بلوچستان معاملے پر آل پارٹیز کانفرنس بلائی جائے ،قومی اسمبلی میں تقریریں

وزیر مملکت طلال چوہدری نے وقفہ سوالات معطل کرنے کی تحریک پیش کی جسے منظور کرلیا گیا
بلوچستا ن کے معاملے پر سیاست نہ کی جائے،عثمان بادینی،معاشی ترقی کے بغیر ملک ترقی نہیں کر سکتا،شیخ آفتاب
میرا خیال تو یہ تھا وزراء آئیں گے قوم کو اکٹھا کریں گے،خواجہ آصف ایک خاتون سے الیکشن ہار گئے،زرتاج گل

اسلام آباد(آن لائن ) قومی اسمبلی کے اجلاس میں اراکین اسمبلی نے کہا کہ بلوچستان کے معاملے پر اے پی سی بلائی جائے ،دہشت گرد اتنے طاقتور کیوں ہوگئے کہ انہوں نے ریاست کی رٹ کو چیلنج کردیا ہے لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال خراب ہوگی تو سرمایہ کاری کیسے آئے گی ان خیالات کا اظہار رکن اسمبلی عثمان بادینی شیخ آفتاب ،سحر کامران اور زرتاج گل نے جمعہ کے روز قومی اسمبلی کے اجلاس میں کے ا قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی سربراہی میں منعقد ہوا اجلاس میں وزیر مملکت طلال چوہدری نے وقفہ سوالات معطل کرنے کی تحریک پیش کی ایوان نے تحریک منظور کرلی قومی اسمبلی کے اجلاس میں جے یو آئی ف کے رہنماء عثمان بادینی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بلوچ کل بھی پسماندہ تھا آج بھی پسماندہ ہے،اسمبلیوں میں بلوچوں کی بات نہیں ہوتی ہے،75سال سے بلوچستان کے مسئلے حل نہیں ہوئے،بلوچستان کے معاملے پر سیاست نہ کریں ،مسلم لیگ ن کے رہنماء شیخ آفتاب نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے معاملے پر اے پی سی بلائی جائے جس طرح نواز شریف نے بلائی اور دہشت گردی کا مقابلہ کیا ،بچوں کے مستقبل کی طرف دیکھنا ہوگا وہ روزگار کماسکیں تو ہی ملک کے حالات ٹھیک ہوں گے ،معاشی ترقی کے بغیر ملک ترقی نہیں کرسکتا ہے

،سیاسی جماعتیں آپس میں لڑنے کے بجائے یہ وقت ملکی مفاد کے لیے استعمال کریں یہ ملک ہمارا ہے اس کا مستقبل ہمارا ہے ،پیپلز پارٹی کی رہنماء سحر کامران نے کہا کہ صدر مملکت نے اپنے خطاب جمہوری نظام کے تسلسل کی بات کی ہے صدر نے اپنے حالیہ دورہ چین کا بھی ذکر کیا اتفاق رائے کے ساتھ نیشنل ایکشن پلان پر عمل کرنا ہو گاجب صدر اہم باتیں کر رہے تھے تو دوسری طرف شور شرابہ تھاصدر مملکت نے پارلیمان اور حکومت کی رہنمائی کی۔ رکن اسمبلی زرتاج گل وزیر نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ میرا خیال تو یہ تھا وزراء آئیں گے قوم کو اکٹھا کریں گے،ٹارگٹ کرکے علماء کو شہید کیا جارہا ہے دہشت گردی اتنے طاقتور کیوں ہوگئے کہ انہوں نے ریاست کی رٹ کو چیلنج کردیا ہے وزیر دفاع کو اس بات کی پڑی ہوئی تھی کہ کس طریقے سے الزام پی ٹی آئی پر لگایا جائے جو ریحانہ ڈار سے الیکشن ہار چکا ہو اس کو نہ وزیر بننے کا حق ہے نہ خواتین کے بارے میں بات کرنے کا حق ہے سارا الزام انہوں نے پی ٹی آئی پر لگایا انہوں نے کہا کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیاء ہوتی ہے

،آپ ریحانہ ڈار سے ہارے، وزیر دفاع بنے کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیاء ہوتی ہے لیکن تمہیں کیا پتہ وہ کیا ہوتی ہے تین سالوں میں 35 لاکھ پاکستانی ملک سے باہر چلے گئے،لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال خراب ہوگی تو سرمایہ کاری کیسے آئے گی وزیر داخلہ محسن نقوی ہیں ایک پرویز خٹک اور ایک منسٹر طلال چوہدری ہیں شہباز شریف منسٹر ایسے بناتے ہیں جیسے ریوڑیاں بانٹ رہے ہوں ان کی پرفامنس زیرو بٹا زیرو ہے ،کوئی جواب دینے کو تیار نہیں ہے یہ منہ کھول کے پی ٹی آئی پر الزام لگا دیتے ہیں۔

Comments are closed.