہ مشال یوسفزئی ہماری وکیل اور فوکل پرسن نہیں۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ اگر بانی پی ٹی آئی کو ویڈیو لنک کے ذریعے پیش کرنا ہے تو ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد بتائیں سردار اعجاز اسحاق نے سپرنٹنڈنٹ جیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ آپ نے مذاق بنایا ہوا ہے۔،جیل سپرنٹنڈنٹ نے کہاکہ منگل کو بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی ملاقات کرائی جاتی ہے،بانی کی دستخط شدہ 6وکلا پر مشتمل فہرست بھی عدالت میں پیش کی گئی۔مشال یوسفزئی نے کہاکہ کمیشن مقرر ہورہا ہے تو یہ ہمارے لئے گولڈن موقع ہے،کمیشن پوچھے بانی سے دوستوں کی ملاقات کرائی جارہی ہے یا نہیں،کیس کی سماعت آئندہ جمعہ تک ملتوی کردی۔
Comments are closed.