فیک نیوز واچ ڈاگ نے بی ایل اے اور بھارتی میڈیا کا گٹھ جوڑ بے نقاب کر دیا

اسلام آباد(آن لائن)فیک نیوز واچ ڈاگ نے بی ایل اے اور بھارتی میڈیا کا گٹھ جوڑ بے نقاب کر دیا‘22 صفحات پر مشتمل تحقیقاتی رپورٹ جاری کر دی جس میں بڑے بڑے انکشافات کئے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا مہم میں بھارتی میڈیا، بی ایل اے اور ایک پاکستانی سیاسی جماعت کے کارکنان سرگرم رہے، پرانے واقعات اور اے آئی کی مدد سے بنائی گئے مواد کو جعفر ایکسپریس حملے سے منسوب کیا گیا، بھارتی اکاؤنٹس کی جانب سے 4 سال قبل بنی ویڈیو کو بار بار شیئر کیا جاتا رہا۔ صحافتی تنظیموں و آرگنائزیشن کو فیک نیوز کے حوالے سے فی الفور اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔سانحہ جعفر ایکسپریس کے دوران جعلی خبروں اور منفی پروپیگنڈے کے تباہ کن اثرات پرفیک نیوز واچ ڈاگ کی جانب سے 22 صفحات پر مشتمل تحقیقاتی رپورٹ جاری کی گئی ہے جس میں فیک نیوز واچ ڈاگ کی جانب سے 11 اور 13 مارچ کے درمیان چلنے والی منفی سوشل میڈیا مہم کا جائزہ لیا گیا ہے ۔فیک نیوز واچ ڈاگ نے بی ایل اے اور بھارتی میڈیا کا گٹھ جوڑ بے نقاب کر دیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سوشل میڈیا مہم میں بھارتی میڈیا، بی ایل اے اور ایک پاکستانی سیاسی جماعت کے کارکنان سرگرم رہے، پرانے واقعات اور اے آئی کی مدد سے بنائی گئے مواد کو جعفر ایکسپریس حملے سے منسوب کیا گیا، بھارتی اکاؤنٹس کی جانب سے 4 سال قبل بنی ویڈیو کو بار بار شئیر کیا جاتا رہا، بھارتی میڈیا چینلز نے جعلی ویڈیوز اور اکاؤنٹس کو بطور بریکنگ نیوز نشر کیا۔رپورٹ کے مطابق افغان مہاجرین کی ویڈیو کو مغوی مسافروں کی ویڈیو کے طور پر وائرل کیا گیا، افغانستان سے چلنے والے اکاؤنٹس سے اے آئی سے بنی جعلی تصاویر شئیر کی گئیں، پاکستانی سیاسی جماعت کے سرگرم کارکن کی جانب سے ٹرین ڈرائیور کی موت کی جعلی ٹویٹ وائرل ہوئی۔ رپورٹ کے مطابق معروف سیاسی جماعت کے آفیشل اکاؤنٹ سے مغوی خواتین کے بارے میں متنازع پوسٹ زیر بحث رہی۔سیاسی جماعت کو پوسٹ پر صارفین کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا، انڈین میڈیا پر حملہ آور دہشتگردوں کو ہیرو بنا کر پیش کیا جاتا رہا، واچ ڈاگ نے بھارتی میڈیا کے کردار کو شرمناک اور صحافتی اقدار کے منافی قرار دے دیا ۔فیک نیوز واچ ڈاگ نے پاکستانی میڈیا پر نازک صورتحال کی ذمہ دار اور پیشہ ورانہ رپورٹنگ کو سراہا ۔رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارتی مہم کا مقصد پاکستان کو غیر مستحکم کرنا اور علیحدگی پسند بیانیہ مضبوط کرنا تھا، واقعہ کے بعد ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس جعلی خبروں کے تدارک میں معاون ثابت ہوئی۔

ایف آئی اے کی جانب سے مہم میں ملوث تین افراد کے خلاف مقدمات کا اندراج خوش آئند قراردیا گیااور کہا گیا کہ جعفر ایکسپریس حملہ انفارمیشن وار فئیر کی خوفناک مثال ہے۔فیک نیوز واچ ڈاگ نے حکومت پر ڈس انفارمیشن کے خلاف ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنے پر زوردیا اورفیک نیوز واچ ڈاگ نے نوجوانوں کے لیے ڈس انفارمیشن سیمنار کے انعقاد کی سفارش کی۔حکومتی و نجی اداروں میں بھی ڈس انفارمیشن کے حوالے سے ورکشاپس کے انعقاد پر زوردیا گیا اورکہا گیا کہ صحافتی تنظیموں و آرگنائزیشن کو فیک نیوز کے حوالے سے فی الفور اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

Comments are closed.