قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں اپوزیشن کی عدم شرکت کو افسوسناک اور غیر سنجیدہ طرز عمل قرار

جو ملک، قوم، افواج پاکستان، شہیدوں و غازیوں کے ساتھ نہیں وہ دھشتگردوں کا ساتھی اور انکا اتحادی ہے‘وزیراعظم
گزشتہ دو دہائیوں کے دوران دہشتگردی کی جنگ میں پاکستان کی معیشت کو 150 ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہوا
قربانیوں کی بدولت پاکستان کا امن بحال ہوا، معیشت سنبھلی اور ملک کی رونقیں بحال ہوئیں‘دہشتگردوں کا اصل نشانہ عوام کا اتحاد ہے
فوج اور عوام ایک ہیں، نہ ان کے مابین دراڑ ڈالنے کی سازش پہلے کامیاب ہوئی نہ آئندہ ہوگی‘ پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں گفتگو

اسلام آباد (آن لائن)وزیراعظم محمد شہباز شریف نے قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں اپوزیشن کی عدم شرکت کو افسوسناک اور غیر سنجیدہ طرز عمل قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ان قومی ذمہ داریوں سے منہ موڑنے کے مترادف ہے جو قوم کی مقدس امانت ہیں، دہشت گردی کے خلاف سب کو متحدہ ہو کر آگے بڑھنا ہے،گزشتہ دو دہائیوں کے دوران دہشتگردی کی جنگ میں پاکستان کی معیشت کو 150 ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہوا‘قربانیوں کی بدولت پاکستان کا امن بحال ہوا، معیشت سنبھلی اور ملک کی رونقیں بحال ہوئیں‘دہشتگردوں کا اصل نشانہ عوام کا اتحاد ہے،فوج اور عوام ایک ہیں، نہ ان کے مابین دراڑ ڈالنے کی سازش پہلے کامیاب ہوئی نہ آئندہ ہوگی‘جو ملک، قوم، افواج پاکستان، شہیدوں و غازیوں کے ساتھ نہیں وہ دھشتگردوں کا ساتھی اور انکا اتحادی ہے۔ذرائع کے مطابق وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں گفتگوکرتے ہوئے قومی نوعیت کے اہم اجلاس میں حزب اختلاف کی عدم شرکت کو افسوسناک قرار دیا، وزیراعظم نے حزب اختلاف کی غیر موجودگی کو غیر سنجیدہ طرز عمل قرار دیااور کہا کہ حزب اختلاف کی اجلاس میں عدم شرکت قومی ذمہ داریوں سے منہ موڑنے کے مترادف ہے جو قوم کی مقدس امانت ہیں، دھشت گردی کے خلاف سب کو متحدہ ہو کر آگے بڑھنا ہے، ملک کی حفاظت کی خاطر اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے والے فوجی جوانوں اور انکے اہل خانہ ہماری طرف دیکھ رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق ، وزیراعظم نے کہا کہ وزیراعظم نے بے نظیر بھٹو، بلور خاندان اور مفتی نعیمی سمیت سینکڑوں اہم شخصیات کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں لازوال قربانیوں کا ذکر کیا، دسمبر 2014 میں سانحہ آرمی پبلک اسکول کے بعد میرے قائد میاں محمد نواز شریف نے پوری قوم کو متحد کیا۔ پوری قوم نے مل کر دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا، افواجِ پاکستان، قانون نافذ کرنے والے ادارے، سیکیورٹی ایجنسیز، سیاستدان، پاکستانی شہریوں نے لازوال قربانیوں کی داستان رقم کی۔ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران دھشتگردی کی جنگ میں پاکستان کی معیشت کو 150 ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہوا۔۔ذرائع کے مطابق ، وزیراعظم نے کہا کہ قربانیوں کی بدولت پاکستان کا امن بحال ہوا، معیشت سنبھلی اور ملک کی رونقیں بحال ہوئیں، 2018 میں قائم ہونے والی نا اہل حکومت نے دھشتگردی کے خلاف جنگ سے حاصل ہونے والے ثمرات کو ضائع کر دیا اور نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد روک دیا۔ذرائع کے مطابق ، وزیراعظم نے کہا کہ پوری قوم جو آج خمیازہ بھگت رہی ہے وہ اس پالیسی کا نتیجہ ہے، پاکستان آج فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے،دھشتگردی کو ایک مرتبہ پھر سے جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کیلئے ہم سب کو آہنی عزم کا کا اعادہ کرنا ہوگا، دہشت گردوں کا اصل نشانہ عوام کا اتحاد ہے۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ حال ہی میں جعفر ایکسپریس پر دھشتگرد حملے کا افسوسناک واقعہ پیش آیا، فوجی جوانوں و افسران نے پیشہ ورانہ مہارت سے سینکڑوں جانیں بچائیں۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے افواج پاکستان کی قیادت بالخصوص آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر اور تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کو خراج تحسین پیش کیااور کہا کہ افواج پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک دشمن عناصر کے ناپاک عزائم کو ناکام بنا رہے ہیں

۔آج کی فیصلہ کن گھڑی یہ تقاضہ کرتی ہے کہ ہم سوال کریں، کہ کون کس کے ساتھ کھڑا ہے،آج اس ملک کے 25 کروڑ عوام پاکستان اور اسکی سلامتی کے محافظوں، افواج پاکستان و قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ کھڑے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ جو ملک، قوم، افواج پاکستان، شہیدوں و غازیوں کے ساتھ نہیں وہ دھشتگردوں کا ساتھی اور انکا اتحادی ہے۔سوشل میڈیا پر نفرت انگیز پراپیگینڈے کے ذریعے فوج اور عوام کے مابین دراڑ ڈالنے کی مذموم کوشش کی جارہی ہے‘فوج اور عوام ایک ہیں، نہ انکے مابین دراڑ ڈالنے کی سازش پہلے کامیاب ہوئی نہ آئندہ ہوگی۔وزیراعظم نے کہا کہ ایسے شر پسند عناصر کی مزموم کوششیں کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے، پاکستان کا حصول ہمارے اسلاف کی لاکھوں قربانیوں کے بعد ممکن ہوا،ہم انکی قربانیوں کو کبھی رائیگان نہیں جانے دیں گے،پاکستان ہے، تو ہم سب ہیں، ہماریسیاستہے۔

Comments are closed.