اپوزیشن والے بتائیں دہشت گردی پر بات کرنی ہے یا تنظیم سازی پر ،طلال چوہدری

اسلام آباد(آن لائن ) قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیر مملکت طلال چوہدری نے کہا ہے کہ 2018 کے بعد کچھ ایسے فیصلے کیے گئے کہ دوبارہ دہشتگردی لوٹ آئی، ان طالبان کو اپنے سیاسی فائدے کے لیے واپس لاکر بسایا گیابلوچستان میں وزیراعظم تشریف لے گئے وہاں تمام قیادت ساتھ بیٹھی کچھ فیصلے کیے گئے یہ جو کہا جاتا ہے کہ دن میں بھی بلوچستان میں باہر نہیں نکل سکتے بالکل غلط ہے ،ٹی ٹی پی اور بی ایل اے میں کوئی فرق نہیں، دونوں کے کیمپس ہمسایہ ملک میں ہیں، ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کے روز قومی اسمبلی کے اجلاس میں کیا، قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی سربراہی میں منعقد ہوا، اجلاس میں وزیر مملکت طلال چوہدری نے کہا کہ جب بندا فلور پر بات کر رہا ہوتا ہے فیکٹس ٹھیک ہونے چاہئے

،وزارت داخلہ کے ایک ہی وزیر ہیں میں ایک سال کی کارکردگی کے لئے اپنے آپ کو پیش کرتا ہوں، یہ فیشن بن گیا ہے کہ محسن نقوی پر تنقید کی جائے ،ہم ٹھکائی کے علاوہ بھی کام کرتے ہیں ،تقریر کے دوران پی ٹی آئی ارکان کی جانب سے تنظیم سازی کی آوازیں کسی گئیں تاہم طلال چوہدری نے تقریر جاری رکھتے ہوئے کہا کہ تنظیم سازی کے لئے بنی گالا داخلہ لینا ہے، میں اس ہاوٴس کا تقدس برقرار رکھنا چاہتا ہوں، اپوزیشن والے بتائیں تنظیم سازی پر بات کرنی ہے یا دہشت گردی پر، 2018 کے بعد کچھ ایسے فیصلے کیے گئے کہ دوبارہ دہشتگردی لوٹ آئی، ان طالبان کو اپنے سیاسی فائدے کے لیے واپس لاکر بسایا گیاکل بلوچستان میں وزیراعظم تشریف لے گئے ،وہاں تمام قیادت ساتھ بیٹھی کچھ فیصلے کیے گئے یہ جو کہا جاتا ہے کہ دن میں بھی بلوچستان میں باہر نہیں نکل سکتے بالکل غلط ہے ،ایک بار پھر انہیں کہتا ہوں آئیں بیٹھیں بات چیت کریں ،ٹی ٹی پی اور بی ایل اے میں کوئی فرق نہیں، دونوں کے کیمپس ہمسایہ ملک میں ہیں صوبوں کی نالائقی ایجنسیوں اور وفاقی اداروں پر نہیں ڈال سکتے ،یہ اس خطاب پر تقریر کے لئے وقت مانگ رہے ہیں جو انہوں نے سنا ہی نہیں انہیں بات سننے کی عادت نہیں ہے بات تو پرامینس پر ہونی چاہئے ،بعد ازاں قومی اسمبلی کا اجلاس پیر تک ملتوی کر دیا گیا ۔

Comments are closed.